Saturday , September 22 2018
Home / آپ کے سوال / فالج کا مریض اور پیشاب کا عارضہ

فالج کا مریض اور پیشاب کا عارضہ

سوال : میں فالج کے مرض میں مبتلا ہوکر تقریباً پانچ سال کا عرصہ ہورہا ہے۔ کافی علاج کروانے کے باوجود صحت نہ ہوسکی اس وقت میری یہ حالت ہے کہ میں بیٹھ کر پیشاب نہیں کرسکتا۔ کھڑا رہ کر ہی ضرورت سے فارغ ہوتا ہوں۔ گھٹنوں میں کافی درد ہے بغیر واکر کے چل نہیں سکتا اور پھر پیشاب بار بار آتا ہے اور پیشاب کرنے کیلئے جانے تک کپڑوں میں نکل جاتا ہے روکنے کی کوشش کے باوجود نہیں رکتا۔ قطرے کپڑوں میں گرجاتے ہیں۔ اس طرح طہارت نہیں رہتی ایسی حالت میں مجھے نماز پڑھنے میں اور قرآن پڑھنے میں معذوری ہے۔ میں ایسی حالت میں نماز اور قرآن پڑھنا بند کردیا ہوں۔ صرف ذکر میں مشغول رہتا ہوں ۔ مجھے نماز اور قرآن پرھنے کیلئے کیا کرنا چاہئے ۔ ایسے معذور اور مجبور شخص کو اسلامی احکامات پر عمل کرنے کیلئے کیا کرنا چاہئے ۔شرعی احکامات سے معلومات فراہم کیجئے یا ایسی حالت میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ تفصیل سے معلوم کیجئے ۔
عبدالباری، شکر گنج
جواب : عذر کی بناء کھڑے ہوکر پیشاب سے فارغ ہونے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔ البتہ طہارت خانہ کو جانے سے قبل پیشاب خطا ہوجائے اور پیشاب کے قطرے ہتھیلی کے گڑھے کی مقدار سے زیادہ کپڑے کو لگ جائیں تو ایسی صورت میں اس حصہ کو دھونا واجب ہوجاتا ہے ۔ ہتھیلی کے گڑھے (ایک سکہ کی مقدار) سے کم ہو تو قابل عفو ہے۔ مذکورہ مقدار سے زیادہ ہو تو اس حصہ کو دھولیں یا کپڑا تبدیل کرلیں اور جس مقام کو پیشاب کے قطرے لگے ہیں اتنا حصہ بدن کو تین مرتبہ دھولیا جائے تو طہارت کیلئے کافی ہے اور جب پیشاب کے قطرے مکمل طور پر رک جائیں تو لباس تبدیل کر کے وضو کرلیں۔ آپ کی طہارت مکمل ہے اور آپ نماز کو ادا کرسکتے ہیں اور قرآن کو چھو سکتے ہیں ۔
نماز کسی صورت میں ذمہ سے ساقط ہونے والی نہیں۔ سوال میں ذکر کردہ صورت میں نماز ترک کرنے کی شرعاً گنجائش نہیں۔

بیرونی مائیک کا استعمال
سوال : الحمدللہ ۔ اللہ رب العزت کا بے انتہا فضل و کرم ہے کہ قدیم شہر حیدرآباد میں خصوصاً اور پورے شہر و مضافات میں عموماً سینکڑوں نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ سو دو سو قدم کے فاصلے سے بھی الحمد للہ مساجد ہیں۔ ہر مسجد میں اذان پنجوقتہ کے علاوہ اذان جمعہ اور قبل نماز جمعہ اردو میں بیان اور عربی میں خطبہ جمعہ اور پوری نماز قرات جہری و تکبیر انتقالات بھی مساجد کے باہر کے لاؤڈ اسپیکر پر ہی بڑی آواز سے ادا کی جاتی ہیں جبکہ قرأت کی سماعت اور تکبیر انتقالات کے سننے کے مکلف صرف مسجد میں موجود مقتدی ہی ہوتے ہیں نہ کہ پورا محلہ اور راہ گیر بیان اور خطبہ قریب قریب کی کئی مساجد کے لاؤڈ اسپیکر کی آوازوں کے ٹکراؤ کی وجہ سے مساجد کے باہر نہ صاف سنائی دیتا ہے نہ سمجھ میں آتا ہے ۔ خطیب صاحبین ائمہ کرام اور حفاظ صاحبین بھی مسائل آداب تلاوت سے عوام سے زیادہ واقف ہوتے ہیں ۔ حکم تو یہ ہے کہ اگر مسجد میں کوئی نفل نماز بھی پڑھ رہا ہو تو تلاوت قران مجید دھیمی آواز سے کی جائے تاکہ نماز میں خلل نہ ہو۔ بڑی آواز سے بیان خطبہ اور قرات کی وجہ سے گھروں میں نماز پڑھنے والی خو اتین اور نوافل یا تلاوت یا ذ کر و اذکار کی ادائی میں بے حد خلل واقع ہوتا ہے ۔ یہ سلسلہ اذان اولیٰ سے لیکر دن کے تین بجے کے بعد تک جاری رہتا ہے کیونکہ قریب قریب کی مساجد میں وقت کے فاصلے سے نماز ادا کی جاتی ہے۔ نماز کے بعد سلام بھی لاؤڈ اسپیکر پر ہی پڑھا جاتا ہے جس میں بار بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک آتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر درود نہ پڑھنے والا سخت گنہگار ہوتا ہے ۔ ایک اور قابل توجہ امر یہ ہے کہ محلہ کالا پتھر علی باغ کی کسی مسجد سے رات دو بجے سے چار بجے تک انتہائی بلند آواز میں بلا وقفہ نعتیں پڑھی جاتی ہیں۔ رات کے سناٹے کی وجہ سے آواز کافی دور تک جاتی ہے ۔ ایسے میں جو لوگ قبل سحر نماز تہجد پڑھنا چاہیں یا کاروباری مسلمان سحر کے وقت تک آرام کرنا چاہیں تو بڑا خلل واقع ہوتا ہے ۔ علاوہ ازیں حوائج ضروریہ کا مسئلہ بھی ہے کیونکہ حمام و بیت الخلاء میں بھی آواز صاف سنائی دیتی ہے۔ شرعاً کیا حکم ہے ؟
سید مجاہد چندولعل بارہ دری
جواب : مسجد میں بوقت ضرورت آلۂ مبکر ا لصورت (لاؤڈ اسپیکر) کا استعمال مسجد میں موجود حاضرین کیلئے ہونا چاہئے اور حاضرین تک ہی محدود رہنا چاہئے ۔ بیرونی مائیک کو کھولنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ بیرونی اسپیکر کھول کر گھر اور بازار میں مصروف افراد کو سنانا ، قرآنی آیات کی تلاوت کرنا ، نعت شریف پڑھنا وعظ و بیان کرنا عظمت و حرمت کے خلاف ہے ۔ قرآن مجید کی تلاوت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے وقت عوام کی بے التفاتی و بے توجہی کا وزر اور وبال بیرونی لاؤڈ اسپیکر کھولنے والوں پر رہے گا ۔ دین کے نام پر کسی فرد کو تکلیف دینے کی شرعاً اجازت نہیں جو خواہشمند ہوں گے وہ خود مسجد میں آکر سماعت کریں گے۔

فتویٰ کو نہ ماننا
سوال : (1 فتویٰ کی اہمیت کیا ہے۔ (2) فتویٰ کی کس حد تک پابند ہونی چاہئے ؟ (3) کیا فتویٰ قابل عمل ہے ؟ (4) اگر کسی فتویٰ پر عمل نہ کیا جائے تو اس کا مذہبی رد عمل کیا ہوگا ۔ (5) اگر فتویٰ پر عمل نہ کیا جائے تو دوسرا اقدام کیا کیا جاسکتا ہے؟ (6) اگر فتویٰ کا احترام نہ کیا جائے تو شریعت کا کیا حکم ہے ؟
نام …
جواب : کسی بھی مسئلہ کے شرعی حکم یا اس مسئلہ کے حل کا نام ’’ فتویٰ ‘‘ ہے جو سوال کی صحت پر موقوف ہوگا۔ (2) فتوی فقہ (جو قرآن ، حدیث اور اجماع و اجتہاد) سے حکم شرعی کے مطابق ہوتا ہے۔ ( 3 تا 5) اگر انسان کے ذاتی عمل سے متعلق ہے (جیسے صحت نماز) تو مستفتی کو اس پر عمل کرنا چاہئے ورنہ وہ عنداللہ ماخوذ ہوگا اور کسی دوسرے کے حقوق سے متعلق ہے تو اس پر عمل نہ کرنے کی صورت فریق ثانی کو یہ حق ہے کہ حاکم مجاز سے رجوع ہو۔ (6) فتویٰ چونکہ حکم شرعی ہے، اس کا احترام کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے۔ اس کی توہین سے شریعت کی توہین ہوگی جس میں کفر کا اندیشہ ہے۔

مسجد میں سلام کرنا
سوال : جمعہ کے دن لوگ خطبہ سے بہت پہلے مسجد میں جمع ہوجاتے ہیں اور قرآن مجید بالخصوص سورہ الکہف ، سورۃ یسین کی تلاوت کرتے ہیں اور دوسرے حضرات اوراد و وظائف میں مشغول رہتے ہیں۔ بعض حضرات مسجد کے اندرونی حصہ میں داخل ہوکر بلند آواز سے سلام کرتے ہیں ۔ کیا اس طرح سلام کرنا شرعی لحاظ سے کیا حکم رکھتا ہے ۔اس کے علاوہ اگر کوئی شخص سلام کردے تو کیا قرآن کی تلاوت میں مشغول افراد پر سلام کا جواب دینا ضروری ہے یا نہیں ؟
محمد اسحاق، ٹولی چوکی
جواب : یہ سلام کا وقت نہیں، جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ وہ سلام نہ کرے ۔ اگر وہ سلام کردے تو بیٹھنے والوں پر اس کے سلام کا جواب دینا ضروری نہیں۔ عالمگیری جلد 5 کتاب الکراھۃ ص : 361 میں ہے : السلام تحیۃ الزائرین ، والذین جلسوا فی المسجد للقراء ۃ والتسبیح ولانتظار الصلوۃ ما جلسوافیہ لدخول الزائرین علیھم فلیس ھذا اوان السلام فلا یسلم علیھم و لھذا قالوا لو سلم علیھم الدخول وسعھم ان لا یجیبوہ کذا فی القنیۃ۔

سلام کے بعد مصلیوں کی طرف رخ کرنا
سوال : ہماری مسجد کے امام صاحب ہمیشہ سلام پھیرنے کے بعد مصلیوں کی طرف رخ کیا کرتے تھے۔ اب چند دن سے کبھی وہ سیدھے جانب اور کبھی بائیں جانب رخ کر رہے ہیں۔ شرعی لحاظ سے صحیح طریقہ کیا ہے؟
نام …
جواب : سلام پھیرنے کے بعد امام کے پلٹنے کی کیفیت کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ سیدھے جانب رخ کرنا چاہئے اور بعض نے کہا کہ مصلیوں کی طرف رخ کرنا چاہئے اور بائیں جانب رخ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد مسجد میں داخل ہونے والے کو کوئی شبہ باقی نہ رہے، اس لئے امام کو پلٹنے کا حکم ہے۔ اس کو تینوں جہتوں میں سے کسی بھی جانب رخ کرنے کا اختیار ہے۔ بدائع الصنائع جلد اول ، ص : 394 میں ثم اختلف المشائخ فی کیفیۃ الانحراف
قال بعضھم : ینحرف الی یمین القبلۃ تبر کا بالتیامن ۔ و قال بعضھم : ینحرف الی الیسار لیکون یسارہ الی الیمین ، و قال بعضھم : ھو مخیر ان شاء انحرف یمنۃ وان شاء یسرۃ، وھو الصحیح لان ماھوالمقصود من الانحراف وھو زوال الاشتباہ یحصل بالأمرین جمیعاً۔

ٹوپی اور عمامہ پر مسح کرنا
سوال : ایک اہم مسئلہ سے متعلق یہ چند سطور لکھی جارہی ہیں۔ امید کہ آپ جواب دیں گے۔ کیا کوئی مرد اپنی ٹوپی یا عمامہ پر مسح کرسکتا ہے یا نہیں؟ اگر وہ مسح کرے تو یہ کافی سمجھا جائیگا یا نہیں ؟ اسی طرح کوئی خاتون اوڑھنی یا حجاب پر سے مسح کرسکتی ہے یا نہیں ؟
ای میل
جواب : وضو میں مرد و خواتین کیلئے ایک چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے۔ اور ٹوپی عمامہ اور اوڑھنی وغیرہ پر مسح کرنا جائز نہیں۔ صحابیٔ رسول حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عمامہ پر مسح کرنے سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : جائز نہیں یہاں تک کہ بالوں کو پانی (کی تری) لگے۔ روی محمد فی موطئہ (288, 287, 286/1 ) قال اخبرنا مالک قال بلغنی عن جابر انہ مسئل عن مسح العمامۃ فقال لا : حتی یمس الشعر المائ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے منقول ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کو اپنے خمار کے نیچے داخل کیں اور اپنے سر کا مسح کیں۔ اور فرمائیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اسی طرح حکم فرمایا ہے : روی عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ؟ انھا أدخلت یدھا تحت الخمار و مسحت برأسھا و قالت بھذا امرنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بیھقی سنن کبری)
بدائع الصنائع جلد اول ص : 71 میں ہے : ولا یجوز المسح علی العمامۃ والقلنسوۃ لانھما یمنعان اصابۃ الماء الشعر ولا یجوز مسح المرأۃ علی خمار ھا۔

والدین سے قبل حج کرنا
سوال : میں سعودی عرب میں مقیم ہوں، میں نے گزشتہ سال حج کیا ہے، اس سال بھی توقع ہے کہ ایام حج میں مجھے مکہ مکرمہ جانے کا موقعہ مل جائے اور اس بار بھی حج ادا کرسکوں۔
آپ کی اطلاع کیلئے میرے والدین حج نہیں کئے ہیں اور ان کے پاس سرمایہ بھی نہیں ہے اور ہماری بہنوں کی شادیاں بھی باقی ہے جو میری آمدنی میں سے انجام پانی ہے ۔ ہمارے بعض عزیز و اقارب کا خیال ہے کہ والدین سے پہلے میرا فریضۂ حج اداکرنا اور اس سال اگر م موقع ہو تو دوبارہ حج کرنا صحیح نہیں ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ شرعی نقطہِ نظر سے اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں تاکہ الجھن دور ہو۔
نام…
جواب : جو شخص ایام حج میں بیت اللہ شریف کو پہنچ سکتا ہو، اس پر حج فرض ہے ۔ حج کی فرضیت ، صاحب استطاعت پر ہے۔ والد صاحب استطاعت ہوں تو ان پر فرض ہے اور لڑکا صاحب استطاعت ہو والد صاحب استطاعت نہیں تو لڑکے پر حج فرض ہے۔ صاحب استطاعت لڑکے کا قدرت کے باوجود فریضۂ حج کو محض اس وجہ سے ترک کرنا کہ ان کے والد حج نہیں کئے ہیں، شرعاً صحیح نہیں۔ آپ نے جو حج ادا کیا ہے وہ حج ادا ہوگیا اور اس سال آپ کو موقع ہو اور آپ حج کرلیں تو یہ آپ کا نفل حج ہوجائے گا ۔ والدین حج نہیں کئے ہیں اور ان کے پاس سرمایہ بھی نہیں ہے تو ان پر حج فرض نہیں البتہ ان کی اولاد اپنے سرمایہ سے ان کو حج کراتی ہے تو یہ اولاد کی سعادت مندی اور خوش بختی ہے اور اجر و ثواب کا باعث ہے۔

TOPPOPULARRECENT