Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / فرینڈلی پولسنگ کی دعویدار پولیس پر سنگین الزام

فرینڈلی پولسنگ کی دعویدار پولیس پر سنگین الزام

مسلم خاتون کو سرقہ کے الزام میں صنعت نگر پولیس سے ہراسانی ، لڑکی کو بھی پولیس اسٹیشن طلبی
حیدرآباد /15 مئی ( سیاست نیوز ) خواتین کے تحفظ اور احترام میں مثالی اقدامات کی دعویدار ریاستی حکومت اور کمیونٹی فرینڈلی پولیسنگ میں مگن پولیس کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب خود پولیس میں ان پالیسیوں کی خلاف ورزی کا موجب بن رہی ہیں ۔ ایک ایسا ہی حیرت ناک واقعہ صنعت نگر پولیس حدود میں پیش آیا جہاں گذشتہ 4 دنوں سے ایک مسلم خاتون کو سرقہ کے الزام میں پریشان کیا جارہا ہے۔ صبح اس خاتون کو پولیس اسٹیشن طلب کیا جاتا ہے تو رات دیر گئے ایسے گھر جانے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ صنعت نگر پولیس کا ایک عہدیدار اس خاتون کی 14 سالہ لڑکی کو بھی پولیس اسٹیشن طلب کر رہا ہے ۔ پولیس کو زیادتی کا شکار مسلم خاتون حسینہ نے اس پولیس عہدیدار پر الزام لگایا کہ اس نے 14 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر جان سے ماردینے کی دھمکی دی ہے ۔ گھریلو ملازمہ کا کام کرنے والی حسینہ بیگم گذشتہ 4 روز سے ہو رہی پولیس کی زیادتی بیان کرتے ہوئے آشکبار ہوگئی ۔ اپنی بے گناہی کو چیخ چیخ کر بیان کرنے والی اس خاتون کی آواز پولیس سنے سے ا نکار کر رہی ہے ۔ حالانکہ خاتون کے بیان کے مطابق اس کے انگلیوں کے نشانات بھی لئے گئے پھر بھی اسے پریشان کیا جارہا ہے ۔ اپنی لڑکی کے تحفظ سے پریشان حسینہ نے میڈیا سے اپنے مسائل رجوع کردئے ۔ اس خاتون کی داستان پر بچوں کے حقوق کیلئے سرگرم ’’بالالہ حکولہ سنگم ‘‘نے ا پنا سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور فوری مسئلہ کو پولیس کے اعلی عہدیداروں سے رجوع کردیا ہے ۔ مسٹر اچوت راؤ جو تنظیم کے سربراہ نے ڈی جی پی سے مطالبہ کیا کہ وہ صنعت نگر پولیس کے رویہ کا سخت نوٹ لیں ۔ حسینہ بیگم سلطان نگر علاقہ کی ساکن ہیں جو موتی نگر علاقہ میں چندر شیکھر نامی شخص کے مکان میں کام کرتی ہیں ۔ اس شخص کے مکان میں سرقہ کے بعد سے خاتون کو پریشان کیا جارہا ہے ۔ اس خاتون کا صنعت نگر پولیس کے عہدیدار وینکٹ ریڈی اور ایس کرشنا پر مبینہ الزام ہے کہ یہ دو عہدیدار انہیں پریشان کر رہے ہیں ۔ صبح پولیس اسٹیشن طلب کرنے کے بعد اس بے بس خاتون کو اس کی لڑکی کے ساتھ رات دیر گئے گھر جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور دن بھر ان سے بار بار ایک ہی سوال کیا جاتا ہے کہ آخر سونا کہاں ہے ۔ حسینہ کا کہنا ہے کہ اس نے کوئی غلطی نہیں کی پھر بھی اسے پریشان کیا جارہا ہے ۔ پولیس اس خاتون کو اس کے حقیقی بھائیوں سے تک بات کرنے کی اجازت نہیں دیتی اور قابل اعتراض سوالات کئے جاتے ہیں اور انتہائی رسواء کن عمل تلنگانہ پولیس کی جانب سے جاری ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ حالیہ دنوں کمشنر پولیس سائبرآباد مسٹر سندیپ شنڈلیہ نے ایک بیان میں تمام پولیس عہدیداروں اور بالخصوص انسپکٹران پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ شکایت گذار کے علاوہ پولیس سے رجوع ہونے والے شہریوں کا احترام کریں اور پوچھ تاچھ کے دوران کافی احتیاط کے ساتھ اقدام کریں تاکہ عوام میں پولیس کا احترام پیدا ہو اور برقرار رہ پائے ۔ تاہم صنعت نگر پولیس ایک طرف حکومت اور پولیس کے اعلی عہدیداروں کے اوصول کو بھی اپنے قدموں تلے روندنے کے مانند اقدامات کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے ۔ پولیس اور حکومت کو چاہئے کہ وہ صنعت نگر واقعہ کا سخت نوٹ لیں اور اس خاتون اور اس کی لڑکی کے تحفظ کے اقدامات کریں ۔ جس کو پولیس سے خطرہ لاحق ہونے کے الزامات پائے جاتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT