Wednesday , November 22 2017
Home / ہندوستان / !فرضی قوم پرست ‘قوم پرستی کے کنٹراکٹرس بن گئے ہیں

!فرضی قوم پرست ‘قوم پرستی کے کنٹراکٹرس بن گئے ہیں

٭     کیا نیتا جی سبھاش چندر بوس اور شہید بھگت سنگھ کم قوم پرست تھے ؟
٭     وہ لوگ قوم پرستی کا مسئلہ اٹھا رہے ہیں جنکے اجداد کا جدوجہد آزادی میں کوئی رول نہیں تھا
٭     وزیر اعظم حکمرانی سے متعلق سوالات کے جواب دیں ‘ کانگریس ترجمان منیش تیواری
نئی دہلی 21 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج بی جے پی کو خبردار کیا کہ ملک کو بھارت ماتا کی جئے جیسے نعرہ پرتقسیم کرنے کی کوششیں خطرناک ہیں۔ پارٹی نے مہاراشٹرا میں مجلس کے رکن اسمبلی کی معطلی میں اپنے ارکان کے رول کو اہمیت دینے سے گریز کیا ہے ۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ماتا کی جئے ‘ جئے ہند ‘ میرا بھارت مہان ایک ہی جذبہ کا اشارہ دیتے ہیں۔ ملک کو اس مسئلہ پر تقسیم کرنے کی کوشش کرنا در اصل قوم پرستی کے جذبہ کو کم کرنا ہے اور یہ ملک کیلئے خطرناک ہے ۔ مسٹر تیواری نے کہا کہ جذبات اور احساسات کو ظاہر کرنے کے کروڑوں طریقے ہیں جس کے ذریعہ اظہار کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ اگر کوئی ایک مخصوص انداز میں اپنے جذبہ کا اظہارکرنے سے گریز کرتا ہے تو اسے قوم مخالف قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ تیواری نے کہا کہ جب نیتا جی سبھاش چندر بوس نے جئے ہند کہا تھا اور جب شہید بھگت سنگھ نے انقلاب زندہ باد کا نعرہ دیا تھا تو کیا وہ بھارت ماتا کی جئے کہنے والے سے کم حب الوطن تھے ؟ ۔ بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوںنے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ فرضی قوم پرست اب ملک میں قوم پرستی کے کنٹراکٹرس بن گئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ایک ایسی پارٹی جس کے پیشرو اور نظریاتی اجداد کا ملک کی جدوجہد آزادی میں کوئی رول نہیں ہے اب وہ قوم پرستی کا مسئلہ اٹھا رہی ہے ۔ نریندرمودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم پرستی کا مسئلہ اٹھانے اور اسے ہوا دینے کی کوششیں در اصل گذشتہ 22 مہینوں سے برسر اقتدار نریندر مودی حکومت کی ناکامیوںاور خامیوں کو دور کرنے کے مقصد سے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم پرستی کا مسئلہ اٹھانے کی بجائے یہ بہتر ہوتا اگر وزیر اعظم حکمرانی پر اٹھنے والے سوالات کے جواب دیتے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ مودی یہ جواب دیں کہ دہشت گردی پر ان کی تقاریر کیا ہوگئیں ‘ یہ ریمارک کیا ہوگیا کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں ہوسکتے ۔ اب کیوں عام آدمی کو بنیادی ضروریات کی تکمیل میں بھی مشکل پیش آ رہی ہے ۔ کیا غذائی اجناس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم کو یہ بھی جواب دینا چاہئے کہ گذشتہ 22 مہینوں میں سماجی ہم آہنگی کو تباہ کیوں کیا گیا اور کیوں سیاسی استحکام کو ختم کیا گیا ہے ۔ مہاراشٹرا سے متعلق مسلسل سوالات پر انہوں نے کہا کہ اگر کچھ غلط ہوا ہے اور کچھ نازیبا ہوا ہے تو اس کا جائزہ متعلقہ جنرل سکریٹری لیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں کسی شخصیت کے بارے میں کچھ کہنے نہیں آئے ہیں بلکہ وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ قوم پرستی ایک منفی پہلو نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT