Saturday , September 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / فرقہ پرستوں کے خلاف لڑائی میں کانگریس کی بھرپور تائید

فرقہ پرستوں کے خلاف لڑائی میں کانگریس کی بھرپور تائید

محبوب نگر میں جناب شفیق الزماں اور جناب ظہیرالدین علی خاں کا خطاب

محبوب نگر میں جناب شفیق الزماں اور جناب ظہیرالدین علی خاں کا خطاب

محبوب نگر ۔ /20 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عام انتخابات سے عین قبل بڑی منصوبہ بندی اور منظم سازش کے تحت ہمارے ووٹوں کو تقسیم کروایا جاتا ہے ۔ اگر ہم نے متحدہ طور پر اپنے ووٹوں کو استعمال کیا تو لاکھ کوششوں کے باوجود فرقہ پرست طاقتیں اقتدار پر نہیں آسکتیں ۔ اِن خیالات کا اظہار جناب ظہیر الدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر سیاست حیدرآباد نے مستقر محبوب نگر کے شالیمار گارڈن میں آج دوپہر ایک اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ عام انتخابات کے ضمن میں مسلم ووٹوں کو تقسیم سے بچانے کیلئے شہریان محبوب نگر نے اس اجلاس کا اہتمام کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ عام انتخابات کے اور اب منعقد ہونے والے انتخابات میں کافی بڑا فرق ہے ۔ کیونکہ یہ انتخابات فرقہ پرست طاقتوں اور سیکولر طاقتوں کے بیچ ایک جنگ کے مماثل ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور مسلمان متحد ہوجائیں تو ملک کی تاریخ کے سنہرے باب کا آغاز ہوجائے گا ۔ فرقہ پرست طاقتیں کبھی بھی یہ نہیں چاہتیں کہ سیکولر ووٹ متحد ہوں ۔ انہوں نے مسلمانان محبوب نگر کو مشورہ دیا کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق لیں اور مستقبل میں اسکو نہ دہرائیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر جماعت کے امیدوار کی کامیابی کے واضح امکانات ہیں ایسے میں معمولی سے غفلت ہمارے لئے پچھتاوے کا موجب بن سکتی ہے ۔ جناب شفیق الزماں صاحب ریٹائرڈ آئی اے ایس (سابق پرنسپل سکریٹری حکومت اے پی) نے مختصر اور جامع خطاب میں کہا کہ ہمارے ساتھ ہمیشہ ٹکٹوں کی تقسیم میں ناانصافی ہوتی آرہی ہے ۔ انہوں نے ووٹ کا حق استعمال کرنے کیلئے ایک بہترین فارمولہ پیش کیا اور کہا کہ بی جے پی اور اس کے کسی بھی حلیف کو چاہے وہ امیدوار فرشتہ ہی کیوں نہ ہو ووٹ نہ دیں ۔ بلکہ دو طاقتور امیدواران جن کے جیتنے کے امکانات ہیں ان میں سے کم متعصب اور کم تنگ نظر امیدوار کے حق میں ووٹ استعمال کریں ۔ ایرلا نرسمہا ضلع سکریٹری سی پی آئی نے اپنے تفصیلی خطاب میں حصول تلنگانہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ علحدہ تلنگانہ کا مطالبہ عرصہ دراز سے جاری تھا اور وقفہ سے کانگریس کے دور حکومت میں مکتوبات روانہ کئے گئے لیکن کے سی آر نے حصول تلنگانہ کا سہرا اپنے سر لیتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔ کے سی آر تلنگانہ کے حصول کے بعد سونیا گاندھی کو ’’اماں‘‘ کے نام سے پکارا اور سارے افرادِ خاندان کے ساتھ سونیا سے ملاقات کرکے اظہار تشکر کیا اور آج دروغ گوئی پر اتر آئے ہیں ۔

آج ٹکٹوں کی تقسیم میں تلنگانہ تحریک کے لئے جدوجہد کرنے والوں اور پارٹی کے وفاداروں کو ٹھکراتے ہوئے مخالف تلنگانہ قائدین کو پارٹی ٹکٹ دیا اور دولتمندوں میں ہی ٹکٹوں کی تقسیم عمل میں لائی ۔ انہوں نے دیگر پارٹیوں کے مقابل کانگریس کی حمایت کا مشورہ دیا کیونکہ فرقہ پرستوں کے خلاف لڑائی کیلئے ایک مستحکم پارٹی کا ساتھ دینا موجودہ حالات میں ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں انسانیت کا خون بہانے والے اور گاندھی جی کے قاتل نتھو رام گوڈسے کے حامی آج اقتدار پر قبضہ کرکے ملک سے سیکولرازم کا صفایا چاہتے ہیں ۔ آپ ان کو کبھی اقتدار کے قریب جانے کا بھی موقع نہ دیں ۔ حنیف احمد اسٹیٹ کنوینر ایم آر یو ایف نے کہا کہ آج عوام عام انتخابات کو صرف انتخابات نہ سمجھیں کیونکہ یہ جمہوریت سیکولرازم کے قاتلوں اوراس کے محافظین کے درمیان فیصلہ کن لڑائی ہے اور آج ہم میں سے ہر ایک کو اپنا کردار بڑی دانشمندی کے ساتھ نبھانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اور قومی سطح پر اس جنگ میں بڑی طاقت کا کردار صرف کانگریس ہی ادا کرسکتی ہے لہذا اب ہمیں متحدہ طور پر کانگریس کو کامیاب کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کو ان کے عزائم کو کامیابی سے دور رکھنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ این ڈی اے کو اقتدار مل گیا تو مسلمانوں کے حقوق کی پامالی کے سخت اندیشے ہیں ۔

انہوں نے کانگریسی امیدواران ایس جئے پال ریڈی اور عبیداللہ کوتوال کو متحدہ طور پر کامیاب بنانے کی اپیل کی ۔ اس موقع پر مظہر حسین شہید ، عبدالجبار مجاہد ، تقی حسین تقی ، نورالحسن ، محمد ابراہیم قادری ، مولانا محمد عبدالرشید ، محمد عبدالقادر ، رحمن صوفی کے علاوہ حیدرآباد سے آئے مہمان خصوصی اور دانشوران عثمان الہاجری ، مجاہد ہاشمی ، میجر قادری وغیرہ نے بھی مخاطب کیا اور حلقہ اسمبلی کیلئے کانگریسی امیدوار عبیداللہ کوتوال کے حق میں ووٹ استعمال کرنے کی اپیل کی اور اکثر مقررین نے جناب سید ابراہیم سے اتحاد اور ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے دستبرداری کی بھی اپیل کی ۔ جناب قدیر صدیقی نے جلسہ کی صدارت کی ۔ اس موقع پر انور پاشاہ ،محمد اکبر صدر حج سوسائیٹی ، غلام غوث مسلم انٹلکچول فورم ، عبدالعلیم مسلم سنگھم ، عبدالرحمن ریٹائرڈ لکچرار ، جعفر شریف ، سید شفیع کنٹراکٹر ، خالد نوید ، قدیر کوتوال و دیگر سیاسی و سماجی قائدین موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT