Thursday , December 14 2017
Home / ہندوستان / فرقہ وارنہ جھڑپوں کے تعلق سے چوکسی برتی جائے : مرکز

فرقہ وارنہ جھڑپوں کے تعلق سے چوکسی برتی جائے : مرکز

ریاستوں کو ہدایت ۔ گنیش پنڈالوں اور وسرجن جلوس پر خاص نظر رکھنے کا مشورہ
نئی دہلی 14 ستمبر ( سیاست ڈآٹ کام ) تہواروں کے موسم سے قبل مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ جھڑپوں کے تعلق سے سخت چوکسی اختیار کرے کیونکہ قربانی کی جانے والی عید ’ عیدالضحی ‘ گنیش مورتیوں کے وسرجن سے عین قبل ہونے والی ہے ۔ تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کو جاری کردہ ہدایت میں وزارت داخلہ نے کہا کہ گنیش چتورتھی ملک بھر میں 17 ستمبر تا 27 ستمبر دس دن تک منائی جائیگی ۔ اس دوران روایتی پوجا ‘ تقاریب اور درشن وغیرہ کا اہتمام کیا جائیگا اور پنڈالوں میں گنیش مورتیاں نصب کی جائیں گی ۔ ان تقاریب کا گنیش مورتیوں کے مختلف ذخائر آب میں وسرجن کے ساتھ اختتام عمل میں آتا ہے ۔ تہواروں کے دوران خاص طور پر اشتعال انگیز نعرہ بازی مساجد ‘ درگاہوں وغیرہ کے قریب ہوتی ہے اور متنازعہ مقامات پر مورتیوں کی تنصیب اور تقاریب کے اہتمام ‘ غیر روایتی روٹ سے جلوس گذارنے اور زبردستی چندہ وصولی و خواتین سے چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے اکثر فرقہ وارانہ جھڑپیں پیش آتی ہیں۔ عیدالضحی اس سال 25 ستمبر ( جمعہ ) کو منائی جائیگی جبکہ اس کے ایک دن کے وقفہ سے گنیش مورتیوں کا وسرجن ہونے والا ہے ۔ عید کے دن نماز عید کا عیدگاہوں اور مساجد میں بڑے پیمانے پر انعقاد عمل میں آتا ہے اور جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے ۔ حالیہ ہفتوں میں ہندو کارکنوں کی جانب سے گاؤ ذبیحہ کے خلاف مہم میں شدت پیدا ہوگئی ہے اور جانوروں کو منتقلی کے دوران روکا بھی جاتا ہے ۔ بعض مرتبہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں اور آگ زنی سے فرقہ وارانہ واقعات پیش آتے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستوں کے نام جو پیام جاری کیا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ پنڈالوں اور جلوس کے راستوں اور وسرجن کے مقامات پر بھی خاص نظر رکھی جانی چاہئے تاکہ فرقہ وارانہ جھڑپوں کو ٹالا جاسکے اور لا اینڈ آرڈر کے دوسرے مسائل پیدا نہ ہونے پائیں۔

TOPPOPULARRECENT