Saturday , May 26 2018
Home / شہر کی خبریں / فلائی اوورس اور جنکشن کے تعمیراتی کاموں میں تیزی

فلائی اوورس اور جنکشن کے تعمیراتی کاموں میں تیزی

ٹریفک مسائل سے نمٹنے حکومت کے اقدامات ، اسٹراٹیجک روڈ ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مقامات کی نشاندہی
حیدرآباد ۔ 14 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد میں ٹریفک مسائل سے عوام کو راحت فراہم کرنے کے لیے ملٹی لیول فلائی اوور ، جنکشن ، اسکائی ویز کی تعمیرات پر حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ حکومت کے باوقار اسٹراٹیجک روڈ ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت منتخب کردہ مقامات پر فلائی اوورس اور جنکشن کی ترقی کا کام تیزی سے جاری ہے ۔ سڑکوں کی تعمیرات کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کرنے والی تلنگانہ حکومت نے ان کاموں کے لیے ایس آر ڈی پی کے تحت مزید 17,843 کروڑ روپئے مختص کرتے ہوئے سڑکوں کی ترقی کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کی ہے ۔ شہر حیدرآباد میں عوام کو ٹریفک مسائل سے چھٹکارا دلانے کے لیے حکومت نے 202 قومی شاہراہ عنبر پیٹ کے قریب 4 لائن فلائی اوور کے ساتھ دونوں جانب 2 سرویس روڈس کی تعمیرات کے لیے 338 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ جس میں حصول اراضیات پر 229 کروڑ روپئے فلائی اوور کی تعمیر کے لیے 111.71 کروڑ روپئے خرچ کرنے محکمہ عمارت و شوارع نے تخمینہ تیار کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کیا ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر اور ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے جب بھی دہلی گئے ہیں اس مسئلہ پر مرکزی حکومت سے تبادلہ خیال کیا ہے ۔ اس کے علاوہ گول ناکہ کوڈالی کے قریب واقع سلم بائیبل چرچ کے قریب سے ایک اور فلائی اوور شروع ہو کر عنبر پیٹ مارکٹ مکرم ہوٹل کے پاس ختم ہوگا ۔ اس فلائی اوور کی تعمیر کے لیے 4.26 ایکڑ حصول اراضی کی تجویز ہے ۔ ساتھ ہی اپل ، ایل بی نگر ، آرام گھر جنکشن کے قریب 3 ایلوٹیڈ کاریڈارس تعمیر کرتے ہوئے ٹریفک مسائل کو حل کرنے بھی منصوبہ بندی تیار کی گئی ہے ۔ ان علاقوں میں عوام کو ٹریفک مسائل کا سامنا ہے ۔ ان تینوں جنکشنس پر 1400 کروڑ روپئے خرچ کیے جارہے ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں 9204.15 کیلو میٹرس تک سڑکیں ہیں ۔ جب کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں 9103.35 کیلو میٹر سڑکیں ہیں ۔ محکمہ عمارت و شوارع اور قومی شاہراہوں کے شعبہ میں 84.50 کیلو میٹر ، ریاستی شاہراہ کے شعبہ میں 16.3 کیلو میٹر سڑکیں ہیں جنہیں مرحلے واری اساس پر ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT