Sunday , November 19 2017
Home / مضامین / فریضہ حج پر ایران کی پابندی درپردہ مقاصد

فریضہ حج پر ایران کی پابندی درپردہ مقاصد

محمد طبیان عاصم

دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والا اور کسی بھی نسل و رنگ کا مسلمان کیوں نہ ہو اسے شہر مکہ پہنچ کر کعبہ کا طواف کرنا اور پیارے آقا تاجدارے مدینہ حضرت محمد ﷺ کے روضہ مبارک پر پہنچ کر درود وسلام پڑھنا اس کی دلی خواہش ہوتی ہے لیکن سعودی حکومت سے سفارتی  سطح پر ہونے اختلافات اور رنجیشوں کے بعد نے ایران کی جانب سے اپنے باشندوں کو فریضہ حج سے منع کرنے کے اعلان نے عالم اسلام میں ایک بے چینی کی فضاء پیدا کردی ہے۔ ایران کے اس فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے جن کے جوابات حاصل کرنا کسی قدر مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ ایران کی بیرون ملک اپوزیشن تنظیم ’’ایرانی قومی مزاحمتی کونسل‘‘ کی جانب سے پیرس میں تنظیم کے صدر دفتر میں ایک سیمینار منعقد کروایا گیا۔ سیمینار میں ماہرین، سابق ذمہ داران اور عرب اور ایرانی مذہبی شخصیات نے ایران کی جانب سے حج کو سیاست میں ملوث کرنے اور اپنے شہریوں کو اسلامی فریضہ کی ادائیگی کی وجوہات پر روشنی ڈالی۔ شرکاء کے مطابق ایرانی ملائیت کے نظام نے حج پر پابندی لگا کر سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے کا ارادہ ظاہرکیا تاہم وہ خود ہی اسلامی دنیا سے علحدہ ہوگیا اور اسلامی اجماع کے باہر اپنے موقف کے سبب وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بن گیا، خواہ یہ تنقید خود ایرانی عوام کی جانب سے ہو یا پھر عرب اور اسلامی ممالک کے عوام کی جانب سے کی گئی ہو۔ ایرانی دہشت گردی کے خلاف امت کا اجماع: فلسطین کے سابق چیف جسٹس اور الخلیل شہر کی جامع مسجد کے امام الشیخ تیسیر التمیمی نے انٹرنیٹ کے ذریعہ نشر کئے جانے والے سمینار کے دوران گفتگو میں کہا کہ “استنبول میں اسلامی کانفرنس تنظیم کے سربراہ اجلاس میں ایرانی نظام کی مذمت میں امت مسلمہ کا اجماع، ولایت فقیہ کے نظام کے خلاف مشرق سے لے کر مغرب تک امت اسلامیہ کے اجماع کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ نظام جو اس امت کے خلاف بہت سے جرائم کا مرتکب رہا ہے ، ان میں قتل و غارت گری، جنگیں، دہشت گردی اور انتہاپسندی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ  ولایت فقیہ کا نظام فریضہ حج سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تاکہ اپنے باطل نظریات، اپنی دہشت گردی اور عرب ملکوں میں ان جنگوں کا دائرہ مزید پھیلا سکے جس کے دوران شام، عراق، یمن اور دیگر ممالک میں لاکھوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جی ہاں وہ اس باطل نظریے کے واسطے مناسک حج کو استعمال میں لانا چاہتا ہے وہ بھی ایسی ریلیوں، مظاہروں اور نعروں کے ذریعہ جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیںہے۔الشیخ التمیمی کے مطابق  مْلّائی نظام رواں سال ہزاروں ایرانیوں کے حج نہ ادا کرنے کے گناہ اور بوجھ کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے امت مسلمہ پر زور دیا کہ  اس نظام کی کارروائیوں کے حوالے سے فیصلہ کن اور پر عزم موقف اختیار کیا جائے۔

پروپیگنڈے کے مقاصد اور بھرتی کی کوششیں: ایرانی قومی مزاحمتی کونسل میں آزادی ادیان کمیٹی کے سربراہ اور ایرانی مذہبی شخصیت جلال گنجئی نے اس خصوص میں کہا ہے کہ مْلائی نظام پروپیگنڈے سمیت متعدد مقاصد کے لئے حج سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ وہ مسلمان نوجوانوں کو شکار کر کے جاسوسی اور دہشت گردی کے گروپوں کے طور پر استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔ اس طرف سے چشم پوشی کرنے کا مطلب ہے کہ حج سیزن میں وہ اس سے زیادہ خطرناک طریقے سے مواقع سے فائدہ اٹھائے گا۔ اس لئے حج کو سیاست میں ملوث کرنے کے پہلو سے زیادہ باریک بینی کے ساتھ جائزے کی ضرورت ہے۔ مْلائی نظام نے دسیوں برسوں سے حج میں بدعت نکالی ہوئی ہے اور دوسروں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اس بدعت کو شیعہ فقہ کے مطابق مناسک حج کا حصہ سمجھیں۔
نت نئی رسومات: جلال گنجئی کے مطابق مْلائی نظام ’’مشرکین سے برات‘‘ کے نام سے مناسک حج میں ایک مکروہ اور نفرت انگیز مظاہرہ منظم کرواتا ہے۔ جس کوئی شیعہ فقہ سے واقف ہے وہ جانتا ہے کہ شیعہ فقہ مناسک حج کے حوالے سے ان اعمال سے کسی طور مختلف نہیں جو تمام مسلمان انجام دیتے ہیں۔ ان میں احرام، طواف، رمی، سعی، بال منڈانا اور ذبیحہ وغیرہ شامل ہیں۔

دھوکہ دہی کا نظام: دوسری جانب ایران میں اردن کے سابق سفیر ڈاکٹر بسام المعوش نے کہا ہے کہ سیاسی زبان میں ایرانی نظام وہ ہی ہے جو افغانستان میں داخلے کے لئے امریکہ کا اتحادی بنا جب کہ مظاہروں میں وہ امریکہ پر لعنت بھیج رہا ہوتا ہے۔ وہ حج میں ایک نئی ریت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ مردہ باد کے نعرے بلند کرنا چاہتا ہے لیکن یہ وہ ہی ایران ہے جو امریکہ کے ساتھ مل کر عراق میں داخل ہوا۔ یہ وہ نظام ہے جس نے گزشتہ برس امریکہ اور مغربی دنیا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے ہیں‘ تو پھر وہ ایرانی عوام کو دھوکہ دے کر جھوٹ کیوں بولتا ہے کہ میں امریکہ کی موت کیلئے دعا کرتا ہوں ؟ العموش کے مطابق ایرانی عوام کو مْلائی نظام سے پوچھنا چاہئے کہ تم لوگوں نے ایران میں ہم سے اقتدار سلب کرلیا اور اب بیت اللہ کا حج بھی سلب کر رہے ہو؟۔ العموش نے واضح کیا کہ یہ اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے لہذا اس پر خاموشی جائز نہیں۔ اردن کے سابق سفارت کار نے کہا کہ یہ نظام ایرانی عوام اور عرب دنیا کے لئے اذیت رسانی کا ذریعہ ہے۔ اسی واسطے میں نے ماضی میں زور دیا تھا کہ تمام عرب ممالک اس کے ساتھ تعلقات منقطع کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ایران میں اردن کے سفارت خانے میں اپنی موجودگی کی بنیاد پر پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کسی عرب سفیر نے ایران کے خلاف سازش نہیں کی جب کہ پوری دنیا میں ہر ایرانی سفیر سازش کررہا ہوتا ہے۔ خود اردن میں ہم نے ماضی میں دیکھا کہ ایرانی سفیر نے اردن میں ایک مسلح تنظیم بنا ڈالی۔
حج کے سیزن سے فائدہ اٹھانا: ایرانی قومی مزاحمتی کونسل سے تعلق رکھنے والے سنابرق زاہدی نے کہا ہے کہ ولایت فقیہ کا نظام مشرق وسطی کے مختلف ممالک میں دہشت گردی اور جنگوں کے پھیلانے کے ساتھ ساتھ ان ممالک میں مداخلت کی بنیاد پر قائم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ نظام حج اور اس میں آنے والوں کو مْلائی نظام کی طرف کھینچنے کے ایک تیار پلیٹ فارم کی نظر سے دیکھتا ہے اور اگر اس بات کا امکان نہ رہا تو پھر حج پر جانے کی پابندی کو حربہ آزمانا بہتر ہے۔ ایسی صورت میں مشرکین سے برا ت کا معاملہ مْلائی نظام کے لئے محور کی حیثیت رکھتا ہے جس سے وہ دست بردار نہیں ہو سکتا۔

TOPPOPULARRECENT