Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / فسطائی طاقتوں کیخلاف دانشوروں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت

فسطائی طاقتوں کیخلاف دانشوروں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت

ملک کے حالات پر توسیعی لیکچر، نرسنگ راؤ اور پروفیسر بیگ احساس کا خطاب
حیدرآباد۔13اگست(سیاست نیوز)انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیراہتمام کل منعقدہ توسیعی لکچر بعنوان ملک کے حالات( سیاسی ‘ سماجی اور تہذیبی پس منظر میں) سے صدارتی خطاب کے دوران پروفیسر بیگ احساس نے کہاکہ عالمی سطح کے حالا ت سے گھٹن محسوس ہورہی ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ ہندوستان میںبڑھتی فسطائیت کے خلاف محاذ ارائی کے متعلق ایک امید کی کرن بہار کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں نظر آئی تھی مگر دوسال کا بھی عرصہ نہیںگذر ا کہ بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔ پروفیسر بیگ احساس نے کہاکہ مختلف ریاستوں کے گورنر اکثریت حاصل کرنیو الی سیاسی جماعتوں کو حکومت بنانے سے روک رہی ہیں اور انہیںتشکیل حکومت کی دعوت دئے بغیر ہی کم سیٹوں والی سیاسی جماعتوں کو سازش کے ذریعہ اقتدار پر فائز کیاجارہا ہے ۔ پروفیسر بیگ احساس نے کہاکہ پچھلے سترہ سالو ں کی ہندوستان کی تاریخ میںایسا پہلی بار ہوا کہ ہے بی جے پی سے وابستہ شخص صدر جمہوریہ ہند کے باوقار عہدے پر فائز ہے جبکہ نائب صدر کی کرسی بھی بی جے پی نظریات کے حامل شخص کے حوالے کردی گئی ۔ انہوں نے جمہوری نظام کو ختم کرنے کی سازشوں کے خلاف سیکولر اقدار کی حامل شخصیتوں کے متحد پلیٹ فارم کو وقت کی اہم ضرورت قراردیا اور کہاکہ مگر اس قسم کے پلیٹ فارم کی تشکیل کے لئے ٹھوس تجویز کی کمی ہے۔ پروفیسر بیگ احساس نے اپنے صدارتی لکچر میںنرسنگ رائو کے لکچر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بہت ساری باتیں اشاروں میںکہی گئی ہیںجن کو روبعمل لانے کے لئے دانشور طبقے کا حرکیاتی رول وقت کی اہم ضرورت بن گیا ہے۔ ممتاز دانشور اور سماجی جہدکار بی نرسنگ رائو نے اپنے لکچر کی شروعات نئے نائب صدر جمہوریہ ہند ایم وینکیا نائیڈو کی پہلی تقریر کے حوالے سے کی اور کہاکہ نئے نائب صدر نے سابق صدر جمہوریہ کی وداعی تقریر کو سیاسی پروپگنڈہ قراردیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ ہند کے باوقار عہدے کی توہین کی ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ اس طرح کا بیان ایک نائب صدر جمہوریہ ہند کو زیب نہیںدیتا ۔ انہو ںنے اس کو سماجی زوال کی انتہا بھی قراردیا ۔ نرسنگ رائو نے کہاکہ غیر جمہوری نظریات کی حامل سیاسی جماعتوں کا اقتدار پر فائز ہونا اس زوال کی اصل وجہ ہے ۔ نرسنگ رائو نے بابری مسجد سے لیکر دادری تک کے واقعات کو اپنے لکچر میںسمیٹنے کی کوشش کی اور کہاکہ بابری مسجد کا سانحہ جہاںسکیولر ہندوستان کی تاریخ ایک سیاہ باب ہے وہیں پر دادری میں ہجوم کے ہاتھوں بے قصور او رنہتے اخلاق کا قتل اس سے زیادہ افسوسناک عمل ہے ۔ ‘ ان حالات میں جمہوریت پر ایقان رکھنے والوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت بھی بن گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہٹلر نے جس طرح دستور کو نظر انداز کرتے ہوئے کام کیا‘ اور جس طرح مسولینی نے دستور کو فراموش کرتے ہوئے کاروائیاں انجام دی ‘ اسی طرح کے طریقہ کار پر ہندوستان میںفسطائی طاقتیں کام کررہی ہیں جن کو روکنا ضروری ہے ۔ جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن پارلیمنٹ ‘ سینئر کمیونسٹ قائد جناب شمیم فیضی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ سرپرست کل ہند انجمن ترقی پسند مصنفین پدم شری مجتبیٰ حسین ‘ جناب تراب الحسن ‘ انعام الرحمن کے علاوہ حیدرآباد کے ممتاز دانشورشخصیتیں بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ جناب محبو ب خان اصغر نے کاروائی چلائی۔

TOPPOPULARRECENT