Tuesday , January 23 2018
Home / Top Stories / فرانسیسی جریدے میں پھر گستاخانہ خاکے کی اشاعت، عالم اسلام میںغم و غصہ

فرانسیسی جریدے میں پھر گستاخانہ خاکے کی اشاعت، عالم اسلام میںغم و غصہ

پیرس16 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) فرانسیسی جریدے نے دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر توہین آمیز خاکے شائع کردیے۔ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد عالم اسلام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، چارلی ہیبدو نے گذشتہ روز گستاخانہ خاکوں پر مبنی7لاکھ کاپیوں کی اشاعت کی، یہ گذشتہ ہفتے میگزین کے دفتر پر حملے کے بعد پہلی اشاعت تھی۔ فرانسی

پیرس16 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) فرانسیسی جریدے نے دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر توہین آمیز خاکے شائع کردیے۔ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد عالم اسلام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، چارلی ہیبدو نے گذشتہ روز گستاخانہ خاکوں پر مبنی7لاکھ کاپیوں کی اشاعت کی، یہ گذشتہ ہفتے میگزین کے دفتر پر حملے کے بعد پہلی اشاعت تھی۔ فرانسیسی شہریوں کی بڑی تعداد نے لائنوں میں لگ کر میگزین کی خریداری کی اور کاپیاں کم پڑ گئیں۔ جریدے کی انتظامیہ نی توہین آمیز خاکوں پر مبنی مزید 50 لاکھ کاپیوں کی اشاعت کا اعلان کردیا۔ یہ کاپیاں انگریزی اور عربی سمیت 16 زبانوں میں شائع کی جائیں گی جو دنیا بھر کے 25ممالک میں فروخت ہوں گی۔

دوسری جانب دنیا بھر میں مسلمانوں نے فرانسیسی میگزین کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا جبکہ آسٹریلیا اور امریکہ نے آزادی اظہار رائے کے نام پر گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر جریدے کی حمایت کردی۔ ترکی کے سیکولر اخبار نے چارلی ہیبدو کی جانب سے شائع کردہ توہین آمیز خاکے شائع کردیے۔ ترک اخبار جمہوریت نے اپنے چار صفحات کو چارلی ایبڈو کے آرٹیکلز اور توہین آمیز خاکوں کے لئے مختص کر رکھا تھا۔ پولیس نے اخبار کی سیکورٹی سخت کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اور ترک اخبار نے بھی توہین ؑآمیز خاکے شائع کرنے کی کوشش کی تاہم اسے روک دیا گیا۔ ترک عدالت نے چارلی ہیبدو کے خاکے شائع کرنے والی تمام ویب سائٹس بلاک کردیں۔ فلپائن میں ہزاروں مسلمانوں نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے خلاف شدید احتجاجی ریلی نکالی۔ احتجاج میں نوجوان طلبہ اور خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر منتظمین کا کہنا تھا کہ چارلی ایبڈو پر حملے سے دنیا کو اسلام سمیت تمام مذاہب کا احترام کرنا سیکھنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کا مقصد یہ نہیں کہ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی جائے۔ایران، سعودی عرب، ترکی ، مصر سمیت دنیا بھر میں مسلم تنظیموں اور اداروں نے توہین آمیز خاکے شائع کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

مصر کی تاریخی دانش گاہ جامعہ الازہر نے کیا ہے کہ فرانسیسی ہفت روزہ چارلی ایبڈو میںتوہین آمیز خاکوں کی اشاعت سے نفرت ہی کو تقویت ملے گی۔جامع الازہر نے کہا ہے کہ توہین آمیز خاکوں سے شان رسالت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ جامع الازہر سے جاری بیان میں مسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان گستاخانہ خاکوں کو نظر انداز کریں۔ مصر کی سرکاری اتھارٹی دارالافتاء نے بھی گستاخانہ خاکوں کو اشتعال انگیز قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔ مصر میں قبطی عیسائیوں کے پیشوا ٹاواڈورز دوئم نے بھی گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ایران اور ترکی نے بھی توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر شدید احتجاج کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ چارلی ایبدو کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اشتعال انگیز ہے۔

TOPPOPULARRECENT