Tuesday , June 19 2018
Home / دنیا / فرانس میں مشتبہ افراد کی تلاش جاری‘ مخالف دہشت گردی جلوس کی تیاری

فرانس میں مشتبہ افراد کی تلاش جاری‘ مخالف دہشت گردی جلوس کی تیاری

پیرس۔ 11؍جنوری (سیاست ڈاٹ کام)۔ فرانس نے عہد کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرے گا۔ چنانچہ آج اتحاد کے لئے ایک زبردست جلوس ’صدائے آزادی‘ منظم کیا گیا ہے۔ تین دن کی خونریزی کے بعد جس نے پوری دُنیا کو دہشت زدہ کردیا تھا، پولیس القاعدہ سے تحریک حاصل کرنے والے تین حملہ آوروں سے روابط رکھنے والی مشتبہ خاتون کی تلاش کررہی ہے، لیکن ایک ترک

پیرس۔ 11؍جنوری (سیاست ڈاٹ کام)۔ فرانس نے عہد کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرے گا۔ چنانچہ آج اتحاد کے لئے ایک زبردست جلوس ’صدائے آزادی‘ منظم کیا گیا ہے۔ تین دن کی خونریزی کے بعد جس نے پوری دُنیا کو دہشت زدہ کردیا تھا، پولیس القاعدہ سے تحریک حاصل کرنے والے تین حملہ آوروں سے روابط رکھنے والی مشتبہ خاتون کی تلاش کررہی ہے، لیکن ایک ترک عہدیدار نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شام فرار ہوچکی ہے۔ آج کا جلوس زبردست صیانتی چیلنج تھا۔ علاوہ ازیں زیادہ تشدد کے لئے چوکس کرنے والا تھا جب کہ 17 افراد گزشتہ تین دن کے حملوں میں تین بندوق برداروں کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے ہیں۔ ایک طنزیہ ہفتہ وار، ایک کوشیر سوپر مارکٹ اور پولیس پر حملے کئے گئے تھے جس کے نتیجہ میں 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور فرانس ایک تبدیل شدہ سرزمین بن گئی تھی۔

لاکھوں افراد نے تولوس شہر سے لے کر مغربی فرانس کے شہر رینیس تک زبردست جلوس نکالا تاکہ مہلوکین کا عقیدت پیش کیا جاسکے۔ فرانس کو توقع ہے کہ مزید لاکھوں افراد اتوار کے اتحاد جلوس میں شرکت کریں گے۔ 2,000 سے زیادہ ملازمین پولیس تعینات کئے گئے ہیں۔ لاکھوں ملازمین پولیس پہلے ہی سے صومعوں (یہودی عبادت گاہوں)، مسجدوں، اسکولوں اور دیگر مقامات کی ملک گیر سطح پر حفاظت کررہے ہیں۔ انتہا پسندی کے خلاف اتحاد اتوار کے جلوس کا زبردست پیغام ہے۔ توقع ہے کہ جلوس میں وزیراعم اسرائیل اور صدر فلسطین، صدر یوکرین اور وزیر خارجہ روس، برطانیہ، جرمنی، ناٹو، عرب لیگ، افریقی ممالک اور فرانسیسی عوام شرکت کریں گے۔ اس جلوس میں سیاسی اور مذہبی قائدین کی ایک کہکشاں نظر آئے گی۔ اعلیٰ سطحی یوروپی اور امریکی صیانتی عہدیدار ایک خصوصی ہنگامی اجلاس منعقد کررہے ہیں جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر غور کیا جائے گا۔

فلسطینیوں کے اسلامی گروپ حماس نے آج فرانسیسی طنزیہ ہفتہ وار رسالہ شارلی ہیبدو پر حملے اور 12 افراد کی ہلاکتوں کی مذمت کی۔ رسالہ کے دفتر پر دو فرانسیسی حملہ آوروں نے حملہ کیا تھا۔ فرانسیسی زبان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس شارلی ہیبدو رسالہ کے خلاف حملہ کی مذمت کرتا ہے اور اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ اختلافِ رائے و اختلافِ فکر قتل کا جواز نہیں ہوسکتے۔ حماس نے وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو کے تبصروں کو بھی مسترد کردیا جن میں انھوں نے پیرس کے حملہ کی حماس کے غزہ پٹی سے اسرائیل کے شہریوں پر راکٹ حملوں کا تقابل کیا تھا۔ حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس بے حِس حملوں کی جو ’فلاں فلاں‘ کی جانب سے کئے گئے مذمت کرتا ہے، نتن یاہو نے ہماری تحریک اور ہمارے عوام کی تحریک مزاحمت ’انتفاضہ‘ کا عالمی دہشت گردی سے تقابل کیا ہے۔ صدر فلسطین محمود عباس نے صدر فرانس فرینکوئی اولاند کو ٹیلی فون کرکے ان سے اظہار تعزیت کیا۔ وزیر خارجہ فلسطینی ریاض المالکی نے کہا کہ محمود عباس نے صدر فرانس کو تیقن دیا ہے کہ فلسطینی عوام اور قیادت اس دہشت گرد حملہ کے بعد فرانس کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ المالکی نے کہا کہ محمود عباس اتوار کے دن پیرس میں جلوس میں شرکت کرنے والے تھے، لیکن ان کی اپنے آبائی وطن میں موجودگی ضروری ہوگئی ہے

تاکہ ان بے رحم طوفانوں کا مقابلہ کرسکیں جنھوں نے فلسطینی سرزمینوں پر تباہی پھیلا رکھی ہے۔ المالکی نے کہا کہ فلسطینی مسلمانوں اور عیسائی مذہبی رہنماؤں کا ایک وفد عنقریب فرانس کا دورہ کرے گا اور آئندہ دنوں میں فرانس کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے گا۔ فلسطینی نجات دہندہ تنظیم نے رملہ میں کل دہشت گردی کے خلاف فرانس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ایک جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کابل سے موصولہ اطلاع کے بموجب جنوبی افغانستان میں سینکڑوں افراد نے جلوس نکالا جو فرانسیسی ہفتہ وار شارلی ہیبدو کے دفتر پر حملہ کرکے 12 افراد کو قتل کردینے والے دو بندوق برداروں کی ستائش کررہا تھا۔ ضلع چورا میں یہ مظاہرہ شورش زدہ صوبہ ارزوگان میں بعد نماز جمعہ مقامی مسجد سے نکالا گیا۔ اِمام زین الحق نے مصلیوں سے اپیل کی تھی کہ دو فرانسیسی حملہ آوروں کی تائید میں جلوس نکالا جائے۔ ایک احتجاجی نے انکشاف کیا کہ احتجاجی مظاہرین کارٹونسٹوں کو ہلاک کرنے والے حملہ آوروں کی ستائش کررہے تھے۔ صوبائی گورنر کے ترجمان دوست محمد نایاب نے کہا کہ احتجاجی مظاہرین نے صدر افغانستان اشرف غنی پر بھی تنقید کی جنھوں نے جمعرات کے دن فرانسیسی طنزیہ رسالہ پر حملہ کی مذمت کی تھی۔ احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک شخص نے صدر اشرف غنی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حملہ کا مذمتی بیان واپس لے لیں۔ اشرف غنی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بے بس لوگوں اور شہریوں کو ہلاک کرنا دہشت گردی کا ایک گھناؤنا جرم ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT