Saturday , December 16 2017
Home / مذہبی صفحہ / فضائل حضرت اِمام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

فضائل حضرت اِمام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعاء کو بھی شرف قبولیت عطا فرمائی اور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ ہی کی ذریت میں سے تشریف لائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعاء جس پتھر پر کھڑے ہوکر مانگی، اللہ تعالی کے حکم سے اس پتھر نے اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشان کو محفوظ کرلیا اور وہ پتھر مقام ابراہیم علیہ السلام کے نام سے آج بھی حرم کعبہ میں محفوظ ہے۔ اس واقعہ کو گزر کر چار ہزار سال بیت چکے، مگر اس پتھر پر سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشان کو آج تک نہیں مٹایا جا سکا، کیونکہ یہ نشان اس لمحے پڑے تھے، جب مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مانگا جا رہا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو چاہا تھا اور اس چاہنے کی یہ علامت سامنے آئی کہ مقام ابراہیم کا نشان نہ مٹ سکا اور جب خود آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے اور آپ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو چاہا تو حضرت امام حسین ؓکو اپنے کندھوں پر بٹھایا، ان کو اپنی زبان چُسائی، آپ سجدہ کرتے تو امام حسین ؓکندھوں پر ہوتے، مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بیٹھتے تو امام حسین ؓگود میں ہوتے، پس جب آمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دعاء مانگی گئی اور آپ کو چاہا گیا تو پتھر پر پڑنے والے نشانات کو محفوظ کرلیا گیا اور جب مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت امام حسین ؓکو چاہ رہے ہیں تو آپ کے لخت جگر حسین علیہ السلام کا ذکر کون مٹا سکتا ہے۔ ایک بدبخت یزید کیا، کروڑوں بدبخت یزید بھی ہو جائیں تو ذکر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نہ مٹا ہے اور نہ مٹے گا۔

حضرت سیدنا علی مرتضی کرم اللہ وجہہ بیان فرماتے ہیں کہ جب حسن ؓپیدا ہوئے تو ان کا نام حمزہ رکھا اور جب حسینؓ پیدا ہوئے تو ان کا نام ان کے چچا کے نام پر جعفر رکھا (حضرت علیؓ فرماتے ہیں) مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بلاکر فرمایا ’’مجھے ان کے یہ نام تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے‘‘ (حضرت علی ؓفرماتے ہیں) میں نے عرض کیا ’’ اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے نام حسن اور حسین رکھے‘‘۔ (مسند احمد بن حنبل)
حدیث مبارکہ میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ’’مجھے حکم آیا ہے کہ میں دونوں نام بدل دوں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ولادت کے ساتھ ہی امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما کا معاملہ زمینی نہ رہا۔ نام تک بھی زمینی رکھنے کی اجازت نہ ہوئی، بلکہ نام بھی آسمان سے بھیجے گئے۔ حدیث پاک میں ہے کہ ’’عمران بن سلیمان سے روایت ہے کہ حسن اور حسین اہل جنت کے ناموں میں سے دو نام ہیں، جو کہ دور جاہلیت میں پہلے کبھی نہیں رکھے گئے تھے‘‘۔ (ابن حجر مکی، الصواعق المحرقہ، ۱۹۲) پانچ سو سال کے پورے عرصہ میں کسی بچے کا نام حسن اور حسین نہیں رکھا گیا۔ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت کی خاطر اللہ تعالی کو یہ گوارا نہیں ہوا کہ جو میرے محبوب کے محبوب ہونے والے ہیں، ان کا نام بھی کسی اور کا رکھا گیا ہو۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’حسن اور حسین عرش کے دو ستون ہیں، لیکن وہ لٹکے ہوئے نہیں‘‘ اور آپ نے ارشاد فرمایا ’’جب اہل جنت، جنت میں مقیم ہوجائیں گے تو جنت عرض کرے گی اے پروردگار! تو نے مجھے اپنے ستونوں میں سے دو ستونوں سے مزین کرنے کا وعدہ فرمایا تھا۔ اللہ تعالی فرمائے گا ’’کیا میں نے تجھے حسن اور حسین کی موجودگی کے ذریعہ مزین نہیں کردیا؟ (یہی تو میرے دو ستون ہیں)‘‘۔ (طبرانی، المعجم الاوسط)

ایک اور حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ایک مرتبہ جنت نے دوزخ پر فخر کیا اور کہا میں تم سے بہتر ہوں۔ دوزخ نے کہا ’’میں تم سے بہتر ہوں‘‘۔ جنت نے دوزخ سے پوچھا کس وجہ سے؟۔ دوزخ نے کہا ’’اس لئے کہ مجھ میں بڑے بڑے جابر حکمراں فرعون اور نمرود ہیں‘‘۔ اس پر جنت خاموش ہو گئی تو اللہ تعالی نے جنت کی طرف وحی کی اور فرمایا ’’تو عاجز و لاجواب نہ ہو، میں تیرے دو ستونوں کو حسن اور حسین کے ذریعہ مزین کردوں گا‘‘۔ پس جنت خوشی اور سرور سے ایسے شرما گئی جیسے دلہن شرماتی ہے‘‘۔ (طبرانی، المعجم الاوسط)

جنت، حسن و حسین کے نام پر فخر کرتی ہے اور دوزخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اے دوزخ! حسن و حسین میرے پاس ہیں، اس لئے میں بہتر ہوں۔ چوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حسنین کریمین کو اپنا محبوب بنایا، لہذا ان کو وہ شرف عطا کیا، جو کائنات میں کسی اور کو نصیب نہ ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ (سفر میں) نکلے، ابھی ہم راستے میں ہی تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حسن و حسین علیہما السلام کی آواز سنی، دونوں رو رہے تھے اور دونوں اپنی والدہ ماجدہ (سیدہ فاطمہ زہرا) کے پاس ہی تھے۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے پاس تیزی سے پہنچے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے یہ فرماتے ہوئے سنا ’’میرے بیٹوں کو کیا ہوا؟‘‘۔ سیدہ فاطمہؓ نے بتایا کہ ’’انھیں سخت پیاس لگی ہے‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پانی لینے کے لئے مشکیزے کی طرف بڑھے۔ ان دنوں پانی کی سخت قلت تھی اور لوگوں کو پانی کی شدید ضرورت تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سیدہ فاطمہ سے فرمایا ایک بچہ مجھے دو۔ پس آپ نے اس کو پکڑکر اپنے سینے سے لگا لیا، مگر وہ سخت پیاس کی وجہ سے مسلسل رو رہا تھا۔ پس آپؐ نے اس کے منہ میں اپنی زبان مبارک ڈال دی، وہ اسے چوسنے لگا حتی کہ سیرابی کی وجہ سے سکون میں آگیا (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ) میں نے دوبارہ اس کے رونے کی آواز نہ سنی، جب کہ دوسرا بھی اسی طرح (مسلسل رو رہا تھا) پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’دوسرا بھی مجھے دے دو‘‘ تو سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے دوسرے کو بھی حضور کے حوالے کردیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس سے بھی وہی معاملہ کیا (یعنی زبان مبارک اس کے منہ میں ڈالی) سو وہ دونوں ایسے خاموش ہوئے کہ میں نے دوبارہ ان کے رونی کی آواز نہ سنی‘‘۔ (امام طبرانی، المعجم الکبیر جلد ۳، صفحہ ۵۰)
تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی محبوبیت کا مقام کیا ہے، درج ذیل حدیث مبارکہ سے یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے۔ حضرت ابرہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہمراہ نماز عشاء ادا کر رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سجدے میں گئے تو حسن اور حسین علیہما السلام آپ کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے۔ جب آپ نے سجدے سے سر اٹھایا تو ان دونوں کو اپنے پیچھے سے نرمی کے ساتھ پکڑکر زمین پر بٹھا دیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دوبارہ سجدے میں گئے تو شہزادگان نے دوبارہ ایسے ہی کیا (یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نماز مکمل کرلی، اس کے بعد دونوں کو اپنی مبارک زانووں پر بٹھا لیا‘‘۔ (احمد بن حنبل، المسند)

TOPPOPULARRECENT