Wednesday , December 19 2018

فرقہ پرست طاقتوں و ہندوتوا نظریات کے خلاف جامع جدوجہد

سی پی ایم کا فیصلہ ۔ مستقبل کی حکمت عملی کیلئے رپورٹ تیار ۔ رائے عامہ ہموار کرنے پر توجہ

سی پی ایم کا فیصلہ ۔ مستقبل کی حکمت عملی کیلئے رپورٹ تیار ۔ رائے عامہ ہموار کرنے پر توجہ
وشاکھاپٹنم 16 اپریل ( پی ٹی آئی ) سی پی ایم نے آج فیصلہ کیا کہ ہندوتوا اور نئی معاشی پالیسیوں جیسی فرقہ پرستانہ نظریات کے خلاف مکمل جدوجہد کی جائیگی اور بائیں بازو کی و جمہوریت پسند طاقتوں کو متحد کیا جائیگا ۔ اپنی 21 ویں کانگریس کے تیسرے دن پارٹی نے ایک سیاسی حکمت عملی کو قطعیت دی جو مستقبل میں پارٹی کی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوگی ۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ پارٹی کی تنقیدوں کا اصل نشانہ بی جے پی ہی ہونی چاہئے جہاں وہ اقتدار میں ہو تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کانگریس کے ساتھ کہیں انتخابی اتحاد کیا جائیگا ۔ پارٹی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے خلاف جدوجہد صرف انتخابی حکمت عملی کی جدوجہد تک محدود نہیں ہونی چاہئے ۔ پارٹی نے کہا کہ ہندوتوا نظریات اور فرقہ وارانہ طاقتوں کے خلاف جدوجہد کے ساتھ عوام کو درپیش روز مرہ کے مسائل کے خلاف بھی جامع جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ ان مسائل پر جامع جدوجہد کے ذریع ہی ہم فرقہ وارانہ طاقتوں کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرسکتے ہیں۔ اجلاس کی روئیداد سے میڈیا کو واقف کرواتے ہوئے سی پی ایم پولیٹ بیورو کی رکن برندا کرت نے کہا کہ بحیثیت مجموعی اس رپورٹ کیلئے مندوبین نے 229 ترامیم پیش کیں اور ان میں 11 کو منظور کرلیا گیا ہے ۔ نظر ثانی رپورٹ پر رائے دہی کروائی گئی اور اسے قبول کرلیا گیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالانکہ پارٹی اپنے آزادانہ رول کو مستحکم کریگی اور اپنی عوامی تائید میں اضافہ کی کوشش کریگی ساتھ ہی بائیں بازو کی اور جمہوری طاقتوں کو مجتمع کرنے اور عوام کی تائید حاصل کرنے پر بھی توجہ دی جائیگی تاکہ فرقہ واریت اور فراخدلانہ معاشی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کی جاسکے ۔ پارٹی جنرل سکریٹری پرکاش کرت نے کہا کہ سی پی ایم نے گذشتہ برسوں کے اپنے تنظیمی موقف پر بھی غور کیا ہے ۔ اس کانگریس کا وشاکھا پٹنم میں 14 اپریل کو آغاز ہوا تھا ۔ پارٹی نے آج ایک قرار داد بھی منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ خانگی شعبہ میں درج فہرست ذاتوں اور قبائل کو تحفوظات فراہم کئے جائیں اور مرکز پر دباؤ ڈالنے کیلئے ایک مہم بھی شروع کی جائے تاکہ ان طبقات کو تحفظات فراہم کئے جاسکیں۔ انتخابی اتحاد کے تعلق سے سی پی ایم نے کہا کہ غیر کمیونسٹ جماعتوں کے ساتھ کچھ مفاہمت ہو سکتی ہے جن سے پارٹی مفادات میں مددمل سکے ۔

TOPPOPULARRECENT