Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / غیر منظورہ لے آؤٹس کے پلاٹس کا رجسٹریشن نہیں

غیر منظورہ لے آؤٹس کے پلاٹس کا رجسٹریشن نہیں

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے وزراء کی سب کمیٹی کا خصوصی تبادلہ خیال،8 گھنٹے طویل اجلاس

حیدرآباد۔/10جنوری، ( سیاست نیوز) پنچایت راج کے نئے قانون پر تیسرے دن وزراء کی سب کمیٹی کا 8 گھنٹے طویل اجلاس منعقد ہوا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ غیر منظورہ لے آؤٹس کے پلاٹس کا رجسٹریشن نہیں کیا جائیگا۔ عمارتوں کی تعمیرات کی منظوری کیلئے منڈل سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ صنعتوں کے قیام کیلئے مستقبل میں گرام پنچایتوں کی منظوری ضروری نہیں ہوگی۔ سرپنچوں اور وارڈس ممبرس کو سیٹنگ فیس ادا کی جائے گی۔ این آر آئیز کا بھی گرام پنچایتوں پر بحیثیت کوآپشن ممبر تقرر کیا جائے گا۔ وزیر پنچایت راج جے کرشنا راؤ کی صدارت میں تشکیل دی گئی کابینی سب کمیٹی کے اجلاس میں مختلف امور کا اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔ غیر منظورہ لے آؤٹس پر پلاٹس کا رجسٹریشن کرنے کی اجازت نہ دینے پر غور و خوض کیا گیا۔ اس اجلاس میں وزراء ٹی ناگیشور راؤ، پوچارام سرینواس ریڈی، ایٹالہ راجندر اور جگدیش ریڈی بھی بھی موجود تھے۔ غیر منظورہ لے آؤٹس میں پلاٹس کے رجسٹریشن کی اجازت نہ دینے کا جائزہ لینے کیلئے وزیر مال و ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمود علی سے وزراء کی سب کمیٹی نے خصوصی تبادلہ خیال کیا۔سب کمیٹی کے ارکان نے بتایا کہ غیر منظورہ لے آؤٹس کے پلاٹس کے رجسٹریشن سے مسائل اور تنازعات پیدا ہورہے ہیں۔ منظورہ لے آؤٹس کے پلاٹس کا ہی رجسٹریشن کرانے کی اجازت دینے سے اتفاق کیا گیا۔ ضلع پرجا پریشد اور منڈل پرجا پریشد کے طرز پر گرام پنچایتوں کے اجلاس میں شرکت کرنے والے سرپنچوں اور وارڈ کمیٹی کے ارکان کو بھی سیٹنگ فیس دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ کسی خاص وجہ کے علاوہ مسلسل تین اجلاسوں میں غیر حاضر رہنے والے ارکان کو نااہل قرار دینے پر بھی غور کیا گیا۔ گرام پنچایتوں میں کوآپشن ارکان کی نامزدگی کا جائزہ لینے والی سب کمیٹی نے این آر آئی اور گاؤں میںنہ رہنے والوں کو بھی بحیثیت کوآپشن ممبر نامزد کرنے پر غور کیا۔ پنچایت کی آبادی کے تناسب سے دو یا تین کوآپشن ممبرس کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ جس میں گاؤں کا ایک این آر آئی، گاؤں کی مہیلاسمکھیا کی صدر اور کسی ماہر کو بھی موقع فراہم کیا جاسکتا ہے تاکہ گاؤں کی ترقی میں ان کا بھرپور تعاون حاصل ہوسکے۔ اندرون 200 گز اراضی پر G+2 مکانات تعمیر کرنے کی اجازت گرام پنچایت دے گی۔ اس سے زیادہ وسیع رقبہ کی اراضیات پر مکانات تعمیر کرنے کی اجازت دینے کیلئے ایم پی ڈی او، تحصیلدار، ای او پی آر ڈی، پنچایت راج اے ای کی قیادت میں تشکیل دی جانے والی کمیٹی سے اجازت حاصل کرنے کیلئے لازمی قرار دینے کا بھی سب کمیٹی کے اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔ عمارتوں کی تعمیرات کیلئے ایچ ایم ڈی اے منظوری حاصل ہونے کے بعد اندرون ہفتہ گرام پنچایتوں کو کلیرنس دینا لازمی ہوگا بصورت دیگر اس کو منظوری تصور کرنے کے مسئلہ کا جائزہ لیا گیا۔ صنعتوں کے قیام کیلئے گرام پنچایتوں کی اجازت کو ضروری نہ ہونے کی قانون سازی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ سرپنچس کو مکمل اختیارات دینے کا جائزہ لینے والی سب کمیٹی عوامی حقوق کا بھی احترام کرنے کی قانون سازی کرنے پر غور کررہی ہے۔ بالخصوص ڈمپنگ یارڈ، صاف صفائی کا جائزہ لے رہی ہے۔ جمعرات کو بھی کابینی سب کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT