غیر مجاز قبضہ جات کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم کے تحت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا عزم : وزیر مال

شہر کے ارکان اسمبلی کے استفسار پر ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی کا جواب ، 150 گز کی اراضی پر 25 گز کی رقم کی وصولی

شہر کے ارکان اسمبلی کے استفسار پر ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی کا جواب ، 150 گز کی اراضی پر 25 گز کی رقم کی وصولی
حیدرآباد۔/13مارچ، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر مال محمد محمود علی نے آج تلنگانہ اسمبلی کو تیقن دیا کہ غیر مجاز قبضوں کو باقاعدہ بنانے سے متعلق اسکیم کے تحت اوقافی جائیدادوں کا کسی بہر صورت تحفظ کیا جائے گا اور اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضوں کو حکومت باقاعدہ نہیں بنائے گی۔ وقفہ سوالات کے دوران شہر کے ارکان اسمبلی کی جانب سے یہ مسئلہ اٹھایا گیا تھا۔ وزیر مال نے کہا کہ اوقافی اراضیات ہوں یا پھر انڈومنٹ اراضیات اُن کی مکمل جانچ کے بعد ہی اس طرح کی درخواستوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حیدرآباد اور رنگاریڈی میں سرکاری اور دیگر اراضیات پر ناجائز قبضوں کو روکنے کیلئے قانون سازی کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ غیر مجاز قبضوں کو باقاعدہ بنانے سے قبل حکومت شہر کے ارکان اسمبلی کے ساتھ اجلاس منعقد کرے گی۔ کانگریس کے جیون ریڈی اور دوسروں نے وقفہ سوالات میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس اسکیم کے تحت غریبوں پر بوجھ عائد کرنے سے گریز کیا جائے۔ موجودہ مارکٹ ویلیو کی بنیاد پر فیس کی ادائیگی کی شرط غریب خاندانوں پر بوجھ کی طرح ہے اور غریبوں کیلئے اس قدر بھاری رقم کی ادائیگی ممکن نہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ شہر اور رنگاریڈی میں اراضیات سے متعلق کئی تنازعات ہیں جس کے سبب سرمایہ کار اپنے اداروں کے قیام کے سلسلہ میں اراضی کی خریدی سے گریز کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناجائز قبضوں کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم کی تکمیل کے بعد حکومت ناجائز قبضوں کی روک تھام کیلئے قانون سازی کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ مزید ناجائز قبضوں کو روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ 125گز سے کم اراضی پر ناجائز قبضوں کو باقاعدہ بنانے سے متعلق اسکیم کیلئے ابھی تک 3.36لاکھ درخواستیں داخل کی گئی ہیں جس کے تحت 5969 ایکر اراضی ہے جبکہ 125گز سے زائد سے متعلق اسکیم کیلئے29281 درخواستیں داخل کی گئیں جو 701ایکر اراضی سے متعلق ہیں۔ 10فیصد اراضی کی مالیت کے اعتبار سے درخواست گذاروں کی جانب سے 133کروڑ روپئے جمع کئے گئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر کسی کے قبضہ میں 150گز ہو تو اس سے صرف 25 گز کی قیمت وصول کی جائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت کھلی اراضیات کو باقاعدہ نہیں بنائے گی بلکہ صرف تعمیرات کو ہی باقاعدہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں زیر دوران تنازعہ سے متعلق اراضیات کو بھی باقاعدہ نہیں بنایا جائے گا۔ اس اسکیم کے آغاز کا مقصد غریبوں کو سہولت فراہم کرنا ہے اور اس کے بیجا استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ درخواستوں کی جانچ کیلئے 90دن کا وقت دیا گیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے مطابق 125گز سے زائد اراضیات سے متعلق حیدرآباد میں 942 درخواستیں داخل کی گئیں۔ کانگریس کے رکن جیون ریڈی نے کہا کہ اس اسکیم کے ذریعہ غیر قانونی قبضوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ انہوں نے اس اسکیم پر نظرثانی اور غریبوں کو فائدہ تک محدود کرنے کی تجویز پیش کی۔ کانگریس کے ہی ایک اور رکن ٹی اجئے نے اس اسکیم کو ناکام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں سے موجودہ اراضی کی مالیت وصول کرنا ناانصافی ہے اور موجودہ زائد قیمت کے اعتبار سے غریب خاندان رقم ادا نہیں کرسکتے۔ بی جے پی کے رکن این وی ایس ایس پربھاکر نے کہا کہ اوپل میں کئی افراد نے اربن لینڈ سیلنگ کی اراضی خریدی ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ ان کی درخواستوں پر بھی غور کرے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ناجائز قبضوں کی بحالی سے متعلق حکومت کے جاری کردہ جی اوز 58اور59 کے بارے میں ارکان کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT