Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / غیر مسلم عہدیدار اور مشیر مسلمانوں کے لیے بہتر

غیر مسلم عہدیدار اور مشیر مسلمانوں کے لیے بہتر

مسلم عہدیداروں کو بہتر سمجھنا خام خیالی ، غیر مسلم عہدیداروں سے اقلیتوں کے مسائل کی یکسوئی کے تاریخی کارنامے

حیدرآباد۔8 ستمبر (سیاست نیوز) کیا اقلیتوں کی بہبود اور ترقی کے لیے مسلم عہدیداروں کا تقرر لازمی ہے؟ اکثر دیکھا گیا ہے کہ حکومتوں کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود کے لیے کسی مسلم عہدیدار کی تلاش کی جاتی ہے۔ حکومت کا احساس ہے کہ ایک مسلمان عہدیدار اقلیتوں کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ خام خیالی سے کم نہیں۔ ریاست کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلم عہدیداروں سے زیادہ غیر مسلم عہدیداروں نے اقلیتوں کے مسائل کی یکسوئی میں دلچسپی لی۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے قیام کے بعد سے جب جب محکمہ کے سربراہ کی حیثیت سے غیر مسلم عہدیدار کا تقرر کیا گیا ان میں بیشتر عہدیداروں نے اپنی کارکردگی کے ذریعہ اقلیتوں کے دل میں جگہ بنالی۔ برخلاف اس کے مسلم عہدیداروں نے ہمیشہ مصلحت پسندی کو اپنا شعار بنایا اور حکومتوں سے کھل کر نمائندگی کرنے سے گریز کیا۔ انہیں ہمیشہ یہ اندیشہ لاحق رہا کہ اگر وہ مسلمانوں کے لیے شدت سے آواز اٹھائیں گے تو ان کا شمار کٹر پسند عہدیداروں میں شامل کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم عہدیداروں سے زیادہ غیر مسلم عہدیداروں کے دور میں محکمہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر بہتر انداز سے عمل آوری ہوئی ہے۔ بجٹ کے خرچ کے سلسلہ میں بھی غیر مسلم عہدیداروں کا اہم رول رہا ہے۔ اقلیتوں کی بھلائی خاص طور پر تعلیمی اور معاشی ترقی کے لیے بعض عہدیداروں نے نہ صرف حکومت کو نئی اسکیمات پیش کیں بلکہ ان کی منظوری حاصل کرنے تک چین سے نہیں بیٹھے۔ متحدہ آندھراپردیش اور علیحدہ تلنگانہ میں جن عہدیداروں نے پرنسپل سکریٹری اور سکریٹری اقلیتی بہبود کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ان میں چھایا رتن، لنگاراج پانی گرہی، ریمنڈ پیٹر، رانی کمودنی، دیبابرتا کنٹھا، داناکشور، جی ڈی ارونا، محمد علی رفعت اور احمد ندیم کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان میں بعض عہدیداروں کو محکمہ اقلیتی بہبود کی اضافی ذمہ داری دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود ان عہدیداروں نے اقلیتوں کے مسائل کی یکسوئی کے لیے نمایاں رول ادا کیا۔ اقلیتی بہبود نے خدمات انجام دینے والے عہدیداروں میں چھایارتن، ریمنڈ پیٹر اور داناکشور کے نام اقلیتوں میں کافی مقبول ہوئے ہیں اور یہ ان کے کارناموں کے نتیجہ میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ داناکشور نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے مالیاتی اسکام کو بے نقاب کیا تھا اس کے علاوہ انہوں نے اردو اور عربی مدارس کو عصری تعلیم سے جوڑنے کے لیے منفرد اسکیم تیار کی تھی۔ نئی اسکیمات کے آغاز کے سلسلہ میں داناکشور کے خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ بجٹ کے مکمل خرچ کو یقینی بنانے کے لیے وہ وقفہ وقفہ سے محکمہ جاتی جائزہ اجلاس منعقد کرتے اور فینانس کے اعلی عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے بجٹ کی اجرائی کو یقینی بناتے۔ داناکشور نے انٹرمیڈیٹ اردو میڈیم کی نصابی کتب کی اشاعت کا کام تلگو اکیڈیمی سے حاصل کرتے ہوئے اسے اردو اکیڈیمی کے حوالے کیا۔ ریمنڈ پیٹر بھی ایک سینئر موسٹ آئی اے ایس آفیسر تھے اور انہوں نے اضافی ذمہ داری کے طور پر پرنسپل سکریٹری کی حیثیت سے اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اسکالرشپ کو آن لائین کرنے اور اسے سنٹر فار گوڈ گورننس سے مربوط کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ اس طرح اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی اسکیم میں شفافیت پیدا ہوئی جبکہ اس سے قبل یہ مینول سسٹم کے تحت تھے جس میں کئی بے قاعدگیاں کی جارہی تھیں۔ ریمنڈ پیٹر نے اقلیتی طلبہ کو اسکالرشپ کے حصول کے سلسلہ میں شعور بیداری کے لیے مہم چلائی تھی۔ شریمتی چھایا رتن کے نام سے شاید ہی کوئی ذی شعور مسلمان واقف نہ ہو جنہوں نے اوقافی اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی جیسے مضبوط چیف منسٹر سے ٹکرائو کی پرواہ نہیں کی۔ انہوں نے لینکو ہلز کی اوقافی اراضی کے مسئلہ پر سخت گیر موقف اختیار کیا تھا جس کے نتیجہ میں راتوں رات ان کا تبادلہ کردیا گیا۔ چھایا رتن نے اقلیتی بہبود اور خاص طور پر اوقاف سے متعلق فائیلوں پر جو نوٹ تحریر کیا ہے وہ آج بھی دیگر عہدیداروں کے لیے مثالی ہے۔ انہوں نے اوقافی اراضیات کو تباہی سے بچانے اور اسے وقف بورڈ کی تحویل میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ احمد ندیم کمشنر ایکسائز کے ساتھ سکریٹری اقلیتی بہبود کی حیثیت سے مختصر عرصہ کے لیے انچارج رہے اور اس مدت میں انہوں نے اسکالرشپ، فیس بازادائیگی اور دیگر اسکیمات پر عمل آوری پر توجہ دی۔ انہوں نے بجٹ میں اضافہ کے سلسلہ میں حکومت کو کئی تجاویز روانہ کی تھی۔ احمد ندیم کا شمار اسٹیٹ فارورڈ عہدیداروں میں ہوتا ہے، لہٰذا وہ ماتحت عہدیداروں کے عدم تعاون سے عاجز آچکے تھے۔ اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جونیئر رینک کے عہدیداروں کو سکریٹری اقلیتی بہبود کی ذمہ داری دی جاتی ہے اور وہ مختلف محکمہ جات کے سینئر عہدیداروں پر اثرانداز ہونے میں ناکام ہوتے ہیں۔ خاص طور پر بجٹ کے حصول اور چیف منسٹر کے دفتر سے اسکیمات کی منظوری جیسے معاملات میں مسلم جونیئر عہدیدار پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ان کی نمائندگیوں کا دیگر محکمہ جات پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا اور محکمہ کے ماتحت ملازمین بھی ان کی ہدایات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں سے تلنگانہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی عملاً ٹھپ ہوچکی ہے۔ حکومت ہر سال بجٹ میں اضافہ کررہی ہے لیکن عہدیدار خرچ کرنے سے قاصر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محکمہ اور اس کے اداروں پر حکومت کو سینئر غیر مسلم عہدیداروں کے تقرر پر غور کرنا چاہئے یہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعہ چیف منسٹر کی جانب سے شروع کردہ فلاحی اسکیمات کے فوائد اقلیتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT