Wednesday , October 17 2018
Home / دنیا / فرانسیسی صدر کی ریاض میں سعودی ولیعہد سے اچانک ملاقات

فرانسیسی صدر کی ریاض میں سعودی ولیعہد سے اچانک ملاقات

امریکہ کی مخالفت کے باوجود ایرانی نیوکلیئر معاہدہ کی تائید، صورتحال پر تبادلہ خیال
ریاض ۔ 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) فرانسس کے صدر ایمینول میکرون نے لبنان و یمن کے بحرانوں پر تہران و ریاض کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سعودی عرب کے انتہائی بااثر ولیعہد سے آج یہاں ملاقات کی۔ میکرون کا بحیثیت فرانیسی صدر یہ پہلا دورہ مشرق وسطیٰ ہے، جس کے پہلے مرحلے میں ولیعہد محمد بن سلمان سے دوبہ دو بات چیت کے لئے متحدہ عرب امارات سے یہاں پہنچے۔ محمد بن سلمان نے اس مملکت میں حال ہی میں رشوت کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے، جس کے نتیجہ میں کئی شہزادوں، وزراء، سابق وزراء اور دیگر اہم شخصیات کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے اثاثے منجمد کئے جاچکے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کے وزیراعظم سعدالحریری کے ریاض میں استعفیٰ کے اعلان اور دارالحکومت پر مبینہ حوثی باغیوں کے ناکام میزائل حملہ کے بعد دو دیرینہ علاقائی حریفوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان چھڑنے والی لفظی جنگ سے صورتحال مزید تشویشناک ہوگئی ہے۔ میکرون نے اپنے دورہ سعودی عرب کے آغاز سے قبل دبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں نے سنا ہیکہ ایران کے خلاف سعودی عرب کی طرف سے بعض امور پر انتہائی سخت موقف کیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بقائے امن میں فرانس کا بھی رول رہا ہے اور تمام فریقوں سے بات چیت کرنا ضروری ہے۔ ریاض ایرپورٹ پر ہفتہ کو ہوئے ناکام میزائیل حملے کے بعد ایرانی تائید بافند حوثیوں نے ذمہ داری قبول کی تھی اور سعودی عرب نے ایران پر ’’راست جارحیت‘‘ کا الزام عائد کیا تھا۔

 

تاہم ایران نے حوثیوں کو میزائیل سربراہ کرنے کے الزام کی تردید کی تھی اور سعودی عرب کو ’’اپنی طاقت‘‘ سے خبردار کیا تھا، جس کے بعد اس علاقہ کی ان دو بڑی طاقتوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی۔ سعودی خبر رساں ادارہ ایس پی اے کے مطابق فرانسیسی صدر نے ریاض پر حوثیوں کے میزائل حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس پوری طرح مملکت (سعودی عرب) کے ساتھ ہے۔ ایس پی اے نے مزید کہا کہ دونوں قائدین نے مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال اور اس علاقہ میں سلامتی و استحکام کیلئے اپنی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا، جس میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں مشترکہ رابطہ بھی شامل ہے۔ میکرون نے ایران کے بارے میں اصرار کے ساتھ کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود وہ 2015ء کے تاریخی نیوکلیئر سمجھوتہ کی تائید کرتے ہیں۔ لبنان فرانس کا سابق نوآبادی ملک ہے اس کے وزیراعظم رفیق الحریری کے ہفتہ کو ریاض میں استعفیٰ کے ڈرامائی اعلان کے بعد لبنان اب ایران اور سعودی عرب کے مابین طاقت آزمائی اور رسہ کشی کا تازہ ترین محاذ بن گیا ہے۔ لبنان اور دیگر ذرائع شبہ ظاہر کررہے ہیں کہ رفیق حریری کو سعودی عرب میں غیرمعلنہ یرغمال بنا لیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT