فائدہ نہ ہونے پر نیوکلیر معاہدہ میں بنے رہنا ناممکن:ایران

لندن، 13جون (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی نیوکلیر معاہدے سے تہران کو فائدہ نہیں پہنچ سکتا تو اس کا اس معاہدے میں بنے رہنا ناممکن ہے ۔ وحانی نے منگل کو فرانس کے صدر امانوئل میکرون سے فون پر بات چیت کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے مسٹر میکرون سے اس معاہدے کو بچائے رکھنے کی اپیل کی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ہوئے تاریخی بین الاقوامی نیوکلیر معاہدے سے امریکہ کے الگ ہونے کا اعلان کرنے کے بعد یوروپی ممالک کی جانب سے اس معاہدے کو بچانے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق صدر روحانی نے کہا”اگر ایران کو بین الاقوامی نیوکلیر معاہدے سے فائدہ نہیں ہو سکتا تو اس کا اس معاہدے میں بنے رہنا ناممکن ہے ”۔مسٹر روحانی نے نیوکلیر معاہدے کے معاملے پر یوروپی ممالک کے رویہ خاص طور پر فرانس کی جانب سے اس معاہدے کو بچائے رکھنے کے لئے کی جا رہی کوششوں کو لے کر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔قابل غور ہے کہ سال 2015 میں ایران نے امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے ۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے کے بدلے اپنے نیوکلیر پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT