Wednesday , September 19 2018
Home / دنیا / فرانسیسی جہادی گروپ کیخلاف کارروائی میں چار گرفتاریاں

فرانسیسی جہادی گروپ کیخلاف کارروائی میں چار گرفتاریاں

پیرس، 2 جون (سیاست ڈاٹ کام) چار افراد کو آج فرانسیسی جہادی رکروٹرز کے خلاف کارروائی میں گرفتار کرلیا گیا، اس ملک کے اعلیٰ سکیورٹی عہدہ دار نے ایک روز بعد یہ بات کہی جبکہ حکام نے یہودی میوزیم میں پیش آئی مہلک شوٹنگ میں ایک مشتبہ فرانسیسی کو حراست میں لینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایسے وقت ہوئی ہیں جبکہ تحقیقات کاروں نے ایک مشتبہ

پیرس، 2 جون (سیاست ڈاٹ کام) چار افراد کو آج فرانسیسی جہادی رکروٹرز کے خلاف کارروائی میں گرفتار کرلیا گیا، اس ملک کے اعلیٰ سکیورٹی عہدہ دار نے ایک روز بعد یہ بات کہی جبکہ حکام نے یہودی میوزیم میں پیش آئی مہلک شوٹنگ میں ایک مشتبہ فرانسیسی کو حراست میں لینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایسے وقت ہوئی ہیں جبکہ تحقیقات کاروں نے ایک مشتبہ فرانسیسی جہادی سے تفتیش کی، جس نے شام میں وقت گزارا ہے۔ مہدی نیموشے کو بلجیم کے میوزیم میں تین افراد کی موت کے سلسلے میں جمعہ کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اُس نے آتشیں اسلحہ، گولہ بارود اور ایک ویڈیو رکھتے ہوئے 24 مئی کے حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

فرانسیسی وزیر داخلہ برنارڈ کازینیوو نے کہا کہ مہدی کو فرانسیسی سرزمین پر قدم رکھنے کے چند منٹوں میں کسٹمز چیکنگ کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔ مغربی حکومتیں اس تعلق سے مسلسل چوکس ہیں کہ شام سے جنگجو لوٹ رہے ہیں، جن میں سے کئی کٹرپسند بن چکے ہیں اور انھیں نئی نئی باتیںمعلوم ہوئی ہیں اور ہتھیاروں سے بھی ہم آہنگ ہوگئے ہیں۔ ان کی تعداد مسلسل بدلتی رہتی ہے، لوگ ترکی سے یورپی پاسپورٹس کے ساتھ آزادانہ طور پر سرحد عبور کرلیتے ہیںاور بڑی آسانی سے وطن واپس ہوجاتے ہیں۔ شام تک اُن کا سفر بھی آسان تر بنتا جارہا ہے کیونکہ رکروٹرز کے نٹ ورکس اُن کے سفری انتظامات اور ٹریننگ کی بھی ذمے داری سنبھال لیتے ہیں جب ممکنہ جنگجو سرحد عبور کرکے خانہ جنگی کے شکار ملک میں گھستے ہیں۔

آج کی گرفتاریاں جن کے بارے میں پراسکیوٹرز کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی یہودی میوزیم میں شوٹنگس سے مربوط نہیں ہے، کچھ اس طرح نٹ ورک ہے جو وزیر داخلہ نے کہا کہ پیرس خطہ اور فرانس کے جنوب میں سرگرم ہے۔ انھوں نے یورپ کے ریڈیو اسٹیشن کو بتایا کہ ہم دہشت گردوں کو کوئی موقع نہیں دیں گے۔ ممکنہ طور پر 1,000 اور 1,500 کے درمیان یورپی موجودہ طور پر شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف لڑ رہے ہیں، یہ بات چارلس لیسٹر نے کہی، جو بروکنگس دوحہ سنٹر سے وابستہ تجزیہ نگار ہیں، جو حکومتوں اور دیگر ذرائع سے مواد حاصل کرتا ہے۔ یہ ہنوز معلوم نہیں کہ آیا یہودی میوزیم پر حملہ کی ہدایت شام کے اندرون سے آئی یا یہ محض کوئی انفرادی کارروائی ہوئی۔ ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ شام کے کٹرپسند مسلم باغی گروپس اپنی لڑائی کو وسعت دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ فرانسیسی پراسکیوٹرز نے کہا کہ مہدی نے ابھی تحقیقات کاروں کے سامنے لب کشائی نہیں کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT