Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / فرضی دینی مدارس کے خلاف تحقیقات میں شدت

فرضی دینی مدارس کے خلاف تحقیقات میں شدت

تعلیمات کے عہدیداروں کی گرفتاری کے بعد مزید ملزمین کی گرفتاری پر غور
حیدرآباد۔25ڈسمبر(سیاست نیوز) فرضی دینی مدارس کے خلاف جاری تحقیقات و کاروائی میں مزید شدت پیدا ہوگی۔ گذشتہ یوم سی سی ایس نے سرواسکھشا ابھیان فرضی مدارس اسکام کے سلسلہ میں معطل کردہ سپرنٹنڈنٹ کے ناگراج کو گرفتار کرلیا ہے اور محکمہ تعلیم سے وابستہ یوگیندر اور نصیر کی بھی گرفتاری کے علاوہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کا امکان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں فرضی مدارس اسکام کے سلسلہ میں شروع کی گئی گرفتاریو ںکو رکوانے کے لئے سیاسی مدد کے حصول کی کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے اور کئی ملزم اپنے نام کے انکشاف کے خوف سے پریشان ہیں جبکہ محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیداروں کے بموجب سی سی ایس میں جاری گرفتاریاں خانگی شکایت پر شروع ہوئی ہیں جبکہ محکمہ جاتی اور ویجلنس کی تحقیقات علحدہ طور پر جاری ہیں ۔ فرضی مدارس کے نام پر حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی سرواسکھشا ابھیان کی اسکیم کے ذریعہ دولت بٹورنے والوں میں شامل چند نامو ںکے انکشاف اور گرفتاریوں کے بعد مزید نام منظر عام پر آئیں گے۔ دونوں شہروں میں محکمہ تعلیم نے اپنے طور پر 68فرضی مدارس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا جنہوں نے سرکاری فنڈز میں تغلب کیا تھا ۔ محکمہ تعلیم کے ایک اعلی عہدیدار نے بتایا کہ ریاست میں جاری اس اسکیم کے اسکام کی جڑیں دیگر اضلاع تک بھی پھیلی ہوئی ہیں اسی لئے مکمل تحقیقات میں تاخیر ہو رہی ہے لیکن اب جبکہ سی سی ایس میں ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے گرفتاریاں شروع کردی گئی ہیں تو محکمہ کی جانب سے بھی دھوکہ دہی میں ملوث مدارس کے خلاف شکایت درج کروانے کے متعلق جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اب تک ان فرضی مدارس کو جاری کردہ فنڈز کی واپسی کیلئے کاروائی کی جا سکے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب سابق ڈی ای او کے خلاف بھی مقدمہ درج کئے جانے کا امکان ہے کیونکہ اب تک معطل کردہ 5ڈپٹی ایجوکیشن آفیسرس اور دیگر ملازمین کو ان کی پشت پناہی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور کئی فرضی مدارس کے خلاف تحقیقات میں ان کی جانب سے رکاوٹ پیدا کئے جانے کے خدشات ظاہر کئے جانے لگے ہیں۔ سروا سکھشا ابھیان کے اعلی عہدیدار اور کمشنر ایجوکیشن جو ان معاملات کی تحقیقات کی راست نگرانی کر رہے ہیں کے بموجب محکمہ جاتی تحقیقات اور ویجلنس کی رپورٹ کی بنیاد پر محکمہ تعلیم کی جانب سے ان فرضی مدارس کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں گے کیونکہ ان فرضی مدارس کے ذمہ داران نے حکومت کو دھوکہ دیتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کیلئے مختص رقومات غبن کی ہیں اور جس مقصد کیلئے یہ رقومات جاری کی گئی تھیں اس مقصد کیلئے ان رقومات کا استعمال نہیں کیا گیا۔ علاوہ ازیں محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس تحقیقات کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ کچھ مدارس کے ذمہ داران جن کے پاس طلبہ ہیں وہ سرکاری معائنہ کے دوران اپنے طلبہ کو دیگر فرضی مدارس کو روانہ کیا کرتے تھے اور اس مقصد کیلئے فی طالبعلم 200تا300روپئے وصول کئے جاتے تھے۔ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ذمہ داران کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی اور ان لوگوں کے خلاف بھی کاروائی کو یقینی بنایا جائے گا جو مدارس میں معلم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے اپنے فرضی مدارس کے نام بھی رقومات وصول کر رہے ہیں ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ایسے اشخاص کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

TOPPOPULARRECENT