Wednesday , April 25 2018
Home / اداریہ / فرقہ پرستوں کے ناپاک عزائم

فرقہ پرستوں کے ناپاک عزائم

فرقہ پرستوں کے ناپاک عزائم
سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دینے والی بی جے پی کی نریندر مودی قیادت والی حکومت ایسا لگتا ہے کہ محض فرقہ پرستوں کے ناپاک عزائم کی تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے کام کرتی ہے ۔ اس کیلئے نہ کسی فرقہ کے ساتھ کی ضرورت ہے اور نہ ہی وہ کسی مخصوص فرقہ کی ترقی کو یقینی بنانا چاہتی ہے ۔ وہ صرف دکھاوے کیلئے پرکشش نعرے دیتے ہوئے ایسے عزائم کی تکمیل کا ذریعہ بن رہی ہے جن کے ذریعہ ملک کو جوڑنے کی بجائے ملک میں نفرت اور بے چینی کا ماحول پیدا ہوتا ہے ۔ اب بی جے پی کے اترپردیش میں بلیا ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی نے یہ اعلان کیا ہے کہ 2024 تک ہندوستان کو ہندو راشٹر بنادیا جائیگا اور اس ملک میں وہی مسلمان رہ سکتے ہیں جو خود کو ہندو کلچر میں ڈھال سکیں اور جو لوگ ایسا نہ کرپائیں وہ کسی بھی ملک میں پناہ لینے کیلئے آزاد ہیں۔ رکن اسمبلی سریندر سنگھ کا کہنا تھا کہ چونکہ 2025 میں آر ایس ایس 100 سال مکمل کریگی اس لئے اس سے قبل ہندوستان کو ہندو راشٹر بنادیا جائیگا ۔ حالانکہ اس طرح کی باتیں دیوانے کی بڑ سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں رکھتیں لیکن ان کے پس پردہ وہ ذہنیت اور عزائم ظاہر ہوتے ہیں جو بی جے پی اپنے حواریوں اور کارکنوں کے ذریعہ ملک کے عوام پر واضح کردینا چاہتی ہے ۔ ہندوستان ایک سکیولر ملک ہے اور دستور ہند میں بھی ملک کو سکیولر قرار دیا گیا ہے ۔ یہ واضح کردیا گیا ہے کہ ملک کا اور حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا ۔ اس کے باوجود جس وقت سے نریندر مودی کی قیادت میں مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی ہے اس وقت سے ہی اس ملک میں نفرت اور بے چینی کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف زبان درازیوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ اس کام کیلئے فسطائی ذہنیت رکھنے والے عناصر کو نہ صرف استعمال کیا جا رہا ہے بلکہ ان کی مختلف طریقوں سے حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے ۔ جب کوئی مسئلہ زیادہ شدت اختیار کرجاتا ہے اور اس پر عوام میں بے چینی اور برہمی پیدا ہونے لگتی ہے تو حکومت اور پارٹی کے اعلی قائدین اس سے خود کو کنارہ کش کرلیتے ہیں لیکن ایسے عناصر کی سرکوبی نہیں کی جاتی ۔خاموشی اختیار کرتے ہوئے ایسے عناصر کی بالواسطہ طور پر حوصلہ افزائی کی حکمت عملی پر پارٹی اور حکومت عمل پیرا ہیں۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ہندوستان میں مسلمان دوسری بڑی اکثریت ہیں۔ ملک میں مسلمانوں کو بھی وہی حقوق اور اختیارات حاصل ہیں جو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو حاصل ہیں۔ مسلمان اس ملک میں کسی سے کم تر درجہ کے شہری نہیں ہیں اور نہ ہی وہ خود کو ایسا بنانے کی کسی طرح کی کوششوں کو قبول کرینگے ۔ جو بکواس مختلف گوشوں سے وقفہ وقفہ سے کی جاتی ہے وہ صرف ان کی سفاکانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے اور اس کے تعلق سے ملک کے اصول پسند اور فکرمند شہریوں میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان ایک گلدستہ ہے جس میں ہر مذہب کے ماننے والے پورے اطمینان اور اختیارات کے ساتھ رہتے بستے ہیں۔ اس کو متاثر کرنے کیلئے جو ذہنی مریض سرگرم ہیں ان کی سرکوبی کی جانی چاہئے تاکہ دنیا بھر میں ملک کی امیج جو متاثر ہونے لگی ہے اس کو بچایا جاسکے ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ساری دنیا ٹکنالوجی کی مدد سے ترقی کے زینے طئے کرتی جا رہی ہے ہندوستان کو ایک بار پھر فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے کی کوششیں وقفہ وقفہ سے ہونے لگی ہیں۔ ایسی کوششوں کا حالانکہ کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا لیکن ایسے عناصر کو ملک کے سکون اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو درہم برہم کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی ۔ بے اطمینانی اور بے چینی کی کیفیت کسی بھی ملک اور معاشرہ کیلئے اچھی نہیں ہوسکتی ۔ جو لوگ اپنے بیہودہ بکواس سے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں کیفر کردار تک پہونچانے کیلئے اب خود اس ملک کے تمام سکیولر سوچ کے حامل افراد کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔
جو عناصر ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی بات کرتے ہیں انہیں حکومت اور برسر اقتدار جماعت کی بالواسطہ سرپرستی حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہریانہ کا کوئی وزیر ہو یا بی جے پی کا کوئی رکن اسمبلی ہو ‘ کسی ہندو فرقہ پرست تنظیم سے تعلق رکھنے والی کوئی سادھوی ہو یا پھر برسر اقتدار جماعت کا کوئی ایم پی ہو ہر کوئی اپنے زبان درازیوں سے ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے کے باوجود پوری شان سے آزاد گھوم رہے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف کسی طرح کی کارروائی نہیں کی جاتی اور حد تو یہ ہے کہ اس طرح کے بیانات کی مذمت تک نہیں کی جاتی ۔ جو ماحول ملک میں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس سے محض سیاسی فائدہ حاصل کرنا مقصد ہے اور اس سے فسطائی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے صحیح الفکر افراد کو ایسے عناصر کی سرکوبی کیلئے آگے آنا چاہئے ۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT