Monday , June 18 2018
Home / جرائم و حادثات / فرسٹ لانسر کے فوجی علاقہ میں کمسن طالب علم کو زندہ جلادینے کی کوشش

فرسٹ لانسر کے فوجی علاقہ میں کمسن طالب علم کو زندہ جلادینے کی کوشش

حیدرآباد ۔ /8 اکٹوبر (سیاست نیوز) مدرسہ کے ایک کمسن طالب علم کو مبینہ طور پر فوجیوں کے ہاتھوں زندہ جلادینے کا انسانیت سوز واقعہ صدیق نگر فرسٹ لانسر میں آج دوپہر پیش آیا۔اس واقعہ میں 11دینی مدرسہ کا طالب علم سالہ شیخ مصطفی الدین 90 فیصد جھلس گیا اور اس کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔تاہم اعلی فوجی حکام نے رات دیر گئے ایک بیان جا

حیدرآباد ۔ /8 اکٹوبر (سیاست نیوز) مدرسہ کے ایک کمسن طالب علم کو مبینہ طور پر فوجیوں کے ہاتھوں زندہ جلادینے کا انسانیت سوز واقعہ صدیق نگر فرسٹ لانسر میں آج دوپہر پیش آیا۔اس واقعہ میں 11دینی مدرسہ کا طالب علم سالہ شیخ مصطفی الدین 90 فیصد جھلس گیا اور اس کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔تاہم اعلی فوجی حکام نے رات دیر گئے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحقیقات پر پتہ چلا ہے کہ فوج پر عائد کردہ الزام بالکل غلط ہے اور کوئی بھی فوجی ملازم اس واقعہ میں ملوث نہیں ہے۔ خاطیوں کی اس بربریت اور وحشیانہ حرکت کے خلاف برہم مقامی عوام آج رات سڑکوں پر نکل آئے اور ہمایوں نگر کی مصروف ترین روڈ پر راستہ روکو احتجاج کیا جس پر ٹاسک فورس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے برہم نوجوانوں کو لاٹھی چارج کے ذریعہ منتشر کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں پولیس اور فوجی کیمپ پر سنگباری کی گئی۔اطراف واکناف کے کئی علاقوں میں زبردست سنسنی و کشیدگی پھیل گئی۔ تفصیلات کے بموجب دینی مدرسہ محمدیہ فرسٹ لانسر کے طالب علم کو مبینہ طور پر بسنتر 47 بریگیڈ ۔ مہدی پٹنم گیریسن (فوجی یونٹ)سے وابستہ دو فوجیوں نے آج دوپہر 2.30 بجے کیمپ کے اندر طلب کیا اور بعد ازاںاس پر کیروسین چھڑک کر نذر آتش کردیا ۔

شیخ مصطفی الدین نے بستر مرگ پر اپنا بیان مجسٹریٹ کے روبرو قلمبند کرواتے ہوئے یہ واضح طور پر کہا کہ ’’مجھے دو فوجیوں نے طمانچہ رسید کرنے کے بعد آگ لگادی‘‘ ۔ نامپلی کریمنل کورٹ کے 15 ویں ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ مسٹر اے سرینواس کمار کے روبرو یہ بیان قلمبند کروایا گیا ہے جو اہمیت کا حامل ہے۔ دو مقامی افراد عبدالقدیر اور محمد خالد جو عینی شاہدین بھی ہیں شیخ مصطفی الدین کے جسم پر لگی آگ کو بجھانے کے لئے ہرممکن کوشش کی۔ ہمایوں نگر پولیس نے عبدالقدیر کی شکایت پر اس سلسلے میں ایک مقدمہ 386/2014 تعزیرات ہند کے دفعہ 307r/w34 کے تحت نامعلوم دو فوجیوں کے خلاف ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ۔ انتہائی جھلسی ہوئی حالت میں شیخ مصطفی الدین بسنتر کیمپ آفس کے قریب دستیاب ہونے پر مقامی افراد نے آگ بجھانے کی کوشش کی اور بعد ازاں اس کے افراد خاندان کو اس واقعہ کی اطلاع دی ۔ اپنے لڑکے کو انتہائی جھلسی ہوئی حالت میں دیکھ کر شیخ مقیت الدین اور دیگر افراد خاندان پر سکتہ طاری ہوگیا اور کمسن لڑکے کو مقامی خانگی دواخانے لے جایا گیا لیکن وہاں پر اسے موثر طبی امداد حاصل نہ ہونے پر دواخانہ عثمانیہ منتقل کیا گیا ۔ شیخ مصطفی الدین کو دواخانہ عثمانیہ کے برننگ وارڈ میں شریک کیا گیا تھا لیکن حالت انتہائی تشویشناک ہونے کے بعد اسے کنچن باغ میں واقع اپولو ڈی آر ڈی او ہاسپٹل منتقل کیا گیا ۔ شیخ مصطفی الدین صدیق نگر فرسٹ لانسر کا ساکن ہے

اور شیخ مقیت الدین اور شاکرہ بیگم کا لڑکا ہے ۔ شیخ مقیت الدین جو پیشہ سے ڈرائیور ہیں اور ان کو 5 بچے ہیں جس میں 4 لڑکے اور ایک لڑکی شامل ہے ۔ لڑکے کو فوجی کیمپ میں زندہ جلائے جانے کی اطلاع پر ویسٹ زون کے اعلیٰ پولیس عہدیدار مقام واردات پر پہونچ گئے اور وہاں پر ڈاگ اسکواڈ اور سراغ رسانی دستہ کلوز ٹیم کو بھی طلب کرلیا گیا ۔ فارنسک ماہرین نے وہاں سے ایک کیروسین کی بوتل اور ماچس باکس برآمد کرلیا ہے ۔ کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر ایم مہیندر ریڈی نے مقام واردات کا معائنہ کیا اور حالات کو قابو میں رکھنے کیلئے اپنے ماتحت عہدیداروں کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ۔ بتایا جاتا ہے کہ بسنتر بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے فوجی صدیق نگر کے رہائشی علاقے کو گزشتہ ایک ہفتہ سے تنگ کرتے ہوئے خاردار تار کے ذریعہ کیمپ کی حصار بندی کی۔اس سلسلے میں لڑکے کے والدین نے فوجیوں کی اس غیرانسانی حرکت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دواخانہ عثمانیہ میں یہ الزام عائد کیا کہ بسنتر بریگیڈ مہدی پٹنم گیریسن سے وابستہ فوجی عملہ صدیق نگراور دیگر اطراف و اکناف کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے مکینوں پر ظلم و ستم ڈھارہے ہیں

اور انہیں مختلف طریقوں سے پریشان و ہراساں کیا جارہا ہے ۔ لڑکے کے والد شیخ مقیت الدین نے یہ الزام عائد کیا کہ فوجی جوان صدیق نگر کے کمسن بچوں سے سگریٹ ، گٹکا وغیرہ منگوایا کرتے ہیں اور اس علاقہ سے گزرنے کیلئے بھی کئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس میں شناختی کارڈ (سکیورٹی پاس) کا لزوم بھی نافذکیا گیا ہے جس سے خواتین کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔صدیق نگر میں تقریباً 200 مکانات موجود ہیں اور مقامی افراد نے فوجیوں پر یہ الزام عائد کیا کہ حالت نشہ میں انہیں اکثر گالی گلوج بھی کی جاتی ہے اور برقعہ پوش مسلم خواتین کو نقاب ہٹانے کیلئے بھی اصرار کیا جاتا ہے ۔باوثوق ذرائع نے بتایا کہ خاطیوں کی نشاندہی کیلئے مرکزی انٹلیجنس ایجنسی کی مدد حاصل کی جارہی ہے تاکہ ملٹری انٹلیجنس کے ذریعہ واقعہ سے متعلق تمام تفصیلات کا پتہ لگایا جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT