Sunday , January 21 2018
Home / ہندوستان / فسادات پر مودی کی عدم معذرت خواہی مایوس کن

فسادات پر مودی کی عدم معذرت خواہی مایوس کن

نئی دہلی 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام )مرکزی وزیر فینانس پی چدمبرم نے کہا کہ نریندر مودی کو 2002 کے گجرات فسادات میں عدالتوں نے بے قصور قرار نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار گجرات فسادات کی اخلاقی اور سیاسی جوابدہی کو تسلیم کرنے سے انکار کے اپنے موقف پر اٹل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی مایوس کن ہے کہ مودی فساد

نئی دہلی 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام )مرکزی وزیر فینانس پی چدمبرم نے کہا کہ نریندر مودی کو 2002 کے گجرات فسادات میں عدالتوں نے بے قصور قرار نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار گجرات فسادات کی اخلاقی اور سیاسی جوابدہی کو تسلیم کرنے سے انکار کے اپنے موقف پر اٹل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی مایوس کن ہے کہ مودی فسادات کیلئے معذرت خواہی کرنے پر امادہ نہیں ہے۔ ان کی ملک گیر انتخابی مہم کے پس پردہ اکثریتی طبقہ کی اجارہ داری ہے اور کانگریس انہیں اس کا منہ توڑ جواب دیگی۔ انہوں نے کہا کہ 2002 میں جو کچھ ہوا اس کے دو پہلو ہیں ایک قانونی تعزیری پہلو اور دوسرا اخلاقی و سیاسی جوابدہی کا پہلو پہلا معاملہ ہنوز عدالت میں ہے۔ ایک عدالت نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کو تسلیم کیا ہے۔

دوسری عدالت نے اس رپورٹ کو چیلنج کیا گیا ہے لیکن وہ اس معاملہ پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن سیاسی اور اخلاقی جوابدہی کی ذمہ داری چیف منسٹر پر عائد ہوتی ہے۔وہ کئی ماہ سے چیف منسٹر تھے جبکہ یہ واقعہ پیش آیا۔ اس کے باوجود وہ گذشتہ 12 سال سے عہدہ پر برقرار ہیں۔ انہوں نے اخلاقی اور سیاسی جوابدہی کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ مایوس کن بات یہ ہے کہ وہ زبانی طور پر بھی معذرت کرنا نہیں چاہتے ۔ چدمبرم سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ یقین رکھتے ہیں کہ مودی کو عدالتوں کی جانب سے 2002 کے فسادات کے سلسلہ میں تمام الزامات سے بری کردیا گیا ہے۔ اپنی بجٹ تقریر میں اکثریتی فرقہ کی اجارہ داری کے حوالے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس نے کہا کہ اگر مودی اکثریتی فرقہ کی اجارہ داری کی تائید کرسکتے ہیں تو ہم انہیں منہ توڑ جواب دیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ اکثریت کی اجارہ داری حکمرانی کا طریقہ نہیں ہے۔ یہ جمہوری طرز حکمرانی کے خلاف ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہ کیا انہوں نے انتخابی مہم کے دوران مودی میں کوئی تبدیلی دیکھی ہے چدمبرم نے فوری جواب دیا بے شک اکثریتی طبقہ کی اجارہ داری پوشیدہ ہوگئی ہے۔ ان کی تقریریں گہرائی سے مطالعہ کریںان کا رویہ اکثریتی فرقہ کی اجارہ داری پر ہی مبنی ہے اس کے علاوہ وہ ہمیشہ ’’میںاور میرا‘‘جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ چدمبرم نے کہا کہ ان کے خیال میں وہ اکثریتی فرقہ اور انا پسندی کے نظریہ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا مودی ہندوستان کے نظریہ کیلئے خطرہ ہے چدمبرم نے کہا کہ کوئی بھی ہندوستان کے نظریہ کو تباہ نہیں کرسکتا ۔مودی کسی شمار میں ہی نہیں ہیں۔آر ایس ایس بھی ایسا نہیں کرسکی۔

TOPPOPULARRECENT