Tuesday , December 18 2018

غیر یقینی زرعی پالیسی اور قرض معافی کو مشروط بنانے پر اظہار مذمت

ٹی آر ایس حکومت پر انتخابی منشور سے انحراف کا الزام، محمد علی شبیر کا بیان

ٹی آر ایس حکومت پر انتخابی منشور سے انحراف کا الزام، محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد /14 اگست (سیاست نیوز) کانگریس کے ڈپٹی فلور لیڈر تلنگانہ کونسل محمد علی شبیر نے تلنگانہ حکومت کی غیر یقینی زرعی پالیسی اور کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے کے معاملے میں نئی نئی شرائط عائد کرنے کی سخت مذمت کی۔ آج سی ایل پی آفس اسمبلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں کسانوں کے مکمل قرضہ جات معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا، لہذا عوام اور کسانوں نے ٹی آر ایس پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے اقتدار تک پہنچایا، مگر اقتدار کے ڈھائی ماہ مکمل ہونے کے باوجود حکومت تلنگانہ عوام کا اعتماد حاصل کرنے اور انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسان، طلبہ، خواتین اور سماج کے تمام طبقات حکومت کی کار کردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، جب کہ کسانوں سے کئے گئے وعدوں پر عدم عمل آوری کے سبب اب تک 173 کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے کل کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے کے تعلق سے جی او جاری کیا ہے، جس سے کسانوں میں خوشی کم اور مایوسی زیادہ نظر آرہی ہے، کیونکہ جی او کی اجرائی کے بعد کل ضلع عادل آباد کے دو کسانوں نے خود کشی کرلی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمل آوری کے لئے جو رہنمایانہ خطوط تیار کئے گئے ہیں، قرضہ جات کی معافی کے لئے کسانوں کے چپل گِھس جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ قرض معافی کے معاملے میں حکومت ابتداء ہی سے قابل اعتراض رویہ اپنا رہی ہے۔ پہلے سارے قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا گیا، تاہم بعد میں ایک لاکھ قرض معافی کے علاوہ دیگر بہانے بنائے جا رہے ہیں، جس سے کسانوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔ مسٹر محمد علی شبیر نے تلنگانہ میں ایمسٹ کونسلنگ کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ اور ان کے سرپرستوں کی تشویش دور ہو گئی ہے، جب کہ کانگریس پارٹی ابتدا ہی سے دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس سے کونسلنگ کرانے یا سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل آوری کا مطالبہ کر رہی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT