Tuesday , April 24 2018
Home / Top Stories / فلاحی اقدامات اور ترقی اپوزیشن کو دکھائی نہیں دیتی: کے سی آر

فلاحی اقدامات اور ترقی اپوزیشن کو دکھائی نہیں دیتی: کے سی آر

قرض کا حصول بجٹ کا حصہ ،کوئی ریاست قرض سے مستثنیٰ نہیں، اسمبلی میں بی جے پی ارکان کو چیف منسٹر کا جواب

حیدرآباد ۔ 20 ۔مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے قرض حاصل کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔ ملک کی کوئی بھی ریاست قرض حاصل کئے بغیر فلاحی اور ترقیاتی کام انجام نہیں دے سکتی۔ چیف منسٹر نے حصول قرض پر بی جے پی ارکان کے اعتراض کا اسمبلی میں جواب دیتے ہوئے چیلنج کیا کہ بی جے پی اقتدار والی 21 ریاستوں میں کوئی ریاست ایسی بتائیں جو قرض حاصل کئے بغیر کام کر رہی ہے ۔ بجٹ پر مباحث کے بعد وزیر فینانس ای راجندر کے جواب کے درمیان مداخلت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے بی جے پی کی تنقیدوں کو مسترد کردیا اور چیلنج کیا کہ بی جے پی زیر اقتدار 21 ریاستوں میں کہیں بھی تلنگانہ کی طرح فلاحی اسکیمات موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیری تنقیدوں کا حکومت خیرمقدم کرے گی لیکن تنقید برائے سیاسی مفادات کو عوام پسند نہیں کریں گے۔ چیف منسٹر نے مرکز کی جانب سے حاصل کردہ قرض کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا 21 ریاستوں میں اقتدار ہے ، کیا وہ ریاستیں قرض حاصل نہیں کر رہی ہیں ؟ قرض حاصل کئے بغیر کیا حکومت چلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے وسائل اور حدود کے مطابق تلنگانہ حکومت قرض حاصل کر رہی ہے۔ قرض کا حصول بجٹ کا حصہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ اور جاپان کے مکمل بجٹ سے زیادہ قرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جی ڈی پی 167 لاکھ کروڑ ہے جبکہ ملک کا قرض 82 لاکھ کروڑ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرکز بجٹ کا 49.5 فیصد قرض حاصل کر رہا ہے ۔

جاریہ سال مرکزی حکومت 8.76 لاکھ کروڑ قرض حاصل کر رہی ہے۔ 2016-17 ء میں 5 لاکھ 35 ہزار 618 کروڑ ، 2017-18 ء میں 5 لاکھ 94 ہزار 849 کروڑ اور 2018-19 ء میں 6 لاکھ 24 ہزار 276 کروڑ کا قرض حاصل کیا گیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ان کے اپنے نہیں بلکہ وزیر فینانس ارون جیٹلی کے بجٹ میں پیش کردہ تفصیلات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں جی ایس ڈی پی کا 21 فیصد قرض حاصل کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ تلنگانہ میں کوئی اچھا کام نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ آسرا پنشن ، آبپاشی پراجکٹس ، ریاست کی ترقی ، کلیان لکشمی ، شادی مبارک ، اقامتی اسکولوں کا قیام جیسے اقدامات کیا بی جے پی ارکان کو دکھائی نہیں دے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش بی جے پی حکومت نے تلنگانہ کی کے سی آر کٹ اسکیم کی تفصیلات حاصل کرکے وہاں آغاز کیا ہے۔

چیف منسٹر نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے ریاست کی ترقی کو نظر انداز کرنا اور مناسب نہیں۔ ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایوان کے وقار کو ملحوظ رکھے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ نئی ریاست ہے ، اس کے باوجود 22 فیصد ترقی کے ساتھ وہ ملک کی نمبر ون ریاست بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے 17 ہزار کروڑ کے قرض معاف کئے گئے پھر بھی بی جے پی کہہ رہی ہے کہ ریاست میں کچھ نہیں ہوا۔ آپ کو کم از کم مثبت انداز میں گفتگو کرنی چاہئے ۔ تلنگانہ کی ایک بھی اسکیم بی جے پی برسر اقتدار ریاستوں میں دکھائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین سے وعدہ کے مطابق حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے اور ملک کی کسی بھی ریاست میں تلنگانہ کی طرح تنخواہیں نہیں ہے بلکہ مرکزی ملازمین سے زیادہ تلنگانہ ملازمین کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پے ریویژن کمیشن پر عمل آوری کی جائیگی اس کیلئے وقت ہے۔ سیاسی تنقیدوں سے ریاست کی مخالفت کرے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے بی جے پی فلور لیڈر کشن ریڈی اور ڈپٹی لیڈر ڈاکٹر لکشمن کو تیقن دیا کہ کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کے سلسلہ میں جو بھی درخواستیں انہوں نے پیش کی ہیں ، ان کی اندرون 4 یوم یکسوئی کردی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT