Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / فرضی انکاؤنٹرس کیخلاف حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں طلبہ برادری کا احتجاج

فرضی انکاؤنٹرس کیخلاف حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں طلبہ برادری کا احتجاج

سرکاری دہشت گردی کیلئے دو ریاستوں کے چندراس کا سیاسی ڈرامہ

سرکاری دہشت گردی کیلئے دو ریاستوں کے چندراس کا سیاسی ڈرامہ
حیدرآباد 12 اپریل (پریس نوٹ) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے طلباء نے شام 6 بجے سے ورنگل اور چتور اضلاع میں ہوئے فرضی انکاؤنٹرس کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ شرکاء نے اس واقعہ کو سرکاری دہشت گردی سے تعبیر کیا اور اس کو دونوں چندراس کا سیاسی ڈرامہ قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ دونوں واقعات میں اقلیت اور دلت افراد کے ساتھ غیر قانونی اور غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے دِن کے اُجالے میں سرکار نے قتل کیا۔ جس سے پھر ایک مرتبہ انگریز راج کی یاد تازہ ہوگئی۔ اُنھوں نے کہاکہ جو حکومت خود اپنے شہریوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتی وہ حکومت کرنے کا اخلاقی جواز کھودیتی ہے۔ قانون اور سپریم کورٹ کی واضح رہنمائی کے باوجود ان دونوں واقعات میں پولیس کا یہ رویہ ناقابل فہم اور قابل گرفت ہے۔ یونیورسٹی کے طلباء نے عزم کیاکہ وہ پولیس انکاؤنٹر راج کو دونوں ریاستوں میں واپس ہونے نہیں دیں گے۔ اس احتجاج میں بھاری پولیس کی موجودگی کے باوجود بڑی تعداد میں طلباء نے شرکت کی اور نعرے لگائے۔ ’’جینا ہو تو مرنا سیکھو ۔ قدم قدم پر لڑنا سیکھو‘‘۔ ’’دم ہے کتنا دمن میں تیری ۔ دیکھ لیا ہے دیکھیں گے‘‘۔ ’’جگہ ہے کتنی جیل میں تیری ۔ دیکھ لے ہے دیکھیں گے‘‘۔ اس موقع پر جناب عبدالجبار صدیقی جنرل سکریٹری APCR ، جناب لطیف محمد خان جنرل سکریٹری سیول لبرٹیز، گریشم ارونا رائے HRLN ، ڈکن لینارڈ ریسرچ اسکالر یونیورسٹی ہذا، پروفیسر امت TISS ، روہت ویمولا اے ایس اے، منی کنٹا بی ایس ایف اور دیگر طلباء لیڈرس و سیول رائٹس Activists نے بھی مخاطب کیا۔

TOPPOPULARRECENT