Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / فارم ڈی کے فارغین کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا مطالبہ

فارم ڈی کے فارغین کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا مطالبہ

تلنگانہ فارم ڈی ڈاکٹرس اسوسی ایشن اور اے پی اسوسی ایشن فار ڈاکٹرس آف فارمیسی کی پریس کانفرنس

تلنگانہ فارم ڈی ڈاکٹرس اسوسی ایشن اور اے پی اسوسی ایشن فار ڈاکٹرس آف فارمیسی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 12 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ فارم ڈی ڈاکٹرس اسوسی ایشن اور آندھراپردیش اسوسی ایشن فار ڈاکٹرس آف فارمیسی نے مرکزی و ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیاکہ وہ ریاستوں میں واقع تمام سرکاری دواخانوں میں کلینکل فارماسسٹ کیڈر یونٹس کا قیام عمل میں لاتے ہوئے ڈاکٹر آف فارمیسی 6 سالہ اورینٹیڈ کورس تکمیل کرنے والے افراد کو سرکاری دواخانوں میں تقررات عمل میں لائیں بصورت دیگر ان کی اسوسی ایشنوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاجی پروگرامس منظم کرنے کا انتباہ دیا۔ آج یہاں صدر تلنگانہ اسوسی ایشن ڈاکٹر چندراشیکھر، جنرل سکریٹری ڈاکٹر نریش، صدر اے پی اسوسی ایشن آف فارمیسی ڈاکٹر لکشمی کانت، جنرل سکریٹری ڈاکٹر کرشنا وینی نے پریس کانفرنس میں بتائی۔ اُنھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر آف فارمیسی نامی کورس کو سال 2008 ء میں متعارف کیا گیا تھا اور اس سال متحدہ آندھراپردیش میں واقع 29 کالجس میں ایمسٹ کامیاب ایم پی سی اور بائی پی سی کے طلباء کو فارماڈی کورسیس میں داخلہ دیا گیا تھا اور سال 2014 ء میں اپنے کورس کی تکمیل کرنے کے بعد کی ڈگریاں لے کر در در بھٹک رہے ہیں اور انھیں کوئی ملازمت کا ذریعہ نصیب نہیں ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں Pharm-D تکمیل کرنے والے افراد کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ فارم ڈی کورس ایک انتہائی اہمیت کا حامل کورس ہے۔ اس کے باوجود مذکورہ کورس تکمیل کرنے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور وہ انتہائی کسمپرسی اور مفلوک الحالی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے وہ خودکشی کی راہ اپنانے پر مجبور ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ انھیں درپیش مسائل سے متعلق حکومتوں سے بارہا نمائندگی کی گئی لیکن اس سلسلہ میں کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور نہ ہی اس مسئلہ پرکوئی پیشرفت ہوئی۔ اُنھوں نے بتایا کہ مذکورہ کورس کی تکمیل کے لئے لاکھوں روپئے صرف کرنے کے باوجود اس کے نتائج ثمرآور برآمد نہیں ہوئے۔ اُنھوں نے فارم ڈی کالجس کورس کو تجارت کے طور پر لاکھوں روپئے فیس وصول کرتے ہوئے ہمارے مستقبل سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ فارم ڈی کالجس کی تعداد سال 2008 ء میں صرف 29 تھی جس میں اضافہ ہوکر آج 184 ہوگئی ہے جہاں پر طلباء کئی اہم بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اُنھوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیاکہ وہ ہر سرکاری دواخانہ میں کلینکل فارماسسٹ کیڈر کا قیام، ہر PHC میں ایک کلینکل فارماسسٹ کا تقرر، ہر ہاسپٹل میں ڈرگ انفارمیشن سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ہر ضلع میں پوائزن انفارمیشن سنٹر اور فارما ڈاکٹر کا تقرر کے علاوہ انھیں درپیش مسائل کے حل کی یکسوئی کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں بصورت دیگر وہ احتجاج پر مجبور ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT