Saturday , August 18 2018
Home / ہندوستان / فائرنگ میں عام شہری کی ہلاکت کے خلاف کپواڑہ میں ہڑتال

فائرنگ میں عام شہری کی ہلاکت کے خلاف کپواڑہ میں ہڑتال

دوسرے دن بھی عوام میں برہمی ۔ کاروباری و تجارتی اداروں کا بند۔ متوفی کی تدفین
سری نگر، 18 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام ) شمالی کشمیر کے کپواڑہ میں ایک عام شہری کی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف پیر کو دوسرے دن بھی ہڑتال رہی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع میں کسی بھی طرح کی پابندیاں نافذ نہیں ہیں، تاہم امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے بعض مقامات پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رکھی گئی ہے ۔ اس شہری ہلاکت کی وادی کی تمام علیحدگی پسند اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے مذمت کی گئی ہے ۔ کپواڑہ کے ٹھنڈی پورہ کرالپورہ میں 16 اور 17 دسمبر کی درمیانی رات گھات لگائے بیٹھے فوجیوں نے 22 سالہ آصف اقبال بٹ ولد محمد اقبال بٹ پر مبینہ طور پر فائرنگ کرکے اسے ہلاک کردیا تھا ۔ فوج کا کہنا ہے محمد اقبال جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوا۔ ضلع مجسٹریٹ کپواڑہ میں آصف کی ہلاکت کے واقعہ کی مجسٹریل انکوائری کا حکم صادر کیا ہے جبکہ پولیس نے اس حوالے سے ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے ۔ کپواڑہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہری ہلاکت کے خلاف ضلع کے کرالپورہ ودیگر علاقوں میں پیر کو دوسرے دن ہڑتال کی گئی۔ دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر رہی۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام متاثر رہا ۔ آصف کی ہلاکت کے خلاف ضلع کپواڑہ کے متعدد علاقوں میں اتوار کو لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کیا جن کی بعدازاں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں میں ضلع پولیس سربراہ شمیر حسین سمیت قریب دو درجن پولیس اہلکار و احتجاجی زخمی ہوئے ۔ اہلیان کرالپورہ جو فوج کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے تک مہلوک ڈرائیور کو سپرد خاک کرنے سے انکار کررہے تھے ، کو سیول و پولیس کے سینئر عہدیداروں نے گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد تدفین کرنے پر آمادہ کیا۔ جموں وکشمیر پولیس نے کہا کہ واقعہ کے حوالے سے ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے ۔ پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ پولیس اور سیول انتظامیہ سوگوار کنبہ کو ہر ضروری مدد فراہم کریگا۔ انہوں نے کہاٹھنڈی پورہ میں آصف اقبال ولد محمد اقبال گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ زخمی کو سب ضلع اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے سری نگر لے جانے کی صلاح دی۔ تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔ قانونی امور کی تکمیل کے بعد لاش کو تدفین کے لئے ورثاء کے حوالے کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT