فسادات کے ذریعہ مسلمانوں میں خوف و دہشت پیدا کرنے کی سازش

محبوب نگر۔25جنوری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ہندوستان جیسے اعلیٰ ترین سیکولر ملک کے وزارت عظمی کے عہدے پر فائز ہونے کا نریندر مودی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار پی مدھو ( سابق ایم پی ) نے مستقر محبوب نگر کے ٹاؤن ہال پر ایک جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ ’’سیکولرازم کے تحفظ ‘‘ کے موضوع پر اس جلسہ کا اہتمام آواز کمیٹی اور سی

محبوب نگر۔25جنوری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ہندوستان جیسے اعلیٰ ترین سیکولر ملک کے وزارت عظمی کے عہدے پر فائز ہونے کا نریندر مودی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار پی مدھو ( سابق ایم پی ) نے مستقر محبوب نگر کے ٹاؤن ہال پر ایک جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ ’’سیکولرازم کے تحفظ ‘‘ کے موضوع پر اس جلسہ کا اہتمام آواز کمیٹی اور سی آئی ٹی یو نے کیا تھا ۔ پی مدھو نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حال میں منعقدہ انتخابات کے نتائج کو لیکر بی جے پی مرکز میں اقتدار کی بات کررہی ہے ۔انہوں نے ملک کی تقریباً ریاستوں میں برسراقتدار اپوزیشن جماعتوں کے اعداد و شمار کا تفصیلی ذکر کیا اور کہا کہ مرکز میں حکومت سازی کیلئے 270 نشستوں پر کامیابی ضروری ہے ۔

انہوں نے استفسار کیا کہ آخر اتنی تعداد میں نشستیں بی جے پی کہاں سے جیتے گی ؟ انہوں نے پورے یقین کے ساتھ کہا کہ بی جے پی نہ حکومت بنائے گی اور نہ نریندر مودی وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ سکیں گے یہ صرف حسین خواب ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست گجرات میں حکومت کرتے ہوئے اقتدار کی طاقت سے انہوں نے اپنے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگ لئے ۔ بی جے پی ‘ آر ایس ایس اور وی ایچ پی متفقہ طور پر نریندر مودی کو وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں جس کی تیاری کے طور پر فرقہ وارانہ فسادات کا ناپاک منصوبہ تیار کیا گیا ۔ انہوں نے یو پی کے مظفر نگر کے مسلم کش فسادات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ صرف ایک نوجوان کے عشقیہ واقعہ کو بڑے فساد میں تبدیل کردیا گیا ۔ 27ستمبر کو انسانیت کو شرما دینے والے مظالم مسلمانوں پر ڈھائے گئے اور مسلمانوں کی ہمدردی کا ڈھونگ رچانے والی حکومتیں تماشائی رہ گئیں ۔ سنگھ پریوار عناصر چاہتے ہیں کہ مسلم اکثریتی اور اقلیتی علاقوں میں فسادات سے مسلمانوں میں خوف و دہشت پیدا کرنے کی سازش پر عمل کیا جائے ۔ انہوں نے کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیا

اور کہا کہ اس کی غلط او رعوام دشمن پالیسیوں نے بی جے پی کو راستہ فراہم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ناقابل اعتبار اور موقع پرست جماعت ہے ۔ انہوں نے پُرجوش انداز میں کہا کہ جہاں 10کمیونسٹ کارکن ہیں وہاں فرقہ پرست کامیاب نہیں ہوں گے ۔ جناب ظہیر الدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر ’’سیاست‘‘ نے اپنے جامع خطاب میں کہا کہ میڈیا کو کنٹرول کرنے والی امریکی پالیسیاں ہمارے ملک میں اپنائی جارہی ہیں ۔ میڈیا نریندر مودی کو حد سے زیادہ اُجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم کے آئندہ امیدوار کے طور پر پیش کررہا ہے ۔ اس حقیر کام کی تکمیل کیلئے چار لاکھ کروڑ کا انوسٹمنٹ کرتے ہوئے بیرون ملک کمپنیوں کو اس کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ نریندر مودی اپنے ناپاک مقاصد کے حصول کیلئے مسلسل تگ و دو کررہے ہیں ۔ گجرات میں 225 لاکھ ایکڑ زمین انتہائی معمولی قیمتوں میں ہندوجا اور امبانی والوں کو فراہم کی گئی ہے ۔ منیجنگ ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ محض اقتدارکی خاطر فسادات شروع کئے گئے ۔ آج تک مظفر نگر میں فساد نہیں ہوا تھا ۔ آسام میں کیوں فساد ہوا ؟ یو پی اور بہار میں آئندہ انتخابات چمکنے کی خاطر سنگھ پریوار فسادات کرانا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کے نام پر سنگھ پریوار کی اقتدار کیلئے یہ آخری کوشش ہے لیکن آج مسلمان ‘ ایس سی ‘ ایس ٹی اور بی سی متحد ہوکر اس کو دفن کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ میں محبوب نگر کو سنگھ پریوار نشانہ پر رکھے ہوئے ہیں لیکن آج متحد ہوکر ان کے ناپاک عزائم کو ختم کیاجاسکتا ہے ۔ منیجنگ ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ آج ملک میں سیکولرازم زندہ ہے تو وہ صرف کمیونسٹوں کی وجہ سے زندہ ہے ‘ کیونکہ وہ مذہب اور ذات پات کی سیاست نہیں کرتے ۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں ‘ اجمیریا مکہ مسجد بم دھماکے اس میں ہلاک ہونے والے بھی مسلمان ہوتے ہیں اور مقدمات بھی ان پر ہی درج کئے جاتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ میڈیا مسلمانوں کو دہشت گرد بتاتاہے لیکن مسلمانوں کے گھروں میں جھانک کر دیکھا جائے تو ایک وقت کا کھانا صحیح میسر نہیں ہوتا ۔ جناب عزیز پاشاہ سابق ایم پی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں صرف ایک نشست رکھنے والی فرقہ پرست جماعت آج نریندر مودی جیسے آدم خور کو زیراعظم کے عہدہ پر بٹھانے کیلئے دوڑ دھوپ کررہی ہے ۔

آج تاریخ کو مسخ کر کے ملک کے معصوم عوام کے ذہنوں کو بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ آزادی کے بعد سے چھوٹے بڑے کُل 35ہزار فسادات کروائے گئے اور کانگریس نے صرف کمیشن بٹھاتے ہوئے ہمارے آنسو پوچھنے کی کوشش کی ہے ‘30کمیشن بٹھائے گئے لیکن کسی کمیشن کی سفارش پر عمل نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے عوام سیکولر ہیں اور نریندر مودی جیسے شرپسند کو کبھی اقتدار نہیں سونپ سکتے ۔ انہوں نے سنگھ پریوار جماعتوں کو شدید نشانہ بنایا اور کہا کہ آزادی کی لڑائی میں آر ایس ایس نے برطانوی سامراج کے ایجنٹ کا کردار ادا کیا ۔ انہوں نے سامعین کو متنبہ کیا کہ آج محبوب نگر پر سنگھ پریوار کی نظریں جمی ہوئی ہیں لیکن یہاں کے سیکولر عوام انہیں زبردست سبق سکھائیں ۔ جناب حنیف احمد اسٹیٹ کنوینر آر یو ایف نے کہا کہ 2014ء انتخابات کے پیش نظر آج سنگھ پریوار پوری طاقت کے ساتھ ناپاک ارادوں کو پورا کرنے میں جُٹ گئے لیکن آج ہمارا ایک ہی نعرہ ہے ’’ مودی ہٹاؤ سیکولرازم کو بچاؤ‘‘ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم سیکولرازم کی بنیادوں پر کاندھے سے کاندھا ملائے اُٹھ کھڑے ہوں ۔ جلسہ کو قدیر صدیقی صدر عیدگاہ کمیٹی ‘ فاروقی حسین نورالحسن معتمد عیدگاہ کمیٹی ‘ محمد حسن ایم ایم ایف ‘ کلے گوپال وغیرہ نے مخاطب کیا ۔ اس موقع پر محمد صادق اللہ ‘ ایم اے علیم ‘ اکبر ‘ الماس ‘ عبدالرحمن لکچرر ‘ رحمن صوفی ‘ گرو مورتی ‘چندراکانت ‘ سلطان ‘غوث ‘ مختار خان وغیرہ موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT