Wednesday , January 17 2018
Home / دنیا / فرانسیسی طولوس کے جہادی کی بہن پر شام پہنچنے کا شْبہ

فرانسیسی طولوس کے جہادی کی بہن پر شام پہنچنے کا شْبہ

پیرس ۔ 23 مئی (سیاست ڈاٹ کام) فرانس کے وزیرداخلہ برنارڈ کازینیوو کا کہنا ہے کہ دوسال قبل طولوس میں سات افراد کو ہلاک کرنے والے نوجوان محمد مراح کی بڑی بہن ملک سے چلی گئی ہے اور وہ ممکنہ طور پر شام میں جاری لڑائی میں شریک ہے۔ فرانسیسی حکام کو 35 سالہ سواد مراح کے لاپتا ہونے کا مارچ میں پتا چلا تھا۔تب اس خاتون کے بچے جس اسکول میں زیر تعلیم

پیرس ۔ 23 مئی (سیاست ڈاٹ کام) فرانس کے وزیرداخلہ برنارڈ کازینیوو کا کہنا ہے کہ دوسال قبل طولوس میں سات افراد کو ہلاک کرنے والے نوجوان محمد مراح کی بڑی بہن ملک سے چلی گئی ہے اور وہ ممکنہ طور پر شام میں جاری لڑائی میں شریک ہے۔ فرانسیسی حکام کو 35 سالہ سواد مراح کے لاپتا ہونے کا مارچ میں پتا چلا تھا۔تب اس خاتون کے بچے جس اسکول میں زیر تعلیم تھے،اس نے حکام کو مطلع کیا تھا کہ وہ گذشتہ کئی روز سے اسکول میں نہیں آرہے ہیں۔فرانسیسی وزیرداخلہ نے یورپ 1 ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے’’

یہ ایک مضبوط شْبہ ہے کہ وہ شام میں ہے‘‘۔ سواد مراح کے چار بچے ہیں اور ان کی عمریں نوماہ سے چودہ سال کے درمیان ہیں۔فرانسیسی ذرائع کے مطابق وہ مئی کے آغاز میں طولوس سے سپین کے شہر بارسلونا کے لیے روانہ ہوئی تھیں اور چار بچے بھی ان کے ہمراہ تھے۔ برنارڈ کازینیوو کے بہ قول وہ 9 مئی کو بارسلونا سے پرواز کے ذریعے ترکی کے شہر استنبول چلی گئی تھیں اور اسی روز وہاں سے ایک اور پرواز سے شام کی سرحد کے نزدیک واقع ترک شہرغازیان تیپ چلی گئی تھیں۔سواد مراح کو اپریل میں اس شْبے میں حراست میں لیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے 23 سالہ بھائی کو مارچ 2012ء میں فائرنگ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے آشیرباد دی تھی۔واضح رہے کہ اس الجزائری نڑاد فرانسیسی نوجوان نے فائرنگ کرکے تین فرانسیسی فوجیوں اور چار یہودیوں کو ہلاک کردیا تھا۔اس کے بعد وہ ایک اپارٹمنٹ میں چْھپ گیا تھا جہاں پولیس نے کئی گھنٹے کے محاصرے کے بعد اس کو ہلاک کردیا تھا۔

پولیس کے ہاتھوں مراح کی موت کے بعد یہ پتا چلا تھا کہ وہ القاعدہ سے متاثر تھا اور وہ حملے سے قبل پاکستان اور افغانستان جاچکا تھا۔وہ فرانسیسی سراغرساں ادارے کے راڈار پر تھا لیکن یہ ادارہ اس سے درپیش خطرے کا درست اندازہ کرنے میں ناکام رہا تھا۔ وزیرداخلہ برنارڈ کازینیوو نے اسی ماہ کے آغاز میں ایک بیان میں بتایا تھا کہ اس وقت دوسوپچاسی فرانسیسی شہری شام میں جاری لڑائی میں شریک ہیں حالانکہ لوگوں کو خانہ جنگی کا شکار ملک میں جانے اور جہاد کے لیے ان کی آن لائن بھرتی کو روکنے کے لیے فرانسیسی حکومت نے خاطرخواہ اقدامات کیے ہیں۔
مگر اس کے باوجود فرانسیسی نوجوانوں کی اتنی زیادہ تعداد میں شام میں جاری خانہ جنگی میں شرکت پر فرانس میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ شام سے واپسی پر یہ لوگ ملک کے لیے سکیورٹی خطرے کا سبب بن سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT