Sunday , June 24 2018
Home / اداریہ / فرقہ پرستوں کی کارستانیاں

فرقہ پرستوں کی کارستانیاں

فرقہ پرستوں کی کارستانیاں

فرقہ پرستوں کی کارستانیاں
انتخابات کا عمل مکمل ہونے اور ملک میں نئی حکومت قائم ہونے کے فوری بعد ایسا لگتا ہے کہ فرقہ پرست تنظیمیں اور کارکن سر اٹھانے لگے ہیں۔ انہوں نے اپنے ناپاک عزائم اور منصوبوں پر عمل آوری کا سلسلہ شروع کردی ہے اور وہ منافرت پھیلانے پر اتر آئے ہیں۔ ملک کے مختلف گوشوں میں اس طرح کی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں جن کے نتیجہ میں دو گروپس کے مابین نفرت کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔ بعض مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ فجر کی اذان دینے پر اعتراض شروع کردیا گیا ہے تو بعض گوشوں سے یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کے مطالبات شروع کردئے گئے ہیں ۔ اس سلسلہ میں عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے جا رہے ہیں۔ کہیں کشمیر کو خصوصی موقف دینے والے دستور ہند کے دفعہ 370 کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو کہیں اب متشرع مسلم نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ پونے میں گذشتہ چار دن سے جس طرح کا فرقہ وارانہ ماحول تیار کیا جارہا تھا اس کے نتیجہ میں کل ایک مسلم نوجوانوں کو بیدردی سے زد و کوب کرتے ہوئے ہلاک کردیا گیا ۔ حالانکہ پولیس کی جانب سے ایسا کرنے والے خاطیوں کو گرفتار کرنے کا ادعا کیا گیا ہے اور ان کے خلاف مقدمات بھی درج کئے جا رہے ہیں لیکن یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے اور اس سے حالات سدھرنے کی بجائے مزید بگاڑ کی جانب مائل ہوسکتے ہیں۔ اس کے پیچھے جو محرکات ہیں اور جو عناصر سرگرم ہیں ان پر قابو پانے کی ضرورت ہے جو فی الحال ایسا لگتا ہے کہ پوری شدت کے ساتھ اپنے ناپاک عزائم کو تکمیل کرنے کی کوشش میں جٹ گئے ہیں۔ پونے میں پیش آنے والے واقعہ کو انفرادی نوعیت کا یا وقتی طور پر ہونے والے اثرات کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا اس کے پس پردہ یقینی طور پر ایک بڑی سازش ہے اور اس کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے ۔فرقہ پرست عناصر دیرپا حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے مختلف طریقوں اور بہانوں کے ذریعہ ملک کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر ان تنظیموں اور اداروں کو ابتداء ہی میں روک نہیں لگائی گئی تو اس کے اثرات بھی دور رس ہوسکتے ہیں اور فرقہ وارانہ ماحول متاثر ہوسکتا ہے ۔
پونے کا جو واقعہ ہے اس کیلئے فیس بک پر شیواجی اور بال ٹھاکرے کی شبیہہ کو مسخ کرکے پیش کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ اس معاملہ کی بھی اگر غیر جانبدارانہ انداز میں تحقیقات کروائی گئیں تو اس کے تار بھی کسی نہ کسی ہندو تنظیم سے ہی جڑے ہوئے مل سکتے ہیں۔ پونے میں آئی ٹی ماہر مسلم نوجوان کے قتل کے واقعہ کو اس تناطر میں دیکھا جانا چاہئے کہ مہاراشٹرا میں چند مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس کیلئے ماحول کو گرم کیا جا رہا ہے ۔ مرکز میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کے قیام کے بعد فرقہ پرست تنظیموں کو اب مہاراشٹرا کے اقتدار کی فکر لاحق ہوگئی ہے اور وہ یہاں بھی کسی نہ کسی طرح اقتدار حاصل کرنے کی تگ و دو میں جٹ گئے ہیں۔ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے پیش کرتے ہوئے اور عوام کو راغب کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرکے اقتدار حاصل کیا جاتا ہے تو یہ جمہوری عمل کا حصہ ہے اور ایسا کرنا ہر ایک کا حق ہے لیکن اگر فرقہ پرستی کا زہر گھول کر سماج میں نفرت کو فروغ دیتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں تو اس طرح کی کوششوں کی مذمت کی جانی چاہئے اور ان کو ششوں کو کامیاب ہونے کا موقع فراہم نہیں کیا جانا چاہئے ۔ ان کوششوں کے ذریعہ فرقہ پرست تنظیمیں اپنے عزائم کو پورا کرنا چاہتی ہیں اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں اور تمام صحیح الفکر حلقوں کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ان کوششوں کو اپنے عزائم میں کامیاب ہونے کا موقع فراہم نہ کیا جائے ۔
مرکزی حکومت اور دیگر نفاذ قانون کے اداروں کو پونے میں پیش آئے واقعہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے اس کے خاطی اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ محض ایک معمولی یا معمول کے مطابق پیش آنے والا سمجھ کر اسے اگر نظر انداز کیا جاتا ہے تو اس کے دور رس منفی اثرات لاحق ہوسکتے ہیں ۔ یہ جو اثرات ہوسکتے ہیں وہ معاشرہ اور سماج میں نفرت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کو مظفر نگر میں پیش آئے فسادات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے جس طرح سے وہاں انتخابات سے قبل نفرت کا ماحول گرم کیا گیا تھا اسی طرح اب مہاراشٹرا میں بھی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ ہندو بنیاد پرست تنظیموں کو استعمال کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے کی سازشوں کو اگر پنپنے کا موقع فراہم کیا گیا تو اس کے نتیجہ میں نہ صرف سماجی سطح پر بے چینی پیدا ہوگی بلکہ اس کے نتیجہ میں ہندوستانی جمہوری نظام کی اہمیت اور افادیت بھی متاثر ہوسکتی ہے ۔ اس پہلو کو نظر میں رکھتے ہوئے ایسے واقعات کے خلاف موثر کارروائی ضروری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT