Monday , August 20 2018
Home / دنیا / فحش مواد معاملہ : برطانوی نائب وزیر اعظم برطرف

فحش مواد معاملہ : برطانوی نائب وزیر اعظم برطرف

لندن، 21دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے پارلیمانی دفتر کے کمپیوٹر میں فحش مواد پائے جانے کے معاملے میں گمراہ کن معلومات فراہم کرنے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے نائب وزیر اعظم ڈیمین گرین کو برطرف کر دیا ہے ۔ اس واقعہ پر کافی شوروغل ہوا تھا اور مسٹر ڈیمیئن نے ان الزامات سے انکار کیا تھا لیکن بعد میں پورے معاملے کی جانچ میں پتہ چلا کہ انہوں نے اس کے بارے میں گمراہ کن معلومات دی تھیں۔ مسٹر ڈیمیئن نے وزیر اعظم کو لکھے گئے مکتوب میں کہا ہے کہ انہوں نے وہ فحش مواد نہیں دیکھا ہے لیکن یہ بھی تسلیم کیا کہ اس بارے میں گمراہ کن معلومات دی ہے کہ پولیس نے ہی انہیں اس کے بارے میں اطلاع دی تھی۔ اخبار دی انڈیپینڈنٹ نے اپنی رپورٹ میں ان کے حوالے سے کہا کہ میں قبول کرتا ہوں کہ مجھے پریس میں دیے گئے اپنے بیان کے بارے میں واضح کرنا چاہیے تھا کہ پولیس کے وکیل نے کمپیوٹر میں فحش مواد کے بارے میں میرے وکیل سے 2008 میں بات چیت کی تھی اور 2013 میں پولیس نے ٹیلی فون بات چیت میں میرے سامنے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔کابینہ آفس کے اندرونی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ اور 14 نومبر کو مسٹر گرین نے بیان دیا تھا کہ 2008 کے چھاپے کے دوران پولیس نے جو فحش مواد برآمد کیا تھا، انہیں اس کی کوئی معلومات نہیں تھی، یہ بیان مکمل طور مبہم اور غیر حقیقی ہے۔اس کے بعد انہوں نے قبول کیا تھا کہ انہوں نے گمراہ کن بیان دیا تھا لیکن اس بات سے انکار بھی کیا تھا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے اپنے کمرے میں کمپیوٹر میں اس مواد کو ڈاون لوڈ کیا تھا یا اسے دیکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ الزام بے بنیاد ہے ۔دراصل اس معاملے میں تحقیقات کا حکم اس وقت دیا گیا، جب ان کی عمرسے 30 سال چھوٹی خاتون کیٹ مالٹبي نے الزام لگایا تھا کہ مسٹر ڈیمیئن نے سال 2015 میں واٹر لو کے ایک پب میں ان کے گھٹنے کو چھوا تھا اور اس کے ایک سال بعد اخبار میں شائع کیٹ کی تصویر کو لے کر ایک پیغام بھیجا تھا۔ وزیر اعظم کو بھیجے گئے اپنے استعفیٰ نامہ میں انھوں نے کہا کہ وزراء کے دفتر کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پروہ معذرت خواہ ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT