Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / فضائی آلودگی سے متاثرہ ملک کے خطرناک شہروں میں حیدرآباد بھی شامل

فضائی آلودگی سے متاثرہ ملک کے خطرناک شہروں میں حیدرآباد بھی شامل

l دیپاولی کے بعد فضا میں زہریلے ذرات کی سطح میں اضافہ
l اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ احتیاطی اقدامات میں مصروف
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : فضائی ، آبی ، گھریلو اور دیگر اقسام کی آلودگیوں کے معاملہ میں ہندوستان ساری دنیا میں سرفہرست ہے ۔ دنیا میں ہر سال آلودگی کے باعث 90 لاکھ افراد کی موت ہوجاتی ہے جب کہ صرف ہندوستان میں آلودگی سے متاثر ہو کر سالانہ 25 لاکھ مرد و خواتین اور بچے فوت ہوتے ہیں ۔ حال ہی میں سائنسی و طبی جریدہ لانسیٹ میں لانسیٹ کمیشن برائے آلودگی کی جانب سے کئے گئے ایک جائزہ کے حقائق شائع ہوئے ہیں جس میں انکشاف کیا گیا کہ دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی ہندوستان میں پائی جاتی ہے ۔ دوسرے نمبر پر چین ہے جب کہ دس سرفہرست ملکوں میں کانگو ، ایتھوپیا ، امریکہ ، روس ، انڈونیشیا ، نائیجریا ، بنگلہ دیش اور پاکستان شامل ہیں ۔ لانسیٹ کی اسٹیڈی میں سال 2015 کے اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر سال 2015 میں فضائی آلودگی کے سبب 65 لاکھ اموات ہوئیں جن میں سے 28 فیصد اموات ہندوستان میں درج کی گئیں جن کی تعداد 1.81 ملین رہی 1.58 ملین اموات کے ساتھ چین دوسرے نمبر پر رہا ۔ ہندوستان کے شہروں میں دہلی آلودگی سے شدید متاثر رہی ۔ ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کا بھی برا حال ہے ۔ حالیہ دنوں بالخصوص روشنیوں کے تہوار دیپاولی کے بعد فضائی آلودگی کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ اور بے شمار افراد پھیپھڑوں کے عارضوں میں مبتلا ہوگئے ۔ پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا مریض کو بہت ہی احتیاط برتنی پڑتی ہے اور علاج بھی کافی مہنگا ہوتا ہے ۔ دیپاولی کے بعد ہمارے شہر میں آلودگی کی شرح میں گذشتہ سال کی بہ نسبت خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ حالانکہ ریاست میں آلودگی پر قابو پانے سے متعلق ایک بورڈ قائم ہے جو آلودگی کی سطح میں اضافہ پر نظر رکھتا ہے ۔ اس بورڈ نے ہوا کے معیار کی نگرانی کرنے والے اسٹیشنوں Continuous Ambient Air Quality Monitoring Stations (CAAQMS) طریقوں کے ذریعہ دیپاولی میں آتشبازی وغیرہ سے ہونے والی آلودگی اور فضا میں زہریلے ذرات کی سطح میں اضافہ کا جائزہ لیا ۔ ان اسٹیشنوں کے ذریعہ یونیورسٹی آف حیدرآباد صنعت نگر ، زو پارک اور اکریساٹ کے علاقوں میں نگرانی کے دوران انکشاف ہوا کہ یونیورسٹی آف حیدرآباد کے علاقہ میں عام دنوں میں فضا میں زہریلے یا معلق ذرات PM2.5 اور PM10 کی سطح 43 اور 81 ہوتی ہے لیکن دیپالی کے دوران وہ بالترتیب 102 اور 190 ہوگئی ۔ اسی طرح صنعت نگر میں PM2.5 زہریلے ذرات کی سطح عام دنوں میں 63 ہوتی ہے جو بڑھ کر 161 تک جا پہنچی زو پارک کے علاقہ میں عام دنوں میں 58 PM2.5 اور 103 PM10 ہوتی ہے تہوار کے ایام میں یہ بڑھ کر 107 اور 155 ہوگئی ۔ اکریساٹ کے علاقہ میں بھی فضائی آلودگی کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سلفر ڈائی اکسائیڈ اور نائیٹروجن کے آکسائیڈس میں بھی اضافہ ہوا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا شہر اور مضافاتی علاقوں میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ کی مسلسل شکایات مل رہی ہیں جس کے پیش نظر اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے گنڈی گڈیم اور آئی پماں ٹینکس میں آلودگی کا سخت نوٹ لیا ہے ۔ بورڈ نے 14 صنعتوں کو بند کرنے اور 15 کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT