فلسطینیوں پر مظالم میں شریک اسرائیلی کمپنیوں کا بائیکاٹ ضروری

بی ڈی ایس تحریک کے مثبت نتائج ، عالمی سطح پر مخالفانہ کوششیں بھی جاری ، دورہ کنندہ وفد کی صحافیوں سے بات چیت
حیدرآباد۔28مارچ(سیاست نیوز) اسرائیلی کمپنیاں جو بے قصور فلسطینیوں پر مظالم میں شریک ہیں ان کا مقاطعہ کیا جانا ضروری ہے اور اسی لئے بی ڈی ایس تحریک چلائی جارہی ہے اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہونے لگے ہیں ۔ دنیا بھر میں جاری اس تحریک کو دبانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے لیکن ہندستانی عوام کی فلسطینیوں کے متعلق نظریہ میں تبدیلی نہ ہونے کے سبب بی ڈی ایس کو ہندستانی عوام میں مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔مسٹر محمود نواجا نے آج ایک خصوصی انٹرویو کے دوران یہ بات بتائی ۔ہندستان کا دورہ کر رہے بی ڈی ایس کے وفد نے گذشتہ دو یوم کے دوران شہر حیدرآباد میں مختلف اہم شخصیتوں سے ملاقات کی ۔ مسٹر محمود نواجا ‘ مسز مارین مانٹوانی اور مسز اپوروا نے چنندہ صحافتی نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ ہندستانی شہری اب بھی فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یگانگت کرتے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے جو سائبر ٹیکنالوجی اور زرعی ٹیکنالوجی کے نام پر اسرائیل کو مالی فائدہ پہنچایا جا رہاہے اس کے خلاف بی ڈی ایس دنیا بھر میں جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ مسٹر محمود نواجا نے بتایا کہ ہندستان میں عوام کے درمیان اس تحریک کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بھی حقائق سے واقف کروایاجارہاہے۔ مسز مارین مانٹوانی نے بتایا کہ اسرائیل سائبر ٹیکنالوجی کے نام پر مچصوم فلسطینیوں کے خون سے تیار کردہ ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہا ہے اور سائبر ٹیکنالوجی کے نام پر جو اسٹارٹ اپ شروع کرتے ہوئے نوجوانوں کو سائبر سیکیوریٹی کے شعبہ کی سمت راغب کیا جا رہاہے وہ سب محض اسرائیل کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔وفد نے بتایا کہ اسرائیل کی جن کمپنیوں سے ہندستان زرعی ٹیکنالوجی خرید رہا ہے وہ کمپنیاں مظلوم فلسطینیوں کو ان کی زمین اور ان کے مکانات سے بیدخل کرنے کے مرتکب ہیں اور ان کے متعلق متعدد رپورٹس منظر عام پر آچکی ہیں۔ وفد کے ارکان نے تلنگانہ کے محکمہ زراعت اور آبپاشی کے عہدیداروں اور کسانوں کی اسرائیل میں تربیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو ٹیکنالوجی ہندستانی کمپنیوں کے پاس موجود ہے اسی ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے حکومت ہند و ریاستی حکومتیں اسرائیلی کمپنیوں کو رعایتیں فراہم کر رہی ہیں اور اس بات کا شعور عوام میں اجاگر کرنے کی بی ڈی ایس کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے اور ان کوششوں میں بڑی حد تک کامیابی حاصل ہورہی ہے۔ مسٹر محمود نواجا کوآرڈینٹر انٹرنیشنل بی ڈی ایس تحریک نے بتایا کہ اس تحریک سے نوجوان ازخود وابستگی اختیار کر رہے ہیں اور تحریک کو مستحکم کرتے ہوئے اسرائیلی معیشت کو کمزور کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT