Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / فرقہ پرست عہدیداروں کا نیا انداز ، نام پوچھ کر عام آدمی پر حملہ

فرقہ پرست عہدیداروں کا نیا انداز ، نام پوچھ کر عام آدمی پر حملہ

حیدرآباد ۔ 15 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : کشن باغ تشدد واقعہ کے دوسرے دن پولیس نے ایک شہری کو نام پوچھ کر مسلمان ہونے پر مبینہ طور پر ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا بلکہ اسے بری طرح زخمی کر کے رقم 3600 روپیوں کو چھین لیا ۔ پولیس تشدد کا شکار اس غریب مسلمان نے اپنا نام محمد رشید علی بتایا جو کہ وٹے پلی فاروق نگر کا مکین ہے ۔ لیبر کا کام کرنے والے اس

حیدرآباد ۔ 15 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : کشن باغ تشدد واقعہ کے دوسرے دن پولیس نے ایک شہری کو نام پوچھ کر مسلمان ہونے پر مبینہ طور پر ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا بلکہ اسے بری طرح زخمی کر کے رقم 3600 روپیوں کو چھین لیا ۔ پولیس تشدد کا شکار اس غریب مسلمان نے اپنا نام محمد رشید علی بتایا جو کہ وٹے پلی فاروق نگر کا مکین ہے ۔ لیبر کا کام کرنے والے اس فرد نے آج صبح حسب معمول مغل کالونی کا رخ کیا اور ریلوے لائن کے قریب موجود پولیس کی کالیس گاڑی سے انہیں آواز دی گئی کہ بیگ میں کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ٹفن اور پانی کا بوتل ہے پھر استفسار کرنے پر انہوں نے جب اپنا نام محمد رشید بتایا تو گاڑی میں موجود 8 پولیس والے ان پر ٹوٹ پڑے ۔ غمزدہ اور دکھ بھرے انداز میں رشید نے بتایا کہ 8 پولیس والوں نے مبینہ طور پر ایک آنکھ کو ہاتھ سے بند کرنے کے بعد دوسری آنکھ پر مکے رسید کرنے شروع کردئیے ۔ لاٹھیوں سے مارنے کے علاوہ جسم کے نازک حصہ کو بری طرح نشانہ بنایا ۔ یہی نہیں بلکہ تلگو زبان میں گندگی گالیاں دیں ۔ بعد ازاں رشید نے پولیس اسٹیشن میں شکایت کے لیے طویل انتظار کے بعد سرکل سے ملاقات کا موقع دیا گیا جہاں سرکل نے اس غریب کو حکم دیا کہ وہ ان پولیس عہدیداروں کی شناخت کرے ۔ غریب اور بے قصور رشید کا استفسار ہے کہ کس طرح ایک عام شہری جس کی ایک آنکھ پر ہاتھ رکھ دیا گیا ہے اور 8 پولیس عہدیدار اسے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دوسری آنکھ ناکارہ کردیئے ہیں تو وہ کیسے کسی پولیس والے کی شناخت کرے گا ۔ کیا مسلمان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ کیا اس غنڈہ راج کا کوئی جواب طلب کرنے والا نہیں

TOPPOPULARRECENT