Tuesday , October 23 2018
Home / Top Stories / فلسطینی عوام، امریکہ کا امن منصوبہ قبول نہیں کریں گے

فلسطینی عوام، امریکہ کا امن منصوبہ قبول نہیں کریں گے

محمود عباس کا فرانسیسی صدر کیساتھ پیرس میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب
پیرس ۔ 22 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) فلسطینی اتھاریٹی کے صدر محمود عباس نے آج کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے یروشلم کو یکطرفہ طور پر اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے بعد فلسطینی عوام اب امریکہ کی طرف سے تجویز کردہ کسی بھی امن منصوبہ کو قبول نہیں کریں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ خفیہ طور پر ایک منصوبہ تیار کررہا ہے جو توقع ہیکہ 2018ء میں دونوں فریقوں (اسرائیل۔ فلسطین) کو پیش کیا جائے گا۔ فرانس کے صدر ایمینیول میکرون سے پیرس میں ملاقات کے بعد محمود عباس نے کہا کہ ’’امریکہ اس امن مساعی میں ایک بددیانت ثالث ثابت ہورہا ہے اور امریکہ کے کسی منصوبہ کو اب ہم مزید قبول نہیں کریں گے‘‘۔ انہوں نے جمعرات کو اقوام متحدہ میں کی گئی رائے دہی سے قبل امریکہ کی جانب سے رکن ممالک کو ڈرانے دھمکانے کی کوششوں کی مذمت بھی کی اور کہا کہ اس کے باوجود 128 ملکوں نے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت کی حیثیت سے تسلیم کئے جانے کی مذمت کی۔ محمود عباس نے کہا کہ ’’میں توقع کرتا ہوں کہ دوسرے بھی اس سے سبق سیکھیں گے اور اس بات کو سمجھیں گے کہ دولت کا استعمال کرتے ہوئے اور ملکوں کو خریدتے ہوئے آپ اپنے حل مسلط نہیں کرسکتے‘‘۔ فرانسیسی صدر میکرون نے یروشلم پر امریکی فیصلہ کی مذمت کو دہرایا لیکن فلسطین کومملکت کی حیثیت سے یکطرفہ طور پر تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ عباس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ ’’امریکیوں نے خود کو محدود اور درکنار کرلیا ہے اور میں کوشش کررہا ہوں کہ ہم ایسا کوئی اقدام نہ کریں‘‘۔ 40 سالہ میکرون نے حالیہ ہفتوں کے دوران مشرق وسطیٰ کے قائدین سے ملاقاتوں میں اضافہ کردیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے کی انہوں نے 15 دن قبل پیرس میں میزبانی کی تھی اور آج یہاں محمود عباس کی آمد سے ایک دن قبل جمعرات کو اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کی تھی۔ میکرون نے کہا کہ 2018ء میں وہ فلسطینی علاقوں کا دورہ کریں گے۔ محمود عباس نے میکرون کی ثالثی مساعی کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں آپ پر بھروسہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT