Tuesday , August 21 2018
Home / مضامین / غیر ملکیوں کے اطراف گھیرا تنگ

غیر ملکیوں کے اطراف گھیرا تنگ

کے این واصف
سعودی عرب میں کچھ مقامی افراد کا پیشہ حکومت سے ویزے حاصل کرنا اور انہیں مختلف ممالک کے باشندوں میں فروخت کرنا ہے ۔ کاغذی کمپنیاں چلانے والے یہ لوگ جگاڑ لگا کر ویزے حاصل کرتے ہیں اور انہیں مختلف ایشیائی ممالک میں کام کرنے والے ایجنٹوں کے ہاتھ فروخت کردیتے ہیں۔ ان کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ وہ یہاں بندوں کے پہنچنے کے بعد اپنی کمپنی کے نام پر ان کا اقامہ (work permit) بنوا دیتے ہیں۔ مگر چونکہ ان کی اپنی کمپنی میں دینے کیلئے کوئی کام نہیں ہوتا، اس لئے وہ اپنے مکفول کو کسی اور جگہ ملازمت حاصل کرنے کیلئے آزاد چھوڑ دیتے ہیں ۔ اسی وجہ سے یہ ’’آزاد ویزا‘‘ کی اصطلاح وجود میں آئی ، ورنہ سعودی عرب میں آزاد ویزا نام کی کوئی چیز نہیں ہے لیکن اس کے بارے میں ہر کس و ناکس کو علم ہے۔ یہاں آزاد ویزا کے بارے میں لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اب یہاں حالات بدل گئے ہیں۔ پہلے لوگ بے خوف و خطر آزاد ویزے خریدتے تھے ۔ جن میں نہ صرف غیر فنی ، نیم فنی یا دفتری کام وغیرہ کرنے والے شامل تھے بلکہ پروفیشنل ڈگریز رکھنے والے بھی آزاد ویزا بڑی قیمتوں پر حاصل کر کے یہاں آتے تھے اور ملازمت حاصل کرنے بعد اپنے پیشہ (profession) تبدیل کرواتے تھے لیکن چند روز قبل وزارت محنت و سماجی فروغ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ وزیر محنت نے سعودی عرب میں مختلف پیشوں پر موجود غیر ملکی کارکنان کو انجنیئر کا شعبہ اختیار کرنے سے روک دیا ۔ آئندہ ایسا کوئی بھی غیر ملکی انجنیئر جس کے اقامے میں اس کا حقیقی پیشہ درج نہیں ہوگا وہ اسے انجنیئر کے شعبہ میں تبدیل کرانا چا ہے گا تو اسے اس کی اجازت نہیں ہوگی ۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیشوں میں تبدیلی پر پابندی کی شروعات ہے ۔ مستقبل میں غیر ملکی کارکنان کو پیشے تبدیل کرنے سے روک دیا جائے گا ۔ وزارت کے ترجمان نے ٹوئیٹر کے اپنے اکاؤنٹ پر بقالوں (Grocery Stores) کی سعودائزیشن کی بابت سوالات کے جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ سعودائزیشن کا دائرہ بقالوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر وہ شعبہ جس میں سعودی معقول تعداد میں ہوں گے اسے غیر ملکیوں کیلئے بند کردیا جائے گا ۔ لہذا سعودی عرب میں ملازمت کے متلاشی آزاد ویزا حاصل کرنے سے قبل سو بار سوچیں۔ دراصل اب وزارت محنت کی پالیسی ہے کہ کس طرح غیر ملکی باشندوں کی تعداد کو یہاں کم سے کم کیا جائے۔ یہاں کے مقامی باشندوں کے ذہنوں میں یہ بات گھر کرگئی ہے کہ یہاں آباد غیر ملکیوں کی وجہ سے مقامی افراد میں بیروزگاری ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ غیر ملکی کس کے ملازم ہیں۔ انہیں کون روزگار فراہم کئے ہوئے ہے ۔ غیر ملکیوں کو مسلسل ویزے کون مہیا کرتا ہے۔ کیوں یہ غیر ملکی سعود آجرین کی پہلی ترجیح بنے ہوئے ہیں۔ کیا یہ غیر ملکی ویزا حاصل کر کے قانونی حیثیت میں یہاں نہیں آتے ؟ ان سوالوں پر مقامی افراد کو غور کرنا چاہئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں بیروزگاری کا سبب غیر ملکی باشندے ہیں۔ ابھی حال میں ایک رپورٹ ہماری نظر سے گزری جس میں سوشیل انشورنس کارپوریشن نے اعداد و شمار جاری کر کے واضح کیا تھا کہ سعودی عرب کے نجی اداروں میں 474 ہزار ملازم دس ہزار ریال سے زیادہ تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ ان میں 54 فیصد غیر ملکی ہیں۔ اب یہاں بھی غور طلب بات یہ ہے کہ اگر غیر ملکی دس ہزار سے زیادہ تنخواہ پارہے ہیں تو ظاہر ہے وہ اپنی قابلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر یہ تنخواہ پارہے ہیں۔ یہ دور سخت مسابقت کا دور ہے ۔ نجی کمپنیوں میں بندہ صرف اپنی قابلیت کام میں مہارت اور سخت محنت کر کے ہی اپنا مقام حاصل کرسکتا ہے ۔ اسی کے عوض وہ بڑا محنتانہ پاتا ہے۔
پچھلے دنوں حکومت کی جانب سے دی گئی مہلت کی مدت میں 6 لاکھ غیر ملکی مملکت چھوڑ کر چلے گئے ۔ اس کے علاوہ مہلت کی مدت ختم ہونے کے بعد ایک لاکھ 90 ہزار غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی گرفتار کئے گئے لیکن اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی مملکت سے چلے جانے کے بعد کیا ان غیر ملکیوں کی جگہ مقا می باشندوں سے پر ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اول مملکت چھوڑ کے جانے والے غیر ملکیوں میں اکثریت غیر فنی مزدوروں کی تھی ۔ مقامی لوگ ان کی جگہ نہیں لے سکتے۔ دوسرے یہ کہ جو لوگ مہلت کی مدت میں گئے تھے ان میں سے بہت سارے نئے ویزا پر یہاں واپس آرہے ہیں اور تیسرے یہ کہ نئے لوگوں کے آنے کا سلسلہ حسب معمول جاری ہے کیونکہ ویزے دستیاب ہیں اور ظاہر ہے ویزے بھی ضرورت کے اعتبار سے ہی جاری کئے جارہے ہوں گے لیکن آنے والوں کی تعداد سے ز یادہ فیملی ٹیکس کا بوجھ برداشت نہ کرسکنے والے تارکین وطن جنہوں نے اپنے اہل و عیال کو واپس بھیج دیا یا واپس بھیجنے کا ذہن بنالیا ، وہ ایک بڑی تعداد ہے اور اس بڑی تعداد کے مملکت سے چلے جانے کا اثر زندگی کے ہر شعبہ پر پڑے گا ۔ اس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ تعلیم اور صحت (یعنی خانگی اسکولس اور خانگی (اسپتال) ہے۔ مملکت میں کام کرنے والے خانگی اسکولس جن کا ایک بہت بڑا جال ہے اوریہ سارے خانگی ا سکولس کا انتظامیہ بھی غیر ملکیوں کے ہاتھ میں ہے ۔ واضح رہے کہ یہاں سرکاری اسکولس مملکت کی ضرورت کے مطابق ہیں لیکن ان اسکولس میں صرف سعودی بچوں کو داخلہ دیا جاتا ہے یا پھر اگر گنجائش ہو تو کچھ غیر ملکی بچوں کو جن کا تعلق عرب ممالک سے ہو، انہیں داخلہ ملتا ہے۔ بالفرض محال اگر یہاں سرکاری مدارس میں غیر ملکی بچوںکیلئے داخلے کھول بھی دیئے جا ئیں تو بھی تمام غیر ملکی اپنے بچوں کو داخل نہیں کرائیں گے کیونکہ سرکاری مدارس صرف عربی میڈیم کے ہوتے ہیں ۔ اب ہندوستانی ، پا کستانی ، بنگلہ دیشی ، فلپینی ، انڈونیشی وغیرہ جن کی بہت بڑی تعداد یہاں آباد ہے ، ان کے بچے ظاہر ہے عربی میڈیم اسکول میں تعلیم دلانے کو ترجیح نہیں دیں گے کیونکہ کچھ عرصہ بعد ان بچوں کو اپنے وطن لوٹنا ہے ۔ مہنگا ہونے کے باوجود لوگ اپنے بچوں کو انگلش میڈیم خانگی اسکولس ہی میں داخل کروائیں گے ۔ یہ بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے لیکن پچھلے چند برسوں میں یہاں کی جو اقتصادی حالت بگڑی تب سے غیر ملکیوں کیلئے اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھانا مشکل ہوگیا ہے۔ نتیجتاً لوگ اپنے بچوں کو وطن واپس بھیجنے لگے ، جس کا اثر خانگی ا سکولس پر پڑا ۔ بہرحال یہ فیملی ٹیکس غیر ملکیوں کیلئے ایک کاری ضرب ہے ۔ اب تک کسی طرح لوگ اپنی آمدنی اور اخراجات کا میزان سمجھائے ہوئے تھے لیکن یہ فیملی ٹیکس ، VAT ، بجلی کے نرخوں میں اضافہ و غیرہ وغیرہ ، غیر ملکیوں کیلئے ناقابل برداشت ہے ۔ اب غیر ملکیوں کے پاس ایک راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو وطن واپس بھیج دیں ۔ اگر مجبوری میں غیر ملکی اپنے اہل و عیال کو وطن واپس بھیج دیں تو خانگی اسکولس کیلئے بہت بڑا دھکا ہوگا کیونکہ اسکول کی تعداد اچانک گھٹ جائے تو اسکول کا چلنا مشکل ہوجائے گا ۔ خانگی اسکولس کی مد میں جو سب سے بڑا خرچ ہے وہ بلڈنگ کا کرایہ ہے ۔ دوسرے یہ ہر اسکول 25 فیصد سعودی ا سٹاف ضروری ہے اور انتظامیہ کو ہدایت ہے کہ ہر سعودی ٹیچر کی تنخواہ 5 ہز ار ریال سے کم نہ ہو۔ پہلے تو یوں ہوتا تھا کہ یہ پانچ ہزار تنخواہ کا آدھا حصہ اسکول میں انتظامیہ ادا کرتا تھا جبکہ باقی آدھا حکومت کی جانب سے ادا ہوتا تھا لیکن کچھ عرصہ قبل جاری سرکاری اعلان کے مطابق وزارت تعلیم نے نجی اور انٹرنیشنل ا سکولوں پر پابندی عائد کی ہے کہ وہ سعودی اساتذہ کو کم از کم 5600 ریال ماہانہ تنخواہ دیں۔ وزیر تعلیم نے تحریری ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران فروغ افرادی قوت فنڈ نجی اسکولوں میں سعودی اساتذہ کی تنخواہوں کا ایک حصہ ادا کر رہا تھا ۔ اب اس کی مقررہ مدت ختم ہوگئی ہے۔ یعنی اب یہ بوجھ بھی خانگی اسکولس پر آ پڑا ہے ۔ وزارت کی جانب سے ہدایت ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ نجی و غیر ملکی اسکول اب سبسیڈی والے اساتذہ کو برطرف نہیں کریں گے ۔ شاہی فرمان کے مطابق سعودی اساتذہ کی تنخواہ پانچ ہزار ریال اور ٹرانسپورٹ الاؤنس 600 ریال مقرر ہے۔ ایک طرف فیس کی وصولی میں کمی دوسری طرف اخراجات میں اضافہ تو انتظامیہ اس بڑے فرق کی بھر پائی کس طرح اور کہاں سے پورا کرے۔ پھراسکول کوئی کرانہ کی دکان نہیں جسے نقصان کے پیش نظر جب چاہے بند کریں۔ ہر اسکول کے ساتھ سینکڑوں بچوں کا مستقبل جڑا ہوتا ہے ۔ طلباء کسی معقول وجہ کے تحت اچانک اسکول چھوڑ سکتے ہیں لیکن اسکول اچانک بند نہیں کیا جاسکتا۔
بہرحال غیر ملکی باشندوں میں جو فیملی کے ساتھ یہاں رہتے ہیں ، ان میں ایک ہنگامی صورتحال ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ حکومت نے یہ فیملی ٹیکس اچانک ان پر عائد کیا ہے ۔ یہ فیس کا اعلان ایک سال قبل ہی کردیا گیا تھا مگر سوال یہ ہے کہ عوام یہ پیسہ لائے کہاں سے ۔ تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہے اور اکثر کمپنیوں میں کئی کئی ماہ سے تنخواہ کی ادائیگی پا بندی سے نہیں ہورہی ہے۔ بہرحال اب یہاں کام کرنے والے غیر ملکیوں کے اطراف گھیرا تنگ ہونے کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اب یہ سلسلہ ہمیں یہاں سے نکال کر ہی ختم ہوگا۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT