Thursday , November 15 2018
Home / شہر کی خبریں / فاسٹ فوڈ سنٹرس میں ناقص تیل کا استعمال ، استعمال کنندے امراض کا شکار

فاسٹ فوڈ سنٹرس میں ناقص تیل کا استعمال ، استعمال کنندے امراض کا شکار

پولیس ، سیول سپلائز اور ویجلنس کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت
حیدرآباد۔22 ۔ جنوری (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں فاسٹ فوڈ سنٹرس میں استعمال کیا جانے والا تیل کس حد تک نقصاندہ ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلسل اس تیل کے استعمال سے کئی عارضے لاحق ہوسکتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں پرانے شہر میں تیل بنانے کے کارخانے پر کئے گئے دھاوے کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا کہ دونوں شہروں کے کئی پسماندہ علاقوں میں معصوم لڑکے و لڑکیوں کی مدد سے ہڈیوں کا تیل تیار کرتے ہوئے انہیں فروخت کرنے کا اسکام چلایا جارہا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے کئی گنجان علاقوں میں نقلی تیل کی تیاری اور انہیں بازار میں فروخت کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن ان کوششوں میں بعض فاسٹ فوڈ سنٹرس اور ریسٹورانٹ بھی ملوث ہیں جو شہریوں کو ایسے تیل میں تیار کردہ کھانا فراہم کر رہے ہیں جو تیل جانوروں کی ہڈیوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اس طرح کے کارخانوں کے خلاف بڑے پیمانہ پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی شہر کے کئی خرد و نوشت کے مراکز پر جانوروں کی ہڈیوں سے تیار کردہ تیل فروخت کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے نہ صرف شہریوں کی صحت متاثر ہورہی ہے بلکہ ان کارخانوں کے اطراف بسنے والوں کو بھی مختلف قسم کی بیماریوں کے علاوہ روزانہ بدبو و تعفن کا سامنا ہوتا ہے۔ شہر کی گنجان آبادیوں میں جاری اس کاروبار کے خاتمہ کیلئے محکمہ پولیس کا فوری طور پر حرکت میں آنا ضروری ہے کیونکہ جب تک پولیس کی جانب سے سختی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام میں اعتماد نہیں پیدا کیا جاسکتا اس وقت تک صورتحال کو بہتر نہیں بنایا جاسکے گا۔ محکمہ پولیس کے علاوہ محکمہ سیول سپلائیز اور ویجلنس کے عہدیدار بھی ان معاملات پر توجہ مبذول کرتے ہوئے سخت کارروائی کرے کیونکہ یہ مسئلہ صرف تیل کمپنیوں کو نقصان پہنچانے کا سبب نہیں ہے بلکہ عوام سے دھوکہ دہی اور عوامی صحت کو متاثر کرنے والی کوشش نظر آرہی ہے۔ سابق میں رکن قانون ساز کونسل مسٹر پربھاکر نے اس مسئلہ پر ایوان میں کئے گئے سوال کے دوران حکومت تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہر کے فاسٹ فوڈ سنٹرس پر استعمال کئے جانے والے خوردنی تیل کا جائزہ لیا جائے اور نقلی تیل کے تیار کردگان کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کریں لیکن محکمہ پولیس نے جو رویہ اختیار کیا ہے ، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ پولیس خود نہیں چاہتا کہ اس کاروبار کو فوری اثر کے ساتھ بند کروایا جائے کیونکہ اشیائے خورد و نوش کی دکانات بالخصوص سڑک کے کنارے لگائی جانے والی ٹھیلہ بنڈیوں پر ہی یہ تیل فروخت کیا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT