Tuesday , June 19 2018
Home / ہندوستان / ’فرضی‘ مدرسوں سے سالانہ 100 کروڑ روپئے کا نقصان : یو پی حکومت

’فرضی‘ مدرسوں سے سالانہ 100 کروڑ روپئے کا نقصان : یو پی حکومت

اب صرف حقیقی مدرسوں کو چلانے کی اجازت رہے گی، تقررِ اساتذہ پر نظر رکھنے قانون بنائیں گے ، ریاستی وزیر کا بیان

لکھنو ، 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں ’فرضی‘ مدرسوں سے ریاستی خزانے پر سالانہ 100 کروڑ روپئے کا بوجھ عائد ہورہا ہے، یہ انکشاف حکومت کی ایک مہم کے دوران ہوا جو اس طرح کے اقلیتی اداروں کے آن لائن رجسٹریشن کیلئے منعقد کی گئی۔ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود لکشمی نرائن چودھری نے نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو بتایا کہ ریاست میں مدارس کے آن لائن رجسٹریشن کی شروعات اس سعی کے ساتھ کی گئی کہ اُن کے کام کاج میں شفافیت لائی جاسکے، لیکن اس ضمن میں قطعی مہلت میں کئی بار توسیع کے بعد بھی 140 مِنی آئی ٹی آئیز کے منجملہ 20 مِنی آئی ٹی آئیز (مدارس کے زیرانتظام) اپنا رجسٹریشن کرانے میں ناکام رہے۔ ریاست کے زائد از 2,000 مدرسے بھی حکومت کی آن لائن رجسٹریشن مہم میں شامل نہیں ہوئے۔ اس طرح کے اقلیتی اداروں کو ریاستی حکومت ہر سال 100 کروڑ روپئے کی گرانٹ دیتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے یہ مدارس فرضی ہیں اور صرف کاغذوں پر کام کرتے ہیں۔ ’’ہم اس معاملے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔‘‘ اترپردیش میں 19,213 مدرسے اسٹیٹ مدرسہ بورڈ کے مسلمہ ہیں۔ ان میں سے صرف 17,000 مدرسوں نے اپنے بارے میں معلومات بورڈ کی ویب سائٹ پر پیش کی ہے۔ چودھری نے کہا کہ اس مہم میں ریاستی حکومت کا مقصد مناسب تعلیمی نظام کو مدارس میں یقینی بنانا ہے، جہاں ٹیچرز اور اسٹاف کا کوئی استحصال نہ ہونے پائے، اور اسکالرشپ راست طور پر طلبہ کے کھاتوں کو منتقل کردی جائے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت ایک قانون وضع کرنے پر بھی غور کررہی ہے تاکہ مدرسہ ٹیچرز کے تقرر اور اخراج (برطرفی) پر نظر رکھی جاسکے۔ریاستی وزیر نے کہا کہ مائنارٹی انسٹی ٹیوشنس کے آن لائن رجسٹریشن کے بعد کئی خامیاں سامنے آئی ہیں۔ ’’یہ پایا گیا کہ کسی استاذ کے نام کا کئی مدرسوں کی جانب سے استعمال کیا جاتا ہے۔ کوئی استاذ بہ یک وقت متعدد مدرسوں میں کس طرح تعلیم دے سکتا ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ اب صرف حقیقی ؍ اصلی مدرسوں کو ہی اس ریاست میں چلانے کی اجازت دی جائے گی۔ ایک سینئر حکومتی عہدہ دار نے کہا کہ ’فرضی‘ مدرسوں کی اکثریت مدرسہ جدیدکاری اسکیم کے تحت حاشیے پر چلی گئی ہے، کیونکہ یہ اسکیم کے تحت اساتذہ کو حکومت کی جانب سے اعزازیہ دیا جاتا ہے کہ وہ ریاضی، سائنس، ہندی اور انگریزی جیسے مضامین پڑھائیں۔ ’’یہ اسکیم کے تحت بی ایڈ ڈگریوں کے حامل گرائجویٹس کو 8,000 روپئے جبکہ بی ایڈ ڈگریوں کے حامل پوسٹ گرائجویٹس کو 15,000 روپئے دیئے جاتے ہیں۔ ایسا شبہ ہے کہ فرضی مدرسے غلط طور پر رقم بٹورنے کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں۔‘‘ اس اسکیم کے تحت موجودہ طور پر جملہ 8,171 مدرسوں کا احاطہ ہورہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT