Tuesday , December 18 2018

فرقہ پرستوں کے حوصلے پست ہوئے‘ گروگرام میں پرامن طریقہ سے نماز جمعہ ادا کی گئی

تقریبا35مقاما ت پر پولیس نے سکیورٹی کے پختہ انتظامات کئے تھے‘ قبضہ کی ہوئیں عیدگاہیں ہمیں مل جائیں تو سڑکوں پر نماز پڑھنے کی ضرورت پیش نہیں ائے ۔ رائیس خان
نئی دہلی۔ گروگرام میںآج فرقہ پرستوں کے حوصلے اسوقت پست ہوگئے جب بیشتر مقامات پر پرامن طریقہ سے نماز جمعہ ادا کی گئی۔

اس دوران پولی سکیورٹی کا پورا بندوبست تھا‘ کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیںآیا۔ ادھر ہریانہ وقف بورڈ نے بھی پرامن طریقہ سے نماز ادا کی جانے کی بات کہی ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ جو مساجد وعیدگاہ دوسرے لوگوں کے قبضے میں ہیں‘ انہیںآزاد کرانے کی مہم جاری ہے اور ایک یادوماہ میںیہ جگہیں خالی کرالی جائیں گی۔ گروگرام میں گذشتہ چند دنو سے نمام میں رخنہ ڈالنے کی مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔

اس سلسلہ میں پولیس چھ لوگوں کو بھی گرفتار کیاہے۔ اس کے باوجود بھی شدت پسند تنظیمیں مسلسل ماحو ل خراب کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ پولیسنے بھی صرف نو مقاما ت پر جمعہ ادا کرنے کی بات کہی تھی۔

اس کے علاوہ دوسرے مقاما ت پر نماز جمعہ کرنے پر ماحول خراب ہونے کاخدشہ ظاہر کیاجارہاتھا ۔ اس سلسلہ میں نمائندہ نے ہریانہ وقف بورڈ کے چیرمن او رمقامی رکن اسمبلی رائیس خان سے بات کی تو انہوں نے بتایاکہ آج تقریبا تس سے 35مقامات پر نماز جمعہ ادا کی گئی ہے اور سب جگہ پرامن طریقہ سے نماز ہوئی کہیں بھی کسی طرح کی کشیدگی کامعاملہ سامنے نہیں آیا۔

انہو ں نے بتایاکہ سب مقامات پر سکیورٹی کے پختہ انتظامات تھے اور لوگوں نے آرام سے نماز ادا کی ۔ انہو ں نے کہاکہ ہریانہ میں بے شمار ایسے مقامات ہیں جہاں نماز پرپابندی ہے او ران پر ناجائز قبضے ہیں۔

اگر یہ مساجد اور عیدگاہ ہمارے سپرد کردی جائیں تولوگوں کو سڑکوں پر نماز پڑھنے کی ضروت نہ ہو۔انہو ں نے کہاکہ ایسی مساجد او رعیدگاہ کوناجائزقبضوں سے خالی کرانہ کیلئے ہماری مہم جاری ہے اور امید ہے کہ ایک یادوماہ میں ساری جگہیں آزاد کرالی جائیں گی۔

غور طلب ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب گروگرام میں نماز ادا کرنے پر پابند عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تین سال قبل بھی وہاں اسی طرح کے حالات پیدا کئے گئے تھے ۔

نمازیوں کے ساتھ مسجد میں گھس کر مارپیٹ کی گئی تھی‘ مساجد پر حملے کئے گئے تھے ‘ نورنگ عیدگاہ پر بھی حملہ کیاگیاتھا۔ سنٹرل وقف کونسل کے رکن عرفان احمد کا کہنا ہے کہ یہ خوش ائند بات ہے کہ گروگرام میں پرامن طریقہ سے نماز جمعہ ادا کی گئی او رنماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ۔

انہوں نے کہاکہ اس معاملہ پر کسی قسم کی زبردستی نہیں ہونی چاہئے۔

واضح رہے کہ گروگرام کے وزیرآباد میں واقع ایک کھلے میدان پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران20اپریل کو کچھ ہند وتنظیموں سے وابستہ افراد نے تنازع پیدا کیاتھا اوراس کے بعد شر پسند لگاتا ماحول خراب کرنے کی کوشش میں تھے۔

اس جمعہ کو کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا نہ ہواور لوگ سکون سے نماز ادا کرسکیں اس کے لئے پولیسانتظامیہ نے مسلم طبقے سے وابستہ افراد سے مقامات کی فہرست طلب کی تھی او رسکیورٹی انتظامات سخت کردئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT