Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / فاتحہ کی شرعی حیثیت:مولاناغوثوی شاہ کا بیان

فاتحہ کی شرعی حیثیت:مولاناغوثوی شاہ کا بیان

حیدرآباد ۔ 21 مئی (راست) مولانا غوثوی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اصطلاحِ شریعت میں ’’ایصالِ ثواب‘‘ کا نام ہی ’’فاتحہ ‘‘ ہے جس کا لفظ سورئہ فاتحہ سے ماخذ ہے حدیث صحیح طبرانی نے اوسط میں سعدابن عبادہ ؓ سے یہ روایت کی ہے حضورؐ نے فرمایا اَلْفاتحۃُ وَلَوْبِکُراع شاۃِ محترق(یعنے میّت کے نام پر) ’’ فاتحہ دو گوجلے ہڈے ہی پر ہو ٗ اِسی طرح بحوالہ حدیث ِ صحیح ابن ابی الدنیا ؓ میں حضورؐ نے فرمایا ‘‘طعامِ موجودہ پر مُردوں کو فاتحہ دو اور اُسی حوالہ کے بموجب حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ ’’حضورؐ نے اپنے روبرو کھانا رکھ کے فاتحہ دی اور اس کا ثواب مُردوں کو پہونچایا اِسی طرح بہ روایت بیہقی ؔ فی شعب الایمان حضورؐ نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ قبر میں مدفون مُردہ انتظار میں رہتا ہے کہ اسکے ماں باپ بھائی بہن یا کسی دوست آشنا کی طرف سے اُسکے حق میں دعائے مغفرت فاتحہ کا تحفہ پہونچے جب کسی کی طرف سے ’’فاتحہ‘‘ کا تحفہ پہونچتا ہے تو وہ اس کو دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب و عزیز ہوتا ہے اور آپؐ نے فرمایا مُردوں کے لئے زندوں کا خاص تحفہ دعائے مغفرت فاتحہ ہے اور حدیث صحیح مسلم کتاب الحدود اور شرح برزخ میں وارد ہے کہ حضورؐ نے اپنے صاحبزادہ حضرت ابراھیم ؓ کی وفات کے تیسرے دن اشیاء موجودہ کھجور دودھ پر فاتحہ پڑھی اور اُسکو تقسیم کروادیا اور حضرت مُلاّ علی قاری ؒ نے اِسی حوالہ سے فرمایا کہ حضور ؐ نے سوکھے کھجوروں اور جَو ْ کی روٹی جو چُوری ہوی تھی سامنے رکھکر سورئہ فاتحہ اور تین قُل ھو اللہ پڑھ کر فاتحہ دی پھر اپنے دستِ مبارک چہرئہ مبارک پر پھیر لیئے پھر حُکم فرمایا کہ ابوذر ؓ اِس کو لوگوں میں تقسیم کرڈالو۔ معلوم ہُوا کہ فاتحہ دینا بدعت نہیں بلکہ سُنّتِ رسولؐ ہے۔ حضرت شاہ عبد العزیز ؒ مُحدث دہلوی اپنی کتاب فتاویٰ عزیزی کے صفحہ 61 پر لکھتے ہیں فاتحہ پڑھنا اور اس کا ثواب ارواح کو پہونچانا فی نفسہ جائز اور دُرست ہے ۔ اِن تمام جوازات و حقائق کے باوجود فاتحہ فعلِ مستحب ہے اگردیں تو فائدہ اورنہ دیں تو کوئی گناہ نہیں اور فاتحہ پڑھنے والے کوروکنابھی گناہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT