Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / فائیو اسٹار انتظامات کے باوجود مقامی جماعت نظر انداز

فائیو اسٹار انتظامات کے باوجود مقامی جماعت نظر انداز

سالانہ رپورٹ میں کانگریس قائدین کا تذکرہ
حیدرآباد ایم پی کا ذکر نہیں، ایک مدعو نے احتجاج کیا، دیگر ارکان خاموش رہے

حیدرآباد۔/10 فبروری، ( سیاست نیوز) آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے سہ روزہ اجلاس کے آج دوسرے دن اجلاس کے فائیو اسٹار انتظامات کرنے والی مقامی سیاسی جماعت کو اس وقت جھٹکہ لگا جب بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں طلاق ثلاثہ بل پر پارلیمنٹ میں کانگریس قائدین کا نام لیکر ستائش کی جبکہ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد اویسی کا تذکرہ تک نہیں کیا گیا۔ آج کے اجلاس میں جب مولانا ولی رحمانی نے اپنی رپورٹ پیش کی تو حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ارکان اور مجلس کے صدر کے بشمول استقبالیہ کے ذمہ دار حیرت میں پڑ گئے کیونکہ سالانہ رپورٹ میں کانگریس پارٹی کا نام لیکر راجیہ سبھا میں اس کے رول کی ستائش کی گئی۔ اتنا ہی نہیں غلام نبی آزاد، آنند شرما ، رحمان خان اور احمد پٹیل کے نام رپورٹ میں شامل کئے گئے۔ اس مرحلہ پر اجلاس کے ایک مدعو ڈاکٹر متین الدین قادری مجاہد نے اُٹھ کر اعتراض جتایا۔ انہوں نے لوک سبھا میں حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ کی طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کو رپورٹ میں شامل نہ کرنے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے این ڈی اے کی حلیف تلگودیشم اور بیجو جنتا دل کے نام رپورٹ میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی کیونکہ ان دونوں پارٹیوں نے حکومت میں شامل رہتے ہوئے بل کی مخالفت کی تھی۔ متین الدین قادری جو تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے رکن بھی ہیں‘ انہوں نے جنرل سکریٹری کی رپورٹ کو نامکمل قرار دیتے ہوئے اس میں لوک سبھا میں مخالفت کرنے والے ارکان بالخصوص رکن پارلیمنٹ حیدرآباد کے نام کو شامل نہ کئے جانے پر ناراضگی جتائی۔ انہوں نے کہا کہ جب کانگریس قائدین کے نام شامل کئے گئے تو پھر حیدرآباد کے ایم پی کا نام شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ اس مرحلہ پر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے کسی بھی عہدیدار، رکن یا مدعو نے ان کی تائید نہیں کی۔ توقع کی جارہی تھی کہ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے افراد ایک آواز میں جنرل سکریٹری رپورٹ پر اعتراض کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا، ہر کوئی خاموش تماشائی بنا رہا۔ مولانا ولی رحمانی نے اس اعتراض کو سن کر صرف اتنا کہا کہ توجہ دہانی پر جزاک اللہ۔ انہوں نے رپورٹ میں اضافہ کرتے ہوئے مزید نام شامل کرنے کا کوئی تیقن نہیں دیا۔ واضح رہے کہ سہ روزہ اجلاس کے سلسلہ میں مقامی سیاسی جماعت نے تمام انتظامات کی ذمہ داری لی اور فائیو اسٹار طرز پر انتظامات کئے گئے۔ حیدرآباد کے بعض ذمہ داروں کی یہ کوشش تھی کہ بہتر انتظامات کے عوض میں حیدرآباد ایم پی کو بورڈ کے سکریٹری کی حیثیت سے فائز کرنے کی راہ ہموار کی جائے۔ جناب عبدالرحیم قریشی صدر تعمیر ملت کے انتقال کے بعد حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی شخصیت کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی بورڈ کے سکریٹری ضرور ہیں لیکن ان کا تعلق شمالی ہند سے ہے۔ جنرل سکریٹری کی رپورٹ کے بعد شہر سے تعلق رکھنے والے ارکان کو آپس میں مایوسی کے ساتھ تبصرے کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT