Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / فضائیہ کا پٹھان کوٹ فوجی اڈہ انتہائی غیر محفوظ

فضائیہ کا پٹھان کوٹ فوجی اڈہ انتہائی غیر محفوظ

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ ، صیانتی محکموں اور پنجاب پولیس پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار، جماعۃ الدعوہ پاکستان دہشت گرد حملہ کی ذمہ دار
نئی دہلی 3 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ایک پارلیمانی کمیٹی نے پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ کے انسداد سے قاصر رہنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ملک کے انسداد دہشت گرد انتظامیہ میں کوئی نہ کوئی سنگین کوتاہی موجود ہے۔ فضائی اڈہ کے حفاظتی انتظامات بے عیب نہیں ہیں۔ پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی برائے داخلی اُمور نے پنجاب پولیس کے کردار کو بھی قابل اعتراض اور مشکوک قرار دیا۔ کمیٹی نے کہاکہ حالانکہ دہشت گردی کے بارے میں چوکسی کا قبل ازوقت اعلان کردیا گیا تھا۔ اس کے باوجود دہشت گرد انتہائی حفاظتی انتظامات کے تحت قائم فوجی فضائی اڈے پر حملہ کرنے میں کامیاب رہے۔ کمیٹی نے کہاکہ ٹھوس اور قابل اعتماد محکمہ سراغ رسانی کی اطلاعات کے باوجود پٹھان کوٹ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس اور اُن کے دوست کے اغواء اور بعدازاں رہائی کے علاوہ دہشت گردوں اور اُن کے آقاؤں کے درمیان بات چیت میں دخل اندازی کے ذریعہ صیانتی محکموں کو اِس حملہ کے بارے میں قبل ازوقت پتہ چل گیا تھا لیکن اُن کی تیاری انتہائی ناقص تھی۔ وہ تیز رفتار اور فیصلہ کن انداز میں جوابی کارروائی کرنے سے قاصر رہے۔

کمیٹی نے کہاکہ اِس کا احساس ہے کہ انسداد دہشت گردی صیانتی انتظامیہ میں کوئی نہ کوئی سنگین کوتاہی موجود ہے۔ فوجی فضائی اڈے کا دورہ کرنے کے بعد کمیٹی نے کہاکہ اِس کی بیرونی دیوار کے قریب کوئی بھی سڑکیں نہیں ہیں۔ جھاڑیاں اور درخت اُگنے کی وجہ سے افواج کو دہشت گردوں ںکو نکال باہر کرنے میں دقت پیش آئی اور دہشت گردوں کو پوشیدہ رہنے میں مدد ملی۔ کمیٹی نے کہاکہ فضائی فوجی اڈے کے حفاظتی انتظامات ناکافی ہیں۔ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہولناک حملہ پاکستانی تنظیم جیش محمد کی کارستانی ہے۔ اُنھوں نے پٹھان کوٹ کے اغواء شدہ ایس پی اور اُس کے دوست کے لوٹے ہوئے موبائیل فون استعمال کئے تھے جن کی وجہ سے اِس کا پتہ چلایا جاسکے۔ ہتھیار، گولہ بارود اور دیگر کئی اشیاء مہلوک دہشت گردوں کے قبضہ سے ضبط کئے گئے جو پاکستانی ساختہ تھے۔ جتنی آسانی سے دہشت گرد پاکستان سے سرحد پار کرکے ہندوستان کی سرحد میں داخل ہوئے حالانکہ سرحد پر باڑ نصب ہے۔

تیز روشنی کے برقی قمقمے لگائے گئے ہیں اور سرحد کی سخت نگرانی کی جاتی ہے، اِس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستانی صیانتی محکمے دہشت گردوں کی مدد کررہے تھے ورنہ 6 مسلح دہشت گرد اتنی آسانی سے سرحد پار کرکے پٹھان کوٹ فوجی فضائی اڈے پر حملہ نہیں کرسکتے تھے۔ اِس سے صاف ظاہر ہے کہ اسمگلروں کے زیراستعمال نیٹ ورکس استعمال کرتے ہوئے یہ افراد سرحد پار کرنے، پناہ حاصل کرنے اور دہشت گرد حملے کرنے میں کامیاب رہے۔ حکومت کو سرحد کی ناکہ بندی پر توجہ دینی چاہئے۔ طلایہ گردی میں اضافہ کرنا چاہئے۔ باڑ اور تیز روشنی کے برقی قمقموں کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا چاہئے۔ فوجی فضائی اڈے کے پاس 24 گھنٹے طلایہ گردی ہونی چاہئے اور عوام کو اِس کے قریب آنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ کمیٹی نے کہاکہ جیش محمد کے علاوہ اِس حملہ کے ذمہ دار ہندوستان کے صیانتی محکمہ اور پنجاب پولیس بھی ہے جن کا کردار انتہائی مشکوک اور قابل اعتراض ہے۔

TOPPOPULARRECENT