Monday , April 23 2018
Home / Top Stories / فرقہ وارانہ تشدد کیخلاف راہول گاندھی کی قیادت میں برت

فرقہ وارانہ تشدد کیخلاف راہول گاندھی کی قیادت میں برت

ملک گیر احتجاج ، راج گھاٹ پر مرکزی اجتماع ، بی جے پی پر دلت اور غیردلت طبقات میں پھوٹ ڈالنے کاالزام

نئی دہلی ۔9 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے پارلیمنٹ کی عدم کارکردگی ، فرقہ پرستی اور ذات پات کے نام پر تشدد کے خلاف اپنی پارٹی کے زیراہتمام ایک روزہ ملک گیر برت کی قیادت کی ۔ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی ، ذات پات کے نام پر تشدد اور پارلیمنٹ میں شوروغل کے سبب کاروائی کے التواء کے لئے اپوزیشن یو پی اے کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے حکمراں بی جے پی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے ۔ مہاتما گاندھی کی سمادھی راج گھاٹ پر راہول گاندھی نے کئی گھنٹوں تک اس برت میں حصہ لیا ۔ اس موقع پر کئی سینئر قائدین کمل ناتھ ، ملک ارجن کھرگے ، شیلا ڈکشٹ ، اشوک گہلوٹ ، دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اجئے ماکن اور ترجمان اعلیٰ رندیپ سرجئے والا بھی ان کے ساتھ برت میں شامل رہے۔ کانگریس کے ’’سدبھاؤنا اُپواس‘‘ پر 1984 ء کے مخالف سکھ فسادات کا سایہ منڈلاتا رہا جب ان فسادات میں اپنے رول کے ملزم دو قائدین جگدیش ٹائیٹلر اور سجن کمار فی الفور اس مقام سے واپس ہوگئے لیکن جگدیش ٹائٹلر پارٹی کارکنوں کے ساتھ عام شرکاء میں بیٹھے رہے ۔ کانگریس کے قائدین نے کہاکہ پارلیمنٹ کی عدم کارکردگی ، بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف اظہار احتجاج کیلئے یہ برت رکھا گیا ۔ مہاتما گاندھی کی یادگار پر رکھے گئے برت کی تقلید کرتے ہوئے کانگریس کے کارکنوں نے تمام ریاستی اور ضلع ہیڈکوارٹرس پر برت رکھا ۔ کانگریس قائدین نے کہاکہ ملک میں امن ، فرقہ وارانہ امن اور بھائی چارگی کے فروغ کے لئے یہ برت رکھا گیا۔ کانگریس کے قائدین نے کہاکہ پارلیمنٹ کی عدم کارکردگی کے سبب اہم مسائل پر بحث نہیں کی جاسکی ۔ پنجاب نیشنل بینک اسکام ، سی بی ایس ای امتحانی پرچوں کے افشاء ، ایس سی ؍ ایس ٹی قانون کو مبینہ طورپر نرم بنائے جانے ، آندھراپردیش کے خصوصی موقف ، کاویری آبی تنازعہ جیسے اہم قومی مسائل پر کانگریس بحث کرنا چاہتی تھی ۔ رندیپ سرجئے والا نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’یہ اس نظریہ اور ان اقدامات کیلئے جدوجہد ہے جس کی نمائندگی ہندوستانی کرتا ہے ۔ ووٹ بٹورنے کے مقصد سے کی جانیوالی نفرت ، پھوٹ اور انتشار پر مبنی سیاست کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے ‘‘ ۔انھوں نے مزید کہاکہ نفرت اور پھوٹ پر مبنی مودی حکومت کی سیاست سے ملک بری طرح متاثر ہوا ہے۔’’موجودہ بی جے پی حکومت کی برطانوی حکمرانوں کی طرح پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو پالیسی ہے ۔ اس کا مقصد صرف سماج میں پھوٹ ڈالنا ، مذہب میں پھوٹ ڈالنا اور مختلف ذاتوں اور طبقات کو منقسم کرنا ہے ۔ یہی بی جے پی حکومت کا ڈی این اے ہے ‘‘ ۔ رندیپ سرجئے والا نے بی جے پی حکومت جو ملک کو پہلے ہی مذہبی خطوط پر تقسیم کرچکی ہے اب دلت اور غیردلت کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے ۔ کانگریس کے کارکن عوام کو یہ پیغام دینے کے لئے ملک بھر میں برت رکھے ہیں کہ پھوٹ اور انتشار پر مبنی بی جے پی حکومت کے ہتھکنڈوں کاشکار نہ بنیں۔ سجن کمار اور جگدیش ٹائیٹلر جو دونوں ہی 1984 ء کے مخالف سکھ فسادات مقدمہ کے ملزمین ہیں کو راہول گاندھی کی آمد کے وقت شہ نشن پر نہ بیٹھنے کیلئے کہا گیا تھا جس کی اطلاع ملتے ہی سجن کمار فی الفور اس مقام سے واپس چلے گئے اور سرجئے والا نے فی الفور بی جے پی کو اس مسئلہ پر تنازعہ پیدا کرنے کیلئے مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اس پارٹی کی مذمت کی ۔ سرجئے والا نے کہاکہ ’’بی جے پی میں شامل چند سازشی عناصر ہر بات کا کچھ مطلب نکال لیتے ہیں ‘‘۔ 31اکتوبر 1984 ء کو وزیراعظم اندرا گاندھی کا ان کے سکھ باڈی گارڈس کے ہاتھوں قتل ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر پھوٹ پڑنے والے مخالف سکھ فسادات میں جگدیش ٹائیٹلر اور سجن کمار کے رول و الزام عائد کیا جاتا رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT