Thursday , December 14 2017
Home / دنیا / فحش فلموں کے مضر اثرات کے خلاف امریکی ریاست کی قانون سازی

فحش فلموں کے مضر اثرات کے خلاف امریکی ریاست کی قانون سازی

یوٹاہ۔20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) یوٹاہ، امریکہ کی وہ پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں ’’پورنوگرافی‘‘ یا فحش مواد کو عوامی صحت کیلئے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ریاست کے گورنر کا کہنا ہے کہ خاندانوں اور نوجوانوں کو پورنوگرافی سے بچانے کی ضرورت ہے اور قانون اسی سلسلے میں پیش کیا گیا ہے۔تاہم اس قانون کے تحت ریاست میں پورنوگرافی پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے بلکہ کہا گیا ہے کہ اس کی لت لگنے سے بچاؤ اور کم عمر افراد کو اس سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ بالغان کی تفریحی صنعت کے نمائندہ ایک گروپ نے اس قانون کو ’فرسودہ اخلاقیات کا قانون‘ قرار دیا ہے۔مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ پورنوگرافی ’جنسی طور پر زہریلا ماحول‘ پیدا کرنے کی وجہ بنتی ہے اور لڑکوں اور لڑکیوں یہاں تک کہ کمسن بچوں میں جنسی جذبات ابھارنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر گیری ہربرٹ نے اس مسودہ قانون پر دستخط کیے اور اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں پورنوگرافی کی شرح ’حیران کن حد تک زیادہ‘ ہے۔سنہ 2009 میں ہارورڈ بزنس سکول کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ یوٹاہ وہ ریاست ہے جہاں انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھنے والے افراد کی شرح امریکہ میں سب سے زیادہ ہے۔پورن انڈسٹری کی ایک تنظیم فری اِسپیچ کوالیشن نے اس معاملے پر مزید بحث پر زور دیا ہے۔گروپ کے ترجمان مائیک سٹیبائل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمیں ایک ایسے معاشرے میں رہنا چاہیے جہاں جنس کے بارے میں کھلے عام، علمی مذاکرے ہونی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT