Sunday , December 17 2017
Home / آپ کے سوال / فتوی کی اہمیت

فتوی کی اہمیت

سوال :  (1  فتویٰ کی اہمیت کیا ہے۔ (2) فتویٰ کس حد تک پابند ہوتا ہے ؟ (3) کیا فتویٰ قابل عمل ہے ؟ (4) اگر کسی فتویٰ پر عمل نہ کیا جائے تو اس کا مذہبی رد عمل کیا ہوگا ۔ (5) اگر فتویٰ پر عمل نہ کیا جائے تو دوسرا اقدام کیا کیا جاسکتا ہے؟ (6) اگر فتویٰ کا احترام نہ کیا جائے تو شریعت کا کیا حکم ہے ؟
نام …
جواب :  کسی بھی مسئلہ کے شرعی حکم یا اس مسئلہ کے حل کا نام ’’ فتویٰ ‘‘ ہے جو سوال کی صحت پر موقوف ہوگا۔ (2) فتوی فقہ (جو قرآن ، حدیث اور اجماع و اجتہاد) سے حکم شرعی کے مطابق ہوتا ہے۔ ( 3 تا 5) اگر انسان کے ذاتی عمل سے متعلق ہے (جیسے صحت نماز) تو مستفتی کو اس پر عمل کرنا چاہئے ورنہ وہ عنداللہ ماخوذ ہوگا اور کسی دوسرے کے حقوق سے متعلق ہے تو اس پر عمل نہ کرنے کی صورت فریق ثانی کو یہ حق ہے کہ حاکم مجاز سے رجوع ہو۔  (6)  فتویٰ چونکہ حکم شرعی ہے، اس کا احترام کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے۔ اس کی توہین سے شریعت کی توہین ہوگی جس میں کفر کا اندیشہ ہے۔

اعضاء کے عطیہ کے متعلق وصیت کرنا
سوال :  آپ سے معلوم کرنا ہے کہ کیا کوئی مسلمان اپنی زندگی میں اپنے لواحقین کو وصیت کرسکتا ہے کہ بعد انتقال اس کی آنکھیں ، گردے وغیرہ دوسروں کے استعمال کے لئے یعنی لگانے کیلئے دیئے جائیں۔ Donate) کرنے کیلئے) اس بارے میں شرعی احکام کیا ہیں۔ کیا ایسا عمل ثواب کا کام ہوگا یا گناہ ؟ برائے مہربانی معلوم کریں۔ غیر مسلمین میں یہ رواج ہے کہ دواخانوں کو پہلے سے کہہ دیا جاتاہے اور وہ ڈاکٹرز بعد مرنے کے اسے لے جاتے ہیں اور ضرورت مند لوگوں کو آپریشن کے ذریعہ لگاتے ہیں۔
عبدالحمید خان، کریم نگر
جواب :  جس چیز کی وصیت کی جارہی ہے، وصیت کنندہ کا اس کا مالک ہونا ضروری ہے ۔ اگر کوئی شخص غیر مملوکہ چیز کی وصیت کرے تو وہ شرعاً باطل ہے ۔ وصیت کا مفہوم یہ ہے کہ وصیت کنندہ تاحیات جس چیز کا مالک و متصرف ہے بعد وفات وہ چیز موصی لہ ، (جس کے حق میں وصیت کی جارہی ہے) کی ملک ہوگی۔ ازروئے شرع انسان کو اپنی حین حیات اپنے اعضاء فروخت کرنے کا حق نہیں۔ حتی کہ بوقت ’’ اضطرار ‘‘ مردار بھی حلال ہوجاتا ہے لیکن ایسے وقت میں کوئی پیشکش کرے کہ میرا ہاتھ کاٹ لو اور کھاکر اپنی جان بچاو، ایسے وقت بھی انسان کا عضو کاٹ کر استعمال کرنا مباح نہیں۔ حاشیہ ابن عابدین جلد 5 ص : 215 میں ہے : وان قال لہ : اقطع یدی وکلھا لایحل لان لحم الانسان لایباح فی الاضطرار و لکرامتہ ۔ فتاوی خانیہ جلد 3 ص : 404 میں ہے: مضطری یجد المیتۃ وضاف الھلاک فقال لہ اجل : اقطع یدی وکلھا لا یسعہ الامر ۔ اعضاء انسانی سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں۔ فتاوی عالمگیری جلد پنجم ص : 354 میں ہے : الانتفاع باجزاء الآدمی لم یجز قیل للنجاسۃ وقیل لکرامتہ وھو الصحیح ۔ نیز انسان کے انتقال کے ساتھ ہی اس کی مملوکہ ہر چیز میں اس کے ورثہ کا حق متعلق ہوجاتا ہے لیکن مرحوم کے جسم اور اس کے اعضا پر اس کے ورثہ کا کوئی حق ثابت نہیں ہوتا کیونکہ وہ اللہ کی امانت ہے ۔ بعد انتقال آدمی جس کا مالک و متصرف نہ رہے ، اس کے متعلق وصیت کرنا شرعاً باطل ہے۔ لہذا اگر کوئی اپنی آنکھ ، گردہ و دیگر اعضاء بعد وفات دوسرے ضرورتمندوں کو دینے کی وصیت کرے تو ایسی وصیت ناقابل نفاذ ہے ۔ بظاہر اس میں انسانی ہمدردی معلوم ہورہی ہے لیکن در حقیقت یہ انسانی عظمت و احترام کے قطعاً منافی ہے۔

امام بالائی منزل پراور مقتدی نیچے
سوال:  مسجد دو منزلہ (G+1) ہے۔ پہلی منزل پر تعمیری کام ہورہا ہے اس لئے جماعت کی نماز کا اہتمام دوسری منزل پر کیا گیا ہے ۔ دوسری منزل پر محراب ہے جس میں سے پہلی صف کے مصلیوں کو امام صاحب نظر آتے ہیں۔
(1) بعض مصلی پیروں کی تکلیف کی وجہ سے پہلی منزل کی سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتے۔ کیا ایسے مصلی گراؤنڈ فلور پر کرسیاں ڈال کر باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں ؟ جبکہ امام نظر نہیں آتا۔
(2) جمعہ میں کافی تعداد میں مصلیاں آتے ہیں ۔ کیا مسجد کی آخری چھت پر شامیانہ ڈال کر نمازِ باجماعت ہوسکتی ہے جبکہ امام نظر نہیں آنا ؟
عبدالمتین، کاروان
جواب :   اقتداء کے صحیح ہونے کے لئے امام کا نظر آنا ضروری نہیں، امام کے انتقالات ( ایک رکن سے دوسرے رکن میں منتقل ہونے) سے واقف ہونا کافی ہے ۔ لہذا امام بالائی منزل پر ہو اور مقتدی زمینی منزل پر ہوں اور امام کے انتقالات سے مطلع ہوں تو ان کی اقتداء شرعاً درست ہے ۔ اس طرح آخری چھت پر بھی اقتداء درست ہے ۔ اگر امام کی آواز براہ راست نہ پہنچتی ہو تو ’’ مکبرین‘‘ کا انتظام کیا جائے۔

معمولی بات پر مسلک کی تبدیلی
سوال :  ایک شخص جو کہ نسل در نسل سے حنفی ہے۔ اس نے بعض اشیاء کے استعمال کرنے کے لئے حنفی سے شافعی مذہب قبول کرلیا ہے اور اس کا کہناہے کہ وہ تقلید کر رہا ہے ۔ اس لئے گنہگار نہیں ہے تو کیا شریعت مطھرہ میں اس بات کی اجازت ہے کہ وہ کسی جانور کو کھانے کے لئے اپنے مذہب کو تبدیل کرسکتا ہے ۔ کئی ایسے جانور ہیں جو ازروئے فقہ حنفی اس کا کھانا جائز نہیں اور دوسرے مذاہب میں جواز نکل جاتا ہے۔ کیا مذہب تبدیل کرنے کی گنجائش ہے ؟ براہ کرم اس بارے میں شرعی احکام بیان کیجئے ؟
غضنفر مسعود،پھول باغ
جواب :   اگر کسی حنفی یا شافعی دنیوی غرض اور منفعت کے لئے یا بغیر سوچے سمجھے بلا دلیل اپنا مذہب تبدیل کرلیتا ہے تو اس شخص نے چونکہ اپنے پہلے مذہب کی توہین کی ہے ، اس کو خفیف جانا ہے اس لئے وہ آخرت میں گنہگار وماخوذ ہوگا اور دنیا میں تعزیری سزا کا بھی مستحق ہوگا اور اگر اس کا مبلغ علم پایہ اجتھاد کو پہنچا ہوا ہے، وہ اپنے اجتھاد میں مذہب کے بدلنے سے شریعت کی بھلائی جانتا ہے ، کوئی دنیوی غرض نہیں ہے تو ایسے شخص کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔ در مختار جلد 3 ص : 196 میں ہے : ارتحل الی مذہب الشافعی یعزر ، سراجیہ ۔ اور اسی جگہ رد المحتار میں ہے : ای اذا کان ارتحالہ لالغرض محمود شرعا اور اس صفحہ میں ہے تاتارخانیہ سے منقول ہے: ولو ان رجلا بریٔ من مذھبہ باجتھاد وضح لہ کان محمود امأ جورا اما انتقال غیرہ من غیر دلیل بل لما یرغب من غرض الدنیا و شھوتھا فھو المذموم الآثم المستوجب للتادیب والتعزیر لارتکابہ المنکر فی الدین و استخفافہ بدینہ و مذھبہ۔
پس صورت مسئول عنہا میں چاروں مذاہب برحق ہیں اور امت اسلامیہ نے صدیوں سے نہ صرف ان کی حقانیت کو تسلیم کیا ہے بلکہ اس پر عمل پیرا ہے ۔ قرون اولی کے اکابر فقہاء و اجلہ محمدثین نے تقلید میں نجات کو پایا ہے ۔ اب کسی شخص کا اپنی دنیوی غرض و منفعت کیلئے اپنے مذہب کو ترک کرنا اور کسی جانور کو کھانے کیلئے دوسرے مذہب کو اختیار کرنا شرعاً مذموم ہے  اور اسلامی ملک ہو تو زجر و توبیخ و تعزیری سزا کا مستحق ہے ۔

مسجد اور طہارت خانہ کی تعمیر
سوال :  کیا جہاں نماز پڑھی گئی وہاں طہارت خانے بنائے جاسکتے ہیں یا وہ مقام ہمیشہ نماز ہی کیلئے رہے گا ۔ایک مسجد کی تنگی کی وجہ نماز پڑھی جاتی تھی، اب مسجد کو کشادگی کی بناء وہاں طہارت خانے بنائے گئے ہیں۔ برائے کرم جواب دیں تاکہ مسجد کی کمیٹی کی رہبری ہوسکے ؟
خالد پرویز خان، فرسٹ لانسر
جواب :  مسجد تا قیامت مسجد رہے گی ، اب اس پر نماز کے علاوہ کسی دوسرے مقصد میں اس کا استعمال شرعاً درست نہیں۔ البتہ مسجد میں تنگی کی وجہ سے نماز کے لئے متعینہ حصے کے علاوہ مسجد کی متصلہ اراضی پر یا صحن مسجد میں نماز ادا کی گئی ہو تو اس متصلہ اراضی یا صحن مسجد میں امام مؤذن کے لئے کمرے یا طہارت خانہ بنانا شرعاً جائز ہے۔
درمختار برحاشیہ رد المحتار جلد 1 ، کتاب الصلاۃ میں ہے : و کرہ تحریما الوط ء فوقہ والبول والتغوط لانہ مسجد الی عنان السماء ۔ رد المحتار میں ہے : و کذا الی تحت الثری (و اتخاذہ طریقا بغیر عذر) و صرح فی القنیۃ لفسقہ با عتبارہ (وادخال نجاسۃ فیہ و علیہ)
لہذا نماز کے لئے مختص حصے میں بوقت توسیع طہارت خانہ بنانا شرعاً مکروہ تحریمی ہے اور اگر وہ اراضی مسجد سے متصل ہو یا صحن مسجد میں ہو لیکن تنگی کی وجہ اس میں نماز ادا کی گئی ہو تو شرعاً متصلہ اراضی یا صحن مسجد میں طہارت خانہ بنانا درست ہے۔

نو مسلم بیوی کا عیسائیت قبول کرنا
سوال :  میرے عزیز نے ایک عیسائی لڑکی ہندہ کو مسلمان بناکر اس سے اسلامی طریقہ پر عقد نکاح کیا ۔ باضابطہ سیاہہ جات مرتب ہوئے ۔ بعد ازاں وہ لڑکی مرتد ہوگئی ۔ اپنے عیسائی مذہب کو قبول کرلی۔ کیا اس سے نکاح باقی ہے یا نہیں ؟
محمد خلیل، ایرہ کنٹہ
جواب :  صورت مسول عنھا میں ہندہ نصرانی مذہب قبول کرنے سے مرتد ہوگئی اور بغیر طلاق کے اس کا نکاح ختم ہوگیا۔ فتاوی تاتار خانیہ ج 4 ص : 177 نوع منہ فی نکاح المرتد میں ہے : اذا ارتد أجدالزوجین وقعت الفرقۃ بینھما فی الحال ھذا جواب ظاہرالروایۃ 178 میں ہے ۔ و تکون ھذہ فرقۃ بغیر طلاق عندأ بی حنیفۃ و أبی یوسف (رحمھما اللہ) البتہ شوہر کو چاہئے کہ اس (ہندہ) کو ترغیب دیکر پھر اسلام کی طرف لانے کی کوشش کرے اگر وہ دوبارہ اسلام قبول کرے تو آپ کے اس سے دوبارہ نکاح کرلے۔
مرتدہ نصرانیہ اگر وہ ارتداد پر باقی رہے تو کسی کو بھی اس سے نکاح کی اجازت نہیں ۔نہ کسی مرتد کو نہ کسی مسلم کونہ ہی کسی اور کو ۔ عالمگیری جلد اول ص : 282 میں ہے: ولا یجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولا مسلمۃ ولا کافرۃاصلیۃ و کذلک لایجوز نکاح المرتدۃ مع أحد کدا فی المبسوط ۔

سسرال والوں کی خدمت
سوال :   میں ضلع میں رہتی ہوں، میری شادی ہوکر (5) سال کا عرصہ ہوا ، سسرال میں مجھے بہت تکلیف ہے، ساس خسر کی خدمت کرتی ہوں۔ اس کے باوجود مجھے ستایا جاتا ہے ۔ شوہر کے بھائی بہنوں کے کام مجھے ہی کرنے پڑتے ہیں، آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ  بیوی پر شوہر کے ماں باپ اور بھائی بہنوں کی خدمت ازروئے شرع لازم ہے یا نہیں؟ نیز شوہر کے والدین اور بہنوں بھائیوں کے ساتھ کشیدگی کی صورت میں بیوی علحدہ رہائش کا مطالبہ کرسکتی ہے یا نہیں ؟ کیا شوہر اپنی بیوی کو نازیبا و ناشائستہ الفاظ میں مخاطب کرسکتا ہے یا زد و کوب کرسکتا ہے ؟
امۃ الکریم، خلوت
جواب :  شوہر کے ماں باپ کی خدمت شوہر پر واجب ہے، اس کی بیوی پر نہیں۔ اگر بیوی شوہر کے ماں باپ کی خدمت کرتی ہے تو یہ حسن سلوک ہے، اور بیوی خوشدلی سے ساس خسر کی خدمت کرتی ہے تو وہ آخرت میں اجر و ثواب کی حقدار رہے گی ۔ تاہم بیوی کو ساس خسر کی خدمت پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔ شوہر کے بھائی بہن کی خدمت بیوی (بھاوج) پر لازم نہیں۔ شوہر کو چاہئے کہ وہ بیوی کیلئے ایسی رہائش کا انتظام کرے جہاں شوہر اور بیوی دونوں کے افراد خاندان نہ ہوں اور اگر شوہر اپنے ماں باپ بھائی بہن کے ساتھ بیوی کو رکھتا ہے اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو بیوی علحدہ رہائش فراہم کرنے کا مطالبہ کرسکتی ہے ۔ البتہ شوہر مشترکہ گھر میں ایک علحدہ کمرہ مع قفل و کنجی بیوی کو دے دیتا ہے تو پھر بیوی کو علحدہ مکان کے مطالبہ کا حق نہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ۔ خیر کم خیر کم لأھلہ : تم میں بہترین وہ شخص ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہتر ہو اس لئے شوہر کو بیوی کے ساتھ پیار و محبت اور حسن سلوک سے رہنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے و عاشر وھن بالمعروف ۔ تم بیویوں کے ساتھ حسن معاشرت سے پیش آؤ ۔ البتہ بیوی نافرمان ہو تو شوہر کو تنبیہ کا حق ہے ۔ مغلظات استعمال کرنے اور سخت زد و کوب کا حق نہیں۔

TOPPOPULARRECENT