Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / فرانس کے شہر نائس میں ٹرک کا دہشت گرد حملہ، 84 ہلاک

فرانس کے شہر نائس میں ٹرک کا دہشت گرد حملہ، 84 ہلاک

آزادی کی علامت فرانس پر حملہ، صدر فرانس اولاند کا ٹی وی پر قوم سے خطاب، ویڈیو جھلکیوں میں گولیوں سے چلنی ٹرک
نائس۔15 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایک ٹرک جو فرانس کے تفریحی مرکز نائس میں ایک ہجوم میں گھس گیا تھا جبکہ یوم بیسٹل کے موقع پر آتش بازی کا مظاہرہ کیا جارہا تھا۔ ڈرائیور کو گولی مارکر ہلاک کردیا گیا جبکہ ٹرک کی زد میں آکر دو افراد جو ہجوم میں موجود تھے، ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ پیرس شہر پرامی نیڈ ڈیس اینڈلائس میں جس میں سڑک کی دونوں جانب کھجور کے درختوں کی خطار ہے، پیش آیا۔ دہشت زدہ سینکڑوں افراد اس علاقہ سے فرار ہونے لگے اور انہوں نے فرار ہونے کے دوران نعشوں کو کچل دیا۔ عہدیداروں کے بموجب انہیں شناختی کاغذات ایک 31 سالہ فرانسیسی نژاد تیونسی شہری کے دستیاب ہوئے ہیں۔ جو ٹرک میں موجود تھے۔ کاغذات کے علاوہ ٹرک میں بندوقیں اور بڑے ہتھیار بھی دستیاب ہوئے۔ یہ حملہ بلا شک و شبہ دہشت گرد حملہ تھا۔ اداس نظر آنے والے صدر فرانس فرانکوئی اولاند نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے توثیق کی کہ مہلوکین میں کئی بچے بھی شامل ہیں کیوں کہ تمام ارکان خاندان فرانس کا قومی دن منانے ایک جگہ جمع ہوگئے تھے۔ یوم بیسٹل خونریز دن ثابت ہوا۔ ہر چیز جو فرانس کو عزیز ہے، اس کی سکیولر جمہوریہ اور آزادی، مساوات اور اخوت کی اقدار آج مسخ ہوگئیں۔ صدر فرانس نے کہا کہ حملہ آور ایک دن قبل پیرس میں بھی موجود تھا جہاں فوجی پریڈ اور تقریب کے موقع پر جو پیرس میں منائی گئی تھی، جس میں مسلح افواج دبابے اور لڑاکا طیارے موجود تھے اور کم بلندی پر پرواز کررہے تھے۔ آتش بازی کا بھی مظاہرہ کیا گیا تھا۔ فرانس پر اس کے قومی دن حملہ کیا گیا ہے جبکہ فرانس آزادی کی علامت ہے۔

اس لئے یہ حملہ آزادی پر بھی کیا گیا، سمجھا جاسکتا ہے۔ ایک تصویر میں ٹرک کے اگلے حصہ کو گولیوں سے چلنی اور بری طری تباہ شدہ دیکھا جاسکتا ہے اس کے ٹائر پھٹ گئے تھے۔ واحد گڑیا جو اس میدان میں الگ تھلگ پڑی ہوئی تھی جہاں صرف چند گھنٹے قبل تقریب منانے کے لئے خاندان جمع ہوگئے تھے۔ ایک اخباری نمائندے نے دیکھا کہ سفید رنگ کا ٹرک تیز رفتار سے ہجوم میں گھس گیا۔ ویڈیو جھلکی میں لوگوں کو ٹکر ہوتے ہوئے اور انہیں زمین پر بکھرے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اخباری نمائندے نے اپنے چہرے کو ملبے کے اڑتے ہوئے ٹکڑوں سے بچانے کے لئے چھپالیا تھا۔ وزیر داخلہ برنارڈ کیون ڈراپ نے کہا کہ مقام واردات پر موجود اخباری نمائندوں کے بموجب ہلاکتوں کی تعداد 84 ہے۔ کئی افراد زخمی ہیں جن میں سے 18 کی حالت تشویشناک ہے۔ یہ فرانس پر 18 ماہ کے اندرتیسرا حملہ ہے۔ ایک مخالف دہشت گردی تہذیبی تنظیم کے بموجب انسداد دہشت گردی تحقیقات کنندے مصروف تحقیقات ہیں۔ یہ واقعہ دولت اسلامیہ کے پیرس میں حملوں کے 8 ماہ بعد پیش آیا ہے۔ رات کے وقت جشن کے مقامات پر دولت اسلامیہ کے حملوں سے 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور سیاحوں کی آمد بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ صدر امریکہ بارک اوباما نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حولناک دہشت گرد حملہ معلوم ہوتا ہے۔ کسی بھی گروپ نے حملہ کی ذمہ داری تاحال قبول نہیں کی ہے۔ اولاند نے اعلان کیا کہ وہ فرانس میں ہنگامی حالات کا تین ماہ کے لئے اعلان کررہے ہیں کیوں کہ دہشت گرد حملوں کے سلسلہ کا تازہ ترین حملہ کیا گیا ہے اور حکومت شام اور عراق میں جہادیوں کے خلاف کارروائی میں شامل ہے۔ انہوں نے محفوظ فوج کا دستہ بھی طلب کرلیا ہے تاکہ اندرون ملک صیانتی خدمات کو مزید مستحکم کیا جاسکے۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب دہشت گرد حملہ کے متاثرین میں کوئی ہندوستانی شامل نہیں ہے۔ فرانس میں ہندوستانی سفیر نائس میں مقیم ہندوستانی برادری سے مسلسل ربط برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ مہلوکین میں کوئی ہندوستانی شامل نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیرس میں ہندوستانی سفارتخانے پر ایک ہیلپ لائن قائم کردی گئی ہے۔
نائس حملہ پر اقوام متحدہ ، ہندوستان اور مسلم ممالک کی مذمت

اقوام متحدہ۔15 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ، علمائے دین اور خلیج کے مسلم ممالک نے آج فرانس میں بربریت انگیز اور بزدلانہ دہشت گرد حملہ کی مذمت کی جس میں کم از کم 84 افراد بشمول بچے ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے کہا کہ حملہ کے خاطیوں کو انصاف کے کٹہرے میں جلد از جلد کھڑا کیا جانا چاہئے۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ دہشت گردی تمام بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لئے ایک سنگین خطرہ ہیں۔ قاہرہ سے موصولہ اطلاعات کے بموجب نامور علمائے دین اور عرب قائدین فرانس میں ٹرک دہشت گرد حملے کی مذمت میں شامل ہوگئے۔ مصر کے اعلی ترین عالم دین شاکی عالم نے حملہ کی مذمت کی اور کہا کہ اسلام کبھی بھی خونریزی کی اجازت نہیں دیتا۔ چھ خلیجی عرب ممالک نے ایک مشترکہ سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے دہشت گرد کارروائی کی شدت سے مذمت کی۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب ہندوستانی قائدین بشمول صدر جمہوریہ پرنب مکرجی، وزیراعظم نریندر مودی، صدر کانگریس سونیا گاندھی نے فرانس میں دہشت گرد حملہ کی شدت سے مذمت کرتے ہوئے اسے منصوبہ بند حملہ قرار دیا جس کا مقصد بے قصور عوام بشمول بچوں کو ہلاک کرنا تھا تاکہ عوام دہشت گردی کی طاقت سے مرعوب ہوجائیں۔
نریندر مودی نے کہا کہ یہ اندھادھند تشدد ہے جس سے ہندوستان درد میں مبتلا ہوگیا ہے۔ اس المناک مرحلہ میں ہندوستان پوری طرح فرانس کے ساتھ ہے۔ صدر جمہوریہ ہند پرنب مکرجی جو سرکاری دورے پر ڈارجلنگ گئے ہوئے ہیں، کہا کہ فرانس کو ایک بار پھر دہشت گرد حملہ کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ کیوں کہ وہ انسداد دہشت گردی کارروائی میں شامل ہے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہم فرانس کے ساتھ تعاون کریں گے اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT