Monday , November 20 2017
Home / آپ کے سوال / فاسق کمیونٹی ہال میں جماعت تراویح کا اہتمام کرنا

فاسق کمیونٹی ہال میں جماعت تراویح کا اہتمام کرنا

سوال :  اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض اصحاب ماہِ رمضان المبارک میں شادی خانہ ، کمیونٹی ہال میں تراویح کے لئے خاص اہتمام کرتے ہیں۔ جبکہ ان کے کاروبار درست نہیں ہوتے اور وہ سود کھاتے ہیں اور زمینات پر ناجائز قبضے کرتے ہیں تو اگر وہ رمضان المبارک کے موقع پر کسی مقام میں حافظ کو مقرر کریں اور جماعت تراویح کا نظم کریں تو ایسے جماعت میں شریک ہونا درست ہے یا نہیں ؟
نام ندارد
جواب :  سود، نص قطعی سے حرام ہے۔ اسی طرح زمینات پر ناجائز قبضہ اور اس سے حاصل شدہ آمدنی حرام ہے اور جن کی آمدنی حرام  ہو، ایسے لوگوں کی دعوت میں جانے اور ان کے پاس کھانے سے احتراز کرنا چاہئے ۔ البتہ اگر وہ کسی مقام پر تراویح کا اہتمام کریں تو اس مقام میں مسلمان نماز تراویح ادا کریں تو نماز تراویح ادا تو ہوجائے گی لیکن تراویح کا اہتمام مساجد میں کرنا چاہئے کیونکہ حضرت عمر فاروقؓ نے مسجد میں ایک امام کے پیچھے مسلمانوں کو جمع فرمایا تھا۔مخفی مباد کہ حرام آمدنی کار خیر میں خرچ کرنے، مسجد بنانے، فلاح و بہبود کے کام کرنے، اسی طرح نماز تراویح کا اہتمام کرنے سے کوئی ثواب متحقق نہیں ہوتا۔ ہر مسلمان کو ہر حال میں حرام آمدنی سے بچنا لازم و ضروری ہے۔

عمرہ کیلئیجدہ سے احرام
سوال :  اس سال رمضان شریف میں عمرہ کا ارادہ ہے، احر ام کے بارے میں معلوم کرنا ہے کہ احرام گھر سے باندھنا چاہئے یا ایرپورٹ پر باندھ سکتے ہیں۔ بعض لوگ جدہ ایر پورٹ پر احرام باندھتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے ؟  میقات کی تفصیل بیان فرمائیں تو مہربانی ہوگی ؟
محمد مختار احمد، نامپلی
جواب :  آفاقی (یعنی میقات سے باہر رہنے والے شخص) کے لئے عمرہ و حج کے احرام باندھنے کے پانچ مشہور مقامات ہیں ان کو میقات کہتے ہیں۔ مدینہ والوں کے لئے ’’ ذوالحلیفہ‘‘ ہے ۔ اس کو عوام الناس آبار علی کہتے ہیں۔ مصر و شام اور مغرب والوں کیلئے میقات اگر مدینہ منورہ کی جانب سے آئیں تو وہی ’’ ذوالحلیفہ ‘‘ ہے اور اگر تبوک کی راہ سے آئیں تو ’’حجفہ ‘‘ ہے۔ نجد والوں کی میقات ’’ قرن‘‘ ہے۔ اہل یمن و تہامہ اور یمن کی طرف سے جانے والے ہندوستانی حضرات کے لئے میقات ’’ یلملم‘‘ ہے اور اہل عراق یعنی بصری ، کوفی ، خراسانی وغیرہ کے لئے ’’ ذات عرق‘‘ ہے۔ اگر ممنوعات احرام سے بچنے کا یقین ہو تو گھر سے احرام باندھنا بہتر ہے ورنہ میقات پر باندھنا چاہئے ۔
’’ فان قدم الاحرام ھذہ المواقیت جاز و ھوالافضل اذا أمن مواقعۃ المخطورات و الا فالتاًخیر الی المیقات افضل کذا فی ا لجوھرۃ النیرۃ ‘‘ عالمگیری ج : 1 ، ص : 231
جدہ میقات کے اندر ہے ۔ آفاقی اگر بغیر احرام کے جدہ جاکر احرام باندھے تو اس پر دم واجب ہے ۔ ’’ فان أحرم بالحج او العمرۃ میں غیر أن یرجع الی المیقات فعلیہ دم لترک حق المیقات ‘‘ (عالمگیری: ج : 1 ، ص : 353 ) ہاں اگر جدہ میں احرام باندھنے والا کسی اور میقات پر جاکر احرام باندھ لے تو یہ دم ساقط ہوجائے گا۔ ’’ ومن جاوز میقاتہ غیر محرم ثم أتی میقاتا اٰخر فاحرم منہ اجزاء (حوالہ مذکور)

کن چیزوں پر کتنی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے
سوال :  زکوٰۃ کن کن چیزوں پر واجب ہے اور ان کے نصاب کیا کیا ہیں ؟
حافظ محمد خان قادری،ملک پیٹ
جواب :  زکوٰہ چار قسم کے اموال پر فرض ہے : (1) سائمہ جانوروں پر (2) سونے چاندی پر (3) ہر قسم کے تجارتی مال پر (4) کھیتی درختوں کی پیداوار پر ، ( اگرچہ اصطلاحاً اس قسم کو عشر کہتے ہیں) ۔ ان اقسام کے نصاب علحدہ علحدہ ہیں۔
چاندی سونے اور تمام تجارتی مال میں چالیس واں حصہ زکوٰۃ فرض ہے ۔ چاندی کا نصاب دو سو درہم یعنی 425 گرام 285 ملی گرام ہے۔ اس سے کم چاندی پر زکوٰۃ نہیں۔ زکوٰہ تول کردینا چاہئے، درہم یا روپئے کی گنتی خلاف احتیاط ہے۔ سونے کا نصاب بیس مثقال یعنی 60 گرام 755 ملی گرام ہے۔ اس پر 40 واں حصہ زکوٰۃ فرض ہے۔ سونے چاندی کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے ۔ زکوٰۃ ادا کرتے وقت سونے چاندی کی جو قیمت ہو، اس کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی ۔ زکوٰۃ ادا کرتے وقت نقد رقم کے بجائے سونے یا چاندی کی زکوٰۃ اسی جنس میں بھی ادا کی جاسکتی ہے ۔ تجارتی مال کا نصاب بھی یہی ہوگا ۔ تجارتی مال وہ مال ہے جو فروخت کرنے کی نیت سے لیا ہو۔ اس کا نصاب مال کی قیمت کے اعتبار سے ہوگا ۔ یعنی اگر کل مال کی قیمت 425 گرام 285 ملی گرام چاندی یا 60 گرام 755 ملی گرام سونے کی قیمت کے برابر ہو یا اس سے زائد ہو تو سال گزر جانے پر اس کی زکوٰۃ ، چالیسواں حصہ دینا فرض ہے۔
چاندی سونے میں اگر کسی اور چیز کی ملاوٹ ہے مگر وہ غالب نہیں تو وہ کالعدم ہوگی ۔ اگر غالب ہے تو اس میں زیر نصاب جنس کی مالیت کی زکوٰۃ ہوگی ۔ سائمہ جانوروں کے بارے میں شرط ہے کہ وہ جنگلی نہ ہوں اور یہ کہ تجارت کی نیت سے پا لے جائیں۔ پانچ اونٹوں پر زکوٰۃ فرص ہے ۔ اس کے لئے ایک بکری ( نر یا مادہ) زکوٰۃ ہوگی ۔ پچیس اونٹوں میں ایک اونٹنی جس کا دوسرا برس شروع ہوچکا ہو۔
چھتیس اونٹوں میں ایک اونٹنی جس کا تیسرا برس شروع ہوچکا ہو۔ اسی طرح ایک خاص تعداد کے مطابق زکوٰۃ بڑھتی جائے گی جس کی تفصیل کتب فقہ میں آئی ہے ۔ گائے بھینس کے سلسلے میں تیس گایوں بھینسوں میں ایک گائے یا بھینس کا بچہ جوایک برس کا ہو۔ اسی طرح آگے تعداد بڑھنے پر ایک خاص شرح کے مطابق زکوٰۃ بھی بڑھتی جائے گی ۔ بھیڑ ، بکری میں چالیس کے لئے ایک بھیڑ یا بکری ، ایک سو سے زائد ہوں تو ہر سو میں ایک بکری۔

سعودی عرب کے مطابق ہندوستان میں روزہ اور عید کرنا
سوال :  کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ کچھ مقامی نوجوان سعودی عرب کے رویت ہلال پر عمل کرتے ہوئے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ شروع کردیتے ہیں اور اسی طرح عید بھی وہاں کے ا عتبار سے مناتے ہیں ، یہ دلیل دیتے ہو ئے کہ مطلع ایک ہی ہے ۔ لہذا دنیا میں جہاں بھی چاند نظر آئے باقی دنیا کے تمام مسلمانوں کو اسی کے مطابق روزہ اور عید کرنا چاہئے ۔ ان کا یہ عمل ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف ہوتا ہے جبکہ یہاں کروڑوں مسلمان مقامی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق روزہ اور عید مناتے ہیں۔ ان نوجوانوں کا یہ عمل امت میں انتشار کا سبب بن رہا ہے کیونکہ تمام مسلمان رو زہ سے ہوتے ہیں اور یہ لوگ عید مناتے ہیں اور تمام مسلمان رمضان المبارک کا انتظار کرتے ہیں اور یہ لوگ ایک دو دن پہلے ہی روزہ شروع کرتے ہیں اور یہ لوگ دوسرے سبھی علم اء و جماعتوں کو غلط ٹھہراتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے مطابق ان کا یہ عمل کیسا ہے ۔
تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔ امت کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے ان نوجوانوں کو کچھ نصیحت بھی فرمائیں ؟
حافظ محمد ادریس سبیلی
جواب :  اختلاف مطالع ثابت ہے ۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ حدیث شریف صوموالرؤیتہ و افطروا لرؤیتہ کے تحت ہندوستان میں جب چاند نظر آئے ، رمضان شروع ہوگا اور شوال کا چاند نظر آتے ہی روزہ ختم ہوگا۔ یہاں پر رمضان کا مہینہ جو نہ پائے اس پر  روزہ نہیں ہے ۔ فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ  کے تحت رمضان ثابت ہونا ضروری ہے۔ سوال میں ذکر کردہ نو جوانوں کا عمل شریعت اسلامی کے بالکل خلاف ہے اور جہالت پر مبنی ہے۔  وہ حیدرآباد میں ہوں تو حیدرآباد کی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق ان کو روزہ کا اہتمام اور عید کرنا چاہئے۔

دعاء کا صحیح طریقہ
سوال :  دعاء کا صحیح طریقہ کیا ہے ‘ بعض حضرات دعاء کرتے وقت دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرتے ہیں اور بعض حضرات چہرے کے قریب رکھتے ہیں۔ بعض دونوں ہاتھ ملاکر دعا کرتے ہیں اور بعض دونوں ہاتھوں میں گیپ رکھتے ہوئے دعا کرتے ہیں۔ مجھے جاننا یہ ہے کہ اسلام میں دعاء کرنے کا صحیح و مسنون طریقہ کیا ہے۔
زید فاروقی، پرانی حویلی
جواب :  دعاء کی نوعیت سے دعا کا طریقہ مختلف ہوتا ہے لیکن عام دعا کا افضل طریقہ یہ ہے کہ آدمی دعاء کے وقت اپنی دونوں ہتھیلیوں کو کھلا رکھے اور دونوں ہاتھوں کے درمیان تھوڑی سی کشادگی ہو اور اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر نہ رکھے اور دعاء کے وقت دونوں ہاتھ سینے تک اٹھانا مستحب ہے۔ عالمگیری جلد 5 ص : 318 میں ہے : والا فضل فی الدعاء أن یبسط کفیہ و یکون بینھما… وان قلت ولا یضع احدی یدیہ علی الاخری … المستحب أن یرفع یدیہ عندالدعاء بحذاء صدرہ کذا فی القنیۃ دعاء سے فارغ ہونے کے بعد اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر مل لے  اسی میں ہے : مسح الوجہ بالیدین اذا فرغ من الدعاء قیل لیس بشئی و کثیرمن مشائخنا رحھم اللہ تعالیٰ اعتبروا ذلک و ھوا الصحیح و بہ ورد الخبر کذافی الغیاثۃ۔

رہن کا مکان ہبہ کرنا
سوال :  زید تین منزلہ مکان کا مالک ہے، اس نے اپنے مکان کا گراؤنڈ فلور پانچ لاکھ روپئے میں رہن رکھا، ایک سال کی مدت ختم ہوگئی، مزید ایک سال باقی ہے لیکن خاندانی ذرائع سے معلوم ہوا کہ زید نے اپنا تین منزلہ مکان اپنے دو لڑکے اور ایک لڑکی کے نام ہبہ کردیا اور ان کے نام رجسٹری بھی کردی۔ ایسی صورت میں زید کا رہن کا حصہ کو ہبہ کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟ واضح رہے کہ رہن کا حصہ اب بھی قرض دینے والے کے قبضہ و تصرف میں ہے۔
فردوس خان، تالاب کٹہ
جواب :  اگر قرض دینے والے کی رضامندی کے بغیر زید نے رہن کا حصہ ہبہ کیا ہے تو یہ ہبہ رہن کی رقم واپس کرنے تک شرعاً نافذ نہیں ہے۔ مرتہن (قرض دیکر رہن رکھنے والے) کو یہ حق حاصل ہے کہ رہن کے حصۂ مکان کواپنے قبضہ و تصرف میں رکھے اور اپنی رقم وصول کرلے۔ عالمگیری جلد 5 ص : 462 کتاب الرہن میں ہے : و تصرف الراہن قبل سقوط الدین فی المرھون اما تصرفہ یلحقہ الفسخ کالبیع والکتابۃ والا جارۃ والھبۃ والصدقۃ والاقرار و نحوھا او تصرف لا یحتمل الفسخ کا لعتق والتدبیر والاستیلاد۔ اما الذی یلحقہ الفسخ لا ینفذ بغیر رضاء المرتھن ولا یبطل حقہ فی الحبس و اذا قضی الدین و بطل حقہ فی الحبس نفذت التصرفات کلھا۔
پس صورت مسؤل عنہا میں قرضحواہ کو تا ادائی زر رہن کے حصہ مکان کو اپنے زیر قبضہ رکھنے کا حق ہے۔

TOPPOPULARRECENT