فرقہ پرست طاقتیںو نظریات ملک کیلئے سب سے بڑا خطرہ

٭ مودی فرقہ وارانہ منافرت بھڑکا رہے ہیں ٭ حالیہ شکست سے پارٹی کارکن مایوس نہ ہوں ٭ اے آئی سی سی اجلاس : سونیا و راہول کا خطاب

٭ مودی فرقہ وارانہ منافرت بھڑکا رہے ہیں
٭ حالیہ شکست سے پارٹی کارکن مایوس نہ ہوں
٭ اے آئی سی سی اجلاس : سونیا و راہول کا خطاب

نئی دہلی 17 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) لوک سبھا انتخابات کیلئے کانگریس کی باگ ڈور ملنے کے بعد جارحانہ تیور اختیار کرتے ہوئے پارٹی نائب صدر راہول گاندھی نے مایوسی کا شکار پارٹی کیڈر میں جوش و خروش پیدا کرنے کی کوشش کی اور ملک کو کانگریس سے نجات دلانے کے نام پر نریندر مودی جو مہم چلا رہے ہیں اس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ تقسیم پسندانہ سیاست پر عمل پیرا ہیں۔ کل ہند کانگریس کمیٹی کے دن بھر چلے اجلاس میں راہول گاندھی اورسونیا گاندھی نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔

سونیا گاندھی نے کہا کہ ملک کو فرقہ پرست طاقتوں اور ان کے نظریات سے سب سے بڑا خطرہ درپیش ہے جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ راہول گاندھی نے بی جے پی پر فرقہ وارانہ منافرت کی آگ بھڑکانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ عوام کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرتی ہے اور سارے ملک کا ڈھانچہ ایک شخص کے ہاتھ میں دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ کانگریس نے دیگر ہم خیال سیاسی اور سماجی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ انتہائی اہمیت کے حامل اس وقت میں ایک ساتھ آجائیں۔ راہول گاندھی نے کل ہند کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں 45 منٹ کی تقریر کی جس کا وقفہ وقفہ سے حاضرین کی جانب سے خیر مقدم کیا جاتا رہا ۔ انہوں نے پارٹی کے عوام تک رسائی میں اضافہ کی کوشش کی اور واضح کیا کہ وہ نوجوانوں ‘ خواتین ‘ پچھڑے ہوئے طبقات وغیرہ کے علاوہ ان افراد کے مفادات کیلئے جدوجہد کرینگے

جو خط غربت سے اٹھ چکے ہیں اور مڈل کلاس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی میں طرز کارکردگی میں تبدیلی کا بھی اشارہ دیا اور کہا کہ وہ امیدواروں کے انتخاب جیسے فیصلہ سازی کے عمل میں عوام خاص طور پر خواتین کی رائے کا احترام کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹکٹس کانگریس کے حامیوںکو نہیں دئے جائیں گے بلکہ ان کو دئے جائیں گے جن کے خون میں کانگریس ہوگی ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ لوک سبھا کیلئے 15 امیدواروں کو مقامی یونٹوں کی رائے کی بنیاد پر منتخب کیا جائیگا ۔ یہ تجربہ کامیاب ہونے کے بعد اس کو وسعت دی جائیگی ۔ یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ کانگریس کو سخت جدوجہد کا سامنا ہے راہول گاندھی نے کہا کہ یہ صرف تاریخ کا ایک اور ورق نہیں پلٹ رہا ہے جہاں ایک انتخاب میں مقابلہ ہوگا

اور کامیابی یا ناکامی ملے گی ۔ یہ ہماری قوم کے سفر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ کوئی بھی اپنے مکمل اور کامل اختیار سے کم کوئی بات قبول کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ کوئی بھی کسی طرح کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یا تو ہمیں ان کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہئے یا پھر ہم کو ان کی نمائندگی سے دستبردار ہوجانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اطراف جو تبدیلیاں آ رہی ہیں وہ رک نہیں سکتیں ۔ ہمارے سامنے ضرورت تبدیلی کی نہیں ہے بلکہ اس بات کی ہے کہ یہ تبدیلی کب اور کیسی ہو۔

لوک سبھا انتخابات کی بگل بجاتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارٹی اسے درپیش سخت لڑائی کیلئے تیار ہے اور ہم جب تک کامیابی حاصل نہیں کرلیتے رکنے والے نہیں ہیں۔ پارٹی کارکنوں میں حوصلہ اور جوش و خروش پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر انہوں نے کہا کہ چاہے رات کتنی ہی سیاہ کیوں نہ ہو اور لڑائی کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو کانگریس پارٹی ایک جنگجو کی طرح سر بلند کرتے ہوئے جائیگی اور وہ حوصلہ نہیں ہاریگی ۔

بی جے پی اور نریندر مودی کے کانگریس سے پاک ہندوستان مہم کو نشانہ بناتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس ایک نظریہ ہے جسے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ جس کسی نے اس نظریہ کو ختم کرنے کی کوشش کی وہی تباہ ہوگیا ہے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ملک کی جمہوریت کی بنیادوں کو مستحکم کرتے ہوئے اس ملک کی خدمت کی ہے ۔ اب ملک میں عوام کی طاقت میں اضافہ کرنے کیلئے بڑْ اقدام کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معلومات ایک طاقت ہے اور کانگریس نے آر ٹی آئی کے ذریعہ عوام کو یہ طاقت دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوک پال بل پر کئی گوشوں سے تماشہ کیا گیا لیکن یہ بل کانگریس نے منظور کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے حکومت کا تیسرا پلر پنچایت راج قائم کیا ۔

اس کے ذریعہ لاکھوں عوام کو اختیارات حاصل ہوئے ہیں اور عوام ہمارے سیاسی نظام تک رسائی حاصل کرسکے ہیں۔ علاوہ ازیں کانگریس کی جانب سے ٹکنالوجی کو بہتر بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ کانگریس نے گذشتہ دس سال میں جو کچھ بھی کیا ہے وہ کسی اور نے نہیں کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا حل یہ ہے کہ ہمارے عوام کو اختیار منتقل کیا جاتا رہے ۔ انہوں نے کہا کہ چاہے ہماری ناکامیوں سے ہمیں کتنی ہی مایوسی ہاتھ آئے ہم اس ملک سے محبت کرتے ہیں کیونکہ اس ملک نے ہمیں ایک دوسرے محبت کرنے اور متحد رکھنے کا درس دیا ہے ۔ ملک نے ہمیں یہ درس بھی دیا ہے کہ جدوجہد کتنی ہی سخت کیوں نہ رہے ہمیں حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے ۔

سونیا گاندھی پارٹی ورکرس سے کہا کہ وہ حالیہ اسمبلی انتخابات کی شکست سے دل چھوٹا نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی و شکست سیاست میں لازمی ہے اور کانگریس ہمیشہ چیلنجس سے مقابلہ کرکے آگے بڑھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو ماضی میں بھی مشکلات پیش آئی تھیں جو آج کی مشکلات سے بہت سخت تھیں لیکن ہم نے اپنا دل چھوٹا نہیں کیا ۔ راہول اور سونیا دونوں نے ہی راہول کو وزارت عظمی امیدوار نامزد کرنے کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ پارٹی میں یہ روایت ہے کہ اس کے عوامی منتخبہ رائے دہندے ہی ملک کے وزیر اعظم کا انتخاب کرتے ہیں۔ راہول گاندھی نے حکومت کو عملا ہدایت دیتے ہوئے خواہش کی کہ سبسڈی پر فراہم کئے جانے والے پکوان گیس سلینڈرس کی تعداد کو 9 سے بڑھا کر 12 کیا جانا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT