Wednesday , November 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / فضائلِ روزِ جمعہ

فضائلِ روزِ جمعہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’روز جمعہ سے زیادہ بندگی اور عبادت والے دن میں نہ سورج طلوع ہوا نہ غروب ہوا (یعنی روز جمعہ عبادت و بندگی کے لئے ہر دن سے افضل و برتر ہے)‘‘۔ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک یوم جمعہ، یوم فطر سے بھی زیادہ افضل ہے‘‘۔
زمین پر چلنے والا ہر جانور (سوائے جن و انس کے) روز جمعہ سے ڈرتا ہے، کیونکہ قیامت جمعہ کے دن ہوگی۔ جمعہ کے دن مسجد کے باہر دروازے پر دو فرشتے آنے والے لوگوں کو ترتیب وار درج کرتے ہیں۔ اول نمبر پر ایسا شخص ہوتا ہے، جیسے اونٹ قربانی کرنے والا، دوسرے نمبر پر گائے قربانی کرنے والا، تیسرے نمبر پر ایسا شخص جس نے بکری کی قربانی کی ہو، پھر ایسا شخص جیسے کسی نے مرغی کو اللہ کی راہ میں دی ہو، پھر ایسا شخص جیسے کسی نے انڈا پیش کیا ہو۔ پھر جب امام خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے تو وہ کاغذ لپیٹ دیا جاتا ہے۔
حضرت ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بہتر دن جس میں آفتاب طلوع و غروب ہوگا جمعہ کا دن ہے، کیونکہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی دن جنت میں داخل ہوئے، اسی دن جنت سے زمین پر اُتارے گئے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے، اس گھڑی میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگے گا، اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرمائے گا‘‘۔
حضرت ابوسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’وہ مقبولیت کی گھڑی دن کی آخری ساعت ہے۔ یہ وہی ساعت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا‘‘۔
حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین جھنڈے لے کر نکلتے ہیں اور لوگوں کو بازاروں کی طرف لے جاتے ہیں، جب کہ ملائکہ مسجدوں کے دروازوں پر اُترکر آنے والے لوگوں کے نام حسب مراتب لکھتے ہیں، اول، دوم، سوم، یہاں تک کہ امام برآمد ہوتا ہے۔ جو شخص امام سے قریب رہ کر خطبہ سنتا ہے اور اس وقت کوئی بیکار بات نہیں کرتا، اس کا اجر ایک حصہ ہوتا ہے اور جو امام کے قریب رہ کر خاموش نہیں رہتا، اس پر دوہرا گناہ ہوتا ہے اور جو امام سے دُور رہ کر خاموشی سے خطبہ نہیں سنتا، اس پر بڑا گناہ ہوتا ہے‘‘۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص جمعہ کے دن جمعہ کی نماز جماعت سے پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک مقبول حج کا ثواب لکھ دیتا ہے اور اگر اسی جگہ مسجد میں رہ کر عصر کی نماز بھی پڑھتا ہے تو اس کے لئے عمرہ کا ثواب بھی مخصوص ہو جاتا ہے اور اگر اسی جگہ رہ کر مغرب کی نماز ادا کرے تو کوئی چیز ایسی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے اور اس کو نہ ملے‘‘۔ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’جس نے جمعہ کے دن امام کے ساتھ نماز پڑھی، کسی جنازہ میں حاضری دی، کچھ صدقہ دیا، کسی بیمار کی عیادت کی اور کسی نکاح میں بھی شریک ہوا تو اس کے لئے جنت واجب ہو گئی‘‘۔ (غنیۃ الطالبین)
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابوہریرہ! ہر جمعہ کے دن غسل کیا کرو، خواہ پانی خرید کر غسل کیا کرو‘‘۔ غسل جمعہ کا وقت صبح صادق کے طلوع کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ زیادہ مناسب یہ ہے کہ غسل سے فراغت کے بعد فوراً مسجد کو روانہ ہو جائے، تاکہ حدیث شریف کا اتباع ہو جائے اور جمعہ کی نماز تک طہارت ٹوٹنے سے خود کو محفوظ رکھنا چاہئے۔ غسل کا مقصد نماز جمعہ کی ادائیگی ہونا چاہئے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’جو شخص جمعہ کو غسل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو گناہوں سے پاک کردیتا ہے‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جمعہ کے دن مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو، کیونکہ اس روز اعمال کا ثواب دوگنا کردیا جاتا ہے اور میرے لئے اللہ تعالیٰ سے درجہ وسیلہ کی دعا مانگا کرو‘‘۔ کسی نے دریافت کیا: ’’یارسول اللہ! درجہ وسیلہ کیا ہے؟‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ جنت میں ایک ایسا اعلیٰ مقام ہے، جو صرف ایک نبی کو عطا ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ میں ہی وہ نبی ہوں، جس کو وہ مقام عطا ہوگا‘‘۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خود سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ ’’روشن رات اور روشن دن یعنی جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن (جس کی رات بھی روشن اور دن بھی روشن ہے) اپنے پیغمبر پر کثرت سے درود پڑھا کرو۔ جو شخص مجھ پر ہر جمعہ کو اسی (۸۰) بار درود پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے اسی (۸۰) برس کے گناہ معاف فرما دے گا‘‘۔ یہ سن کر میں نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! آپ پر درود کیسے پڑھائے جائے‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’یوں کہو اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ النَّبِیِّ الْاُمِّی اور اُنگلیوں پر تعداد شمار کرو‘‘۔ (مرسلہ)

TOPPOPULARRECENT