Monday , June 18 2018
Home / مذہبی صفحہ / فتنہ سے بچو!

فتنہ سے بچو!

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’عنقریب گونگے، بہرے اور اندھے فتنے کا ظہور ہوگا۔ جو شخص اس فتنہ کو دیکھے گا اور اس کے قریب جائے گا، وہ فتنہ اس کو دیکھے گا اور اس کے قریب آجائے گا۔ نیز اس فتنہ کے وقت زبان درازی، تلوار مارنے کی مانند ہوگی‘‘۔ (ابوداؤد)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’عنقریب گونگے، بہرے اور اندھے فتنے کا ظہور ہوگا۔ جو شخص اس فتنہ کو دیکھے گا اور اس کے قریب جائے گا، وہ فتنہ اس کو دیکھے گا اور اس کے قریب آجائے گا۔ نیز اس فتنہ کے وقت زبان درازی، تلوار مارنے کی مانند ہوگی‘‘۔ (ابوداؤد)

فتنہ کو گونگا اور بہرا کہنا لوگوں کے اعتبار سے ہے، یعنی وہ فتنہ اتنا سخت اور اس قدر ہیبت ناک ہوگا کہ عام لوگ اس وقت حیران و سراسیمہ ہوکر رہ جائیں گے۔ نہ کوئی فریاد رس نظر آئے گا کہ جس سے کوئی شخص درخواست کرسکے اور نہ کسی کو نجات دلا سکے اور نہ کوئی ایسی راہ دکھائی دے گی، جس کے ذریعہ اس فتنہ سے نجات اور خلاصی پائی جاسکے۔ یا مطلب یہ ہے کہاس فتنہ کے وقت لوگ حق و باطل اور نیک و بد کے درمیان تمیز نہیں کریں گے، وعظ و نصیحت کو سننا اور اس پر عمل کرنا گوارہ نہیں کریں گے، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی باتوں پر دھیان نہیں دیں گے۔ جو شخص ان کو نیک باتوں کی طرف بلائے گا اور زبان سے حق بات نکالے گا، اس کو روحانی و جسمانی اذیتوں میں مبتلا کریں گے اور اس کے ساتھ نہایت تکلیف دہ اور پریشان کن سلوک کریں گے۔ علاوہ ازیں جو شخص اس فتنہ کی باتوں کی طرف متوجہ رہے گا اور ان لوگوں کی قربت و ہم نشینی اختیار کرے گا جو اس فتنہ کا باعث ہوں گے، تو اس شخص کا اس فتنہ سے محفوظ رہنا اور اس برے اثرات کے چنگل سے بچ نکلنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے برخلاف جو شخص اس فتنہ سے دور اور فتنہ پروروں سے بے تعلق رہے گا، وہ فلاح یاب ہوگا۔ اس وقت لوگوں میں تعصب، ہٹ دھرمی اور حق کو قبول کرنے کا اصرار بہت زیادہ ہوگا، اس لئے وہ کسی کی زبان سے کوئی ایسی بات سننا گوارا نہیں کریں گے، جو ان کی مرضی کے خلاف ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT